17 ستمبر 2024 کو لبنان میں حزب اللہ کے زیرِ استعمال ہزاروں پیجرز اچانک دھماکوں سے پھٹ گئے۔ ان واقعات میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے جبکہ اگلے روز واکی ٹاکیز میں ہونے والے دھماکوں کے بعد متاثرین کی تعداد مزید بڑھ گئی۔
لبنان اور حزب اللہ نے ان حملوں کی ذمہ داری اسرائیل پر عائد کی۔ دوسری جانب متعدد سیکیورٹی ذرائع نے ان دھماکوں کو اسرائیلی خفیہ ادارے موساد سے منسلک کیا۔
ان واقعات سے متاثر ہونے والوں میں جنوبی لبنان کا 14 سالہ علی عباس بھی شامل تھا۔ گھر میں اس کے والد کا پیجر پھٹنے کے باعث علی شدید زخمی ہوگیا۔ حادثے میں اس کی دائیں آنکھ ضائع ہوگئی پپوٹے کو گہرا نقصان پہنچا جبکہ ہاتھ کی کچھ انگلیاں بھی متاثر ہوئیں۔
اس واقعے کو دو سال گزرنے کے دوران علی کئی سرجریوں سے گزر چکا ہے اور ڈاکٹروں کے مطابق بالغ ہونے تک اسے مزید علاج اور آپریشنز کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اس کے باوجود اس نے اپنی زندگی کو دوبارہ معمول پر لانے کی کوشش جاری رکھی۔
علی نے اسکول جانا شروع کردیا ہے اور فٹبال، والی بال سمیت اپنی پسند کی سرگرمیوں میں بھی واپس آچکا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ مشکل وقت میں خاندان کی حمایت نے اسے سنبھلنے میں اہم کردار ادا کیا۔
شدید جسمانی نقصان کے باوجود علی نے ہمت نہیں ہاری۔ اس کے لیے بحالی کا سفر ابھی مکمل نہیں ہوا، لیکن وہ اپنی روزمرہ زندگی دوبارہ بنانے کی کوشش میں مصروف ہے اور اس واقعے کو اپنی زندگی روک دینے کی وجہ نہیں بننے دینا چاہتا۔