’’ہم پانچ ماہ تک اپنے والد کی واپسی کے لیے آواز اٹھاتے رہے، مگر کوئی مدد نہ مل سکی۔ ہم بھی انسان ہیں کیڑے مکوڑے نہیں، میرے تین بہن بھائی ہیں، اب ہم کیا کریں؟ کم از کم میرے والد کی میت جلد پاکستان واپس لانے کا انتظام کیا جائے۔‘‘
صومالی قزاقوں کے قبضے میں رہنے والے پاکستانی عملے کے اہل خانہ اپنے پیاروں کی ہلاکت کے بعد شدید غم اور بے بسی کا اظہار کر رہے ہیں۔ جاں بحق سیکنڈ آفیسر کاشف عمر کے بیٹے نے حکومت سے والد کی میت فوری وطن واپس لانے کی درخواست کی ہے۔
اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ کئی ماہ سے عملے کی بحفاظت واپسی کے منتظر تھے، مگر اب انہیں اپنے پیاروں کی میتوں اور زخمی افراد کی فکر لاحق ہے۔ متاثرہ خاندانوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت واپسی کے انتظامات تیز کرے اور زخمی پاکستانیوں کو مناسب طبی سہولت فراہم کی جائے۔
صومالیہ میں تقریباً ساڑھے پانچ ماہ تک قزاقوں کے قبضے میں رہنے والے جہاز ’آنر 25‘ کو چھڑانے کے لیے کیے گئے آپریشن کے دوران تین پاکستانیوں سمیت پانچ افراد جان سے گئے۔ پاکستانی متاثرین میں سیکنڈ آفیسر کاشف عمر، تھرڈ انجینئر محمود انصاری اور رفیع اللہ خان شامل ہیں، جبکہ چار افراد زخمی بھی ہوئے۔
جہاز کے عملے میں 10 پاکستانیوں کے علاوہ بھارت، میانمار اور انڈونیشیا کے شہری بھی شامل تھے۔ عملے کے رکن سید حسین یوسف کے مطابق قزاقوں نے نکلتے وقت جہاز کو نقصان پہنچایا، جس کے بعد متاثرہ جہاز کو صومالی فورسز کی مدد سے وساکو شہر منتقل کیا جا رہا ہے۔
عملے کی جانب سے یہ تشویش بھی سامنے آئی ہے کہ سفر کے دوران زخمیوں کے لیے مناسب طبی سہولیات دستیاب نہیں، اسی لیے اہل خانہ میتوں کی جلد وطن واپسی کے ساتھ زخمیوں کے فوری علاج کے لیے بھی حکومتی اقدامات کے منتظر ہیں۔