امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ان کی خوراک، نیند اور روزمرہ عادات بھی طویل عرصے سے لوگوں کی توجہ کا مرکز رہی ہیں۔ ان کے معمول میں ایسی کئی عادات شامل رہی ہیں جو عام طور پر صحت مند طرزِ زندگی کے حوالے سے تجویز نہیں کی جاتیں۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ فاسٹ فوڈ کے شوقین ہیں اور ان کی پسندیدہ غذاؤں میں برگر، فرائیڈ چکن، فرائز اور پیزا شامل رہے ہیں۔ ان کے نجی طیارے میں بھی مختلف معروف برانڈز کے فاسٹ فوڈ کے ساتھ ڈائٹ کولڈ ڈرنک موجود رہتی ہے۔ انہیں کئی مواقع پر دورانِ سفر برگر، فرائیڈ چکن اور فرائز کھاتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔
ڈائٹ کولڈ ڈرنک بھی ٹرمپ کے روزمرہ معمول کا نمایاں حصہ رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق وہ ماضی میں ایک دن کے دوران 12 کین تک ڈائٹ کولڈ ڈرنک پی لیا کرتے تھے۔ وائٹ ہاؤس میں ان کی میز پر ایک ایسا بٹن بھی موجود تھا جسے دبانے پر ان کے لیے ڈائٹ کولڈ ڈرنک منگوائی جاتی تھی۔
ورزش کے معاملے میں بھی ٹرمپ نے ماضی میں زیادہ دلچسپی ظاہر نہیں کی۔ ایک موقع پر انہوں نے بتایا تھا کہ وہ زیادہ سے زیادہ تقریباً ایک منٹ روزانہ ورزش کرتے ہیں۔ ان کے سابق معالج رونی جیکسن نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ ٹرمپ عام طور پر رات میں صرف چار سے پانچ گھنٹے سوتے ہیں۔
ٹرمپ خود بھی اپنی نیند کے معمول کے بارے میں بتا چکے ہیں کہ وہ عموماً رات ایک بجے سوتے اور صبح پانچ بجے اٹھ جاتے ہیں۔ بیدار ہونے کے بعد ان کا معمول اخبارات پڑھنے، ٹی وی دیکھنے اور کھانے سے شروع ہوتا ہے۔ وہ ماضی میں نیند کو ایک محدود وسیلہ قرار دیتے ہوئے یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ آرام کرنے کے بجائے اپنی توانائی کام میں صرف کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے پہلے اور دوسرے صدارتی دور کے درمیان وزن میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔ طبی رپورٹ کے مطابق ان کا وزن 244 پاؤنڈ سے کم ہو کر 224 پاؤنڈ رہ گیا تھا۔
یوں ٹرمپ کا روزمرہ معمول فاسٹ فوڈ، ڈائٹ کولڈ ڈرنک، محدود ورزش اور نسبتاً کم نیند کے امتزاج پر مشتمل دکھائی دیتا ہے جس کے بارے میں ان کے حوالے سے مختلف رپورٹس اور بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔