اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے اتوار کو غیر اعلانیہ طور پر متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا، جہاں ایک اعلیٰ اسرائیلی عہدیدار کے مطابق ابوظبی میں ان کی ملاقات اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ہوئی۔ دونوں حکومتوں کی جانب سے فوری طور پر اس ملاقات کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نجی طیارے کے ذریعے ابوظبی پہنچے اور دن کا بیشتر حصہ وہاں گزارنے کے بعد اسی روز واپس اسرائیل روانہ ہوگئے۔ ملاقات کے ایجنڈے کے بارے میں سرکاری سطح پر کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا۔
یہ دورہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے بعد اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان سکیورٹی اور علاقائی معاملات پر رابطوں کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔ رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جنگ کے دوران اسرائیل کی جانب سے امارات کو عارضی طور پر آئرن ڈوم دفاعی نظام اور اسے چلانے والے اہلکار فراہم کیے گئے تھے۔
نیتن یاہو کا یہ سفر ایک اور معاملے کے باعث بھی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ اسرائیلی میڈیا میں دعویٰ سامنے آیا ہے کہ اماراتی صدر نے اکتوبر 2023 کے حماس حملے سے کچھ عرصہ قبل نیتن یاہو کو ایک بڑے حملے کی منصوبہ بندی کے بارے میں خبردار کیا تھا۔ نیتن یاہو اس دعوے کی تردید کر چکے ہیں، جبکہ امارات نے اس رپورٹ پر براہِ راست تبصرہ نہیں کیا۔
دونوں رہنماؤں کی ملاقات اس سے پہلے بھی خبروں میں آچکی ہے۔ مئی 2026 میں نیتن یاہو کے دفتر نے ایک خفیہ ملاقات کا دعویٰ کیا تھا، جس کی متحدہ عرب امارات نے تردید کی تھی۔ بعد میں ایک ذریعے نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں کی ملاقات مارچ میں العین میں ہوئی تھی۔