پاکستان فٹبال فیڈریشن کی قومی انڈر 17 فٹبال چیمپئن شپ 2026 کا باقاعدہ آغاز جمعرات کو جناح اسٹیڈیم اسلام آباد میں ہوگیا، جہاں رکن قومی اسمبلی انجم عقیل خان نے بطور مہمانِ خصوصی چیمپئن شپ کا باقاعدہ افتتاح کیا۔
افتتاحی تقریب میں تمام دس شریک ٹیموں نے مارچ پاسٹ میں حصہ لیا اور ملک بھر سے آنے والے نوجوان فٹبالرز نے جناح اسٹیڈیم میں ایک ساتھ مارچ کیا۔ یہ چیمپئن شپ پاکستان فٹبال فیڈریشن کی جانب سے یوتھ فٹبال کے ڈھانچے کو ازسرِنو منظم کرنے اور نوجوان کھلاڑیوں کے لیے قومی ٹیموں تک ایک واضح راستہ بنانے کی کوششوں میں ایک اہم قدم ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی انجم عقیل خان نے پاکستان کے نوجوانوں کی صلاحیت، توانائی اور محنت کا ذکر کیا اور ملک کے مستقبل میں ان کے کردار پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا۔
انہوں نے پاکستان فٹبال فیڈریشن کے صدر سید محسن گیلانی کی قیادت میں فیڈریشن کی سمت پر بھی اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پرامید ہیں کہ پی ایف ایف مزید ترقی کرے گی اور پاکستان کے نوجوان فٹبالرز کے لیے زیادہ مواقع پیدا کرے گی۔
افتتاحی تقریب کے بعد پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس سے پی ایف ایف کے چیف آپریٹنگ آفیسر شاہد نیاز کھوکھر، پی ایف ایف کے نائب صدر حافظ زکا اللہ، اسلام آباد فٹبال ایسوسی ایشن کے صدر اور لوکل آرگنائزنگ کمیٹی کے سربراہ شیخ احمد ریحان اور پی ایف ایف ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن وسیم راجا نے خطاب کیا۔
چیمپئن شپ کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے شاہد نیاز کھوکھر نے کہا کہ یہ مقابلہ ملک میں منظم یوتھ فٹبال کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
“ایک طویل عرصے سے ہمارے نوجوان فٹبالرز کے لیے قومی سطح پر مسلسل مقابلوں کا پلیٹ فارم موجود نہیں تھا۔ یہ چیمپئن شپ پاکستان میں یوتھ فٹبال کی بحالی اور ایسے نظام کی بنیاد رکھنے کے بارے میں ہے جو صرف ایک ٹورنامنٹ تک محدود نہ رہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ نوجوان کھلاڑی، چاہے وہ ملک کے کسی بھی حصے سے ہوں، باقاعدگی سے مقابلوں میں حصہ لیں، اپنی صلاحیتوں کو نکھاریں اور اپنی کارکردگی کی بنیاد پر سامنے آئیں۔”
انہوں نے کہا کہ فیڈریشن کا مقصد یوتھ مقابلوں کو ایک وسیع تر ترقیاتی نظام سے جوڑنا ہے تاکہ گراس روٹس فٹبال سے قومی ٹیموں تک نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ایک واضح راستہ تشکیل دیا جا سکے۔
کئی برسوں سے پاکستان کی یوتھ قومی ٹیموں کے لیے بین الاقوامی مقابلوں سے قبل زیادہ تر اوپن ٹرائلز اور مختصر سلیکشن کیمپس کے ذریعے کھلاڑیوں کا انتخاب کیا جاتا رہا ہے۔ اگرچہ ٹرائلز کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیت دکھانے کا موقع فراہم کرتے ہیں، تاہم ان میں ایک نوجوان فٹبالر کو خود کو ثابت کرنے کے لیے محدود وقت ملتا ہے۔
اسلام آباد فٹبال ایسوسی ایشن کے صدر شیخ احمد ریحان نے کہا کہ اب اس طریقہ کار سے آگے بڑھنے کا وقت آ گیا ہے۔
“کئی برسوں سے جب بھی پاکستان کو کسی بین الاقوامی مقابلے کے لیے ٹیم بھیجنی ہوتی تھی، ہم اوپن ٹرائلز کا اعلان کرتے تھے۔ ہزاروں لڑکے آتے تھے اور ہمارے پاس کھلاڑیوں کو پرکھنے کے لیے بہت محدود وقت ہوتا تھا۔ صرف یہی طریقہ ٹیلنٹ کی شناخت کے لیے کافی نہیں ہو سکتا۔ اب ہم ایک ایسے مقابلہ جاتی میرٹ سسٹم کی بنیاد رکھ رہے ہیں جہاں کھلاڑیوں کو وقت کے ساتھ اپنی کارکردگی دکھانے کا موقع ملے اور ان کی مسلسل کارکردگی ان کے آگے بڑھنے کی بنیاد بنے۔”
شیخ احمد ریحان نے کہا کہ صدر پی ایف ایف سید محسن گیلانی کی قیادت میں گزشتہ 15 ماہ کے دوران ہونے والی فٹبال سرگرمیوں نے اس تبدیلی کے لیے بنیاد فراہم کی ہے۔
“بات بہت سادہ ہے۔ اگر کوئی کھلاڑی مسلسل اچھی کارکردگی دکھاتا ہے تو اسے دیکھا جانا چاہیے۔ اگر وہ مضبوط مقابلے میں اعلیٰ معیار کی کارکردگی پیش کرتا ہے تو اسے اہمیت ملنی چاہیے۔ ہم ایسے نظام کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں جہاں میرٹ اور طویل مدتی کارکردگی اہم ہو، نہ کہ ایک ٹرائل یا ایک دن کسی کھلاڑی کے مستقبل کا فیصلہ کرے۔”
انڈر 17 چیمپئن شپ اس تبدیلی کا ایک اہم حصہ ہے، جہاں نوجوان کھلاڑیوں کو ملک بھر کی ٹیموں کے خلاف کھیلنے، دباؤ میں کارکردگی دکھانے اور متعدد میچز میں اپنی صلاحیت ثابت کرنے کا موقع مل رہا ہے۔
پی ایف ایف کے نائب صدر حافظ زکا اللہ نے کہا کہ میرٹ پر مبنی یہ نظام صرف کھلاڑیوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ ان کے ساتھ کام کرنے والے کوچز اور ٹیکنیکل اسٹاف کے لیے بھی مواقع پیدا کرنے چاہئیں۔
“یہ نظام صرف باصلاحیت کھلاڑیوں کی شناخت کے بارے میں نہیں ہے۔ اس کے ذریعے ہم ان کوچز اور ٹیکنیکل اسٹاف کو بھی سامنے لا سکیں گے جو گراس روٹس اور مقابلوں کی سطح پر بہترین کام کر رہے ہیں۔ اگر کوئی کوچ مسلسل اچھے نتائج دے رہا ہے اور کھلاڑیوں کو تیار کر رہا ہے تو ہمیں اس کی کارکردگی کو تسلیم کرنا چاہیے اور اسے میرٹ کی بنیاد پر قومی ٹیم کے سیٹ اپ میں آگے بڑھنے کا موقع دینا چاہیے۔”
اس نظام کا وسیع تر مقصد ایسا ماحول تشکیل دینا ہے جہاں ٹیلنٹ کی شناخت، کھلاڑیوں کی ترقی، کوچز کی تربیت، مقابلے، سیف گارڈنگ اور عمر کی درست شناخت ایک مربوط فٹبال پاتھ وے کا حصہ ہوں۔
یہ چیمپئن شپ پاکستان کی انڈر 17 قومی ٹیم کے انتخاب کے عمل کا بھی حصہ ہے، جبکہ ٹورنامنٹ میں کھلاڑیوں کی کارکردگی AFC انڈر 17 ایشین کپ کی تیاری کرنے والی قومی ٹیم کے لیے کھلاڑیوں کی شناخت اور انتخاب میں شامل ہوگی۔
قومی انڈر 17 چیمپئن شپ اس سمت میں ایک اہم قدم ہے جہاں کھلاڑیوں اور ٹیکنیکل اسٹاف کی ترقی کارکردگی، میرٹ اور مستقل مزاجی کی بنیاد پر ہو اور اگلے مرحلے تک پہنچنے کے مواقع ان کی صلاحیت اور کام کی بنیاد پر پیدا ہوں۔