پولیس کے پاس لباس پر درج برانڈ کے نام کے علاوہ متوفیہ کی شناخت کے لیے کوئی اور سراغ موجود نہیں تھا۔ چنانچہ انھوں نے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لینا شروع کر دیا۔پولیس کو شبہتھا کہ لاش کو وی ٹی پی ایس نہر کے پل سے پانی میں پھینکا گیا تھا۔ تحقیقات کے دوران مقتولہ کے ہاتھ پر بنا مور کے پر کا ٹیٹو ایک اہم سراغ ثابت ہوا اورپولیس مقتولہ اور ملزم کی شناخت تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔
کلیانی نے بچپن میں یتیم خانے میں پرورش پائی تھی نوٹ: اس خبر میں شامل تفصیلات بعض قارئین کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہیں
وہ 18 ستمبر کی شام کا وقت تھا جب انڈیا کےعلاقے ابراہیم پٹنم تھانے کی پولیس کو اطلاع ملی کہ وجئے واڑہ کے باہر وی ٹی پی ایس نہر میں ایک لاش ملی ہے۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر دیکھا تو اس لاش کا صرف دھڑ موجود تھا جس پر کپڑے موجود تھے تاہم ہاتھ پاؤں غائب تھے۔ اس کے بعد انھوں نےلاش کے دیگر حصوں کی تلاش شروع کر دی۔
پولیس کی تلاش 19 ستمبر کو ختم ہوئی جب انھیں نہر پر بنے جال کے قریب تلاشی لی اس دھڑ کا ایک بازو اور دو ٹانگیں ملیں تاہم مقتولہ کے بارے میں دیگر معلومات ابھی بھی دستیاب نہ تھیں۔
پولیس کے پاس لباس پر درج برانڈ کے نام کے علاوہ متوفیہ کی شناخت کے لیے کوئی اور سراغ موجود نہیں تھا۔ چنانچہ پولیس نے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لینا شروع کر دیا۔
پولیس کو شبہ تھا کہ لاش کو وی ٹی پی ایس نہر کے پل سے پانی میں پھینکا گیا تھا۔ اس امکان کو مدنظر رکھتے ہوئے پولیس نے علاقے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج بھی تفصیل سے کھنگالی۔
تحقیقات کے دوران متوفیہ کے ہاتھ پر بنا مور کے پر کا ٹیٹو ایک اہم سراغ ثابت ہوا۔ اسی ٹیٹو کی مدد سے پولیس مقتولہ اور ملزم کی شناخت تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔
اس قتل کی اطلاع ملنے پر پورے علاقے میں سنسنی پھیل گئی ہے۔
پولیس ملزم تک کیسے پہنچی

پولیس نے ان تمام اشیا کی تصاویر لیں جو مقتولہ خاتون خاتون کی شناخت میں مددگار ثابت ہو سکتی تھیں جن میں اس کی پازیب، بالیاں، ٹیٹو اور کپڑے شامل تھے۔
ان تصاویر کو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کیا گیا اور عوام سے خاتون کی شناخت کے بارے میں معلومات دینے کی اپیل کی گئی۔
پولیس نے لاش کی شناخت کے لیے متعدد کوششیں کیں۔ دوسری جانب تفتیش کاروں نے ان کپڑوں کی تیاری کرنے والی کمپنی کے بارے میں بھی معلومات حاصل کر کے چھان بین کی۔
پولیس کے مطابق سوشل میڈیا پر پوسٹ دیکھنے کے بعد بعض افراد نے منگلاگیری پولیس سٹیشن سے رابطہ کیا اور اطلاع دی کہ انھوں نے ٹیٹو والی اس نوجوان خاتون کو دیکھا تھا۔
اسی دوران مقتولہ کے بھائی نے بھی پولیس سے رابطہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ٹیٹو ان کی بہن کاری درگا عرف کلیانی کا ہے اور لاش پر موجود کپڑے بھی ان کی بہن کے تھے۔
واقعے کی جگہ سے ملنے والے مقتولہ کے کپڑےکلیانی کے بھائی نے پولیس کو بتایا کہ ان کی اپنی بہن سے ایک ہفتے سے بات نہیں ہوئی تھی۔ پولیس کی جانب سے ملنے والی اطلاعات کے بعد وہ اپنی بہن کے گھر گئے تو وہاں گھر پر تالا لگا ہوا تھا۔
ابراہیم پٹنم کی پولیس کے مطابق اردگرد کے لوگوں سے پوچھ گچھ کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ تین دن سے گھر نہیں آئی تھیں۔
پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کر لیا۔ مقتولہ کا نام اور دیگر معلومات حاصل کرنے کے بعد پولیس نے ان کے فون نمبر کی مدد سے تکنیکی تحقیقات شروع کیں۔ ان کا کال ریکارڈ چیک کرنے سے معلوم ہوا کہ انھوں نے آخری مرتبہ کس سے بات کی تھی اور وہ اکثر کن افراد سے رابطے میں رہتی تھیں۔
پولیس نےتفتیش کا دائرہ بڑھایا تو ان کے علم میں آیا کہ مقتولہ خاتون کاری درگا عرف کلیانی عرصہ دراز تک ایک مرد کے ساتھ رہتی تھیں جن کے بارے میں ابھی تک یہ تصدیق نہیں ہو سکی کہ وہ اور کلیانی شادی شدہ تھے یا لیو ان ریلیشن شپ کے تحت ساتھ رہ رہے تھے۔
ان دونوں کا ایک بیٹا بھی تھا تاہم ان بن کے بعد دونوں میں علیحدگی ہو گئی۔ اس تحقیقات سے پولیس کو اہم سراغ ملے۔ بعد ازاں پولیس کو شفیع نامی شخص پر شبہ ہوا اور اس سے تفصیلی پوچھ گچھ شروع کر دی گئی۔
بار بار پیسوں کے مطالبے پر قتل کرنے کا فیصلہ
تفتیش کے دوران سامنے آیا کہ کلیانی کی اپنے ساتھی سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد ان کے بچے کے والد کے ایک رشتہ دار شفیع نے اس بچے کو گود لے لیا۔ شفیع گوشت فروخت کرنے کا کاروبار کرتا تھا۔
پولیس کے مطابق شفیع کی پہلے ہی تین بیٹیاں تھیں، لیکن وہ ایک بیٹا چاہتا تھا، اسی لیے اس نے غیر رسمی طور پر اس بچے کو گود لے لیا۔
پولیس کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق، بچے کو گود لیے جانے کے بعد بھی کلیانی کا شفیع سے رابطہ برقرار رہا۔ شفیع نے بچے کو گود لیتے وقت کلیانی کو ایک لاکھ روپے دیے تھے۔
اے سی پی درگاراؤ کے مطابق ’اس کے بعد بھی جب کلیانی نے مزید رقم کا مطالبہ کیا تو شفیع نے اسے کچھ رقم اور کچھ سونا دیا۔‘
پولیس کا کہنا ہے کہ کلیانی کی جانب سے بار بار پیسوں کے مطالبے کے باعث شفیع نے اسے قتل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
پولیس کے مطابق ملزم شفیع کا خیال تھا کہ اگر قتل کے بعد لاش کے ٹکڑے کر کے انھیں مختلف جگہوں پر پھینک دیا جائے تو کلیانی کی شناخت نہیں ہو سکے گی۔
’دھمکی دی تھی کہ رقم نہ دی تو وہ بچہ واپس لے جائے گی‘
پولیس کے مطابق قتل سے ایک روز قبل شفیع نے اپنی بیوی اور بچوں کو دوسرے شہر رشتہ داروں کے گھر بھیج دیا۔ اس کے بعد اس نے کلیانی کو اپنے گھر بلایا۔ دونوں کافی دیر تک بات کرتے رہے، جس کے بعد شفیع نے چاقو سے حملہ کر کے اسے قتل کر دیا۔
بعد ازاں شفیع نے کلیانی کی لاش کے ٹکڑے کیے اور انھیں پلاسٹک کے تھیلوں میں بھر دیا۔ پھر دو مرحلوں میں وہ ان تھیلوں کو موٹرسائیکل پر لے جا کر وی ٹی پی ایس نہر میں پھینکتا رہا۔ اس دوران ان کا ایک ساتھی بھی ان کے ساتھ تھا۔پولیس کے مطابق وہ فی الحال مفرور ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ’ ملزم شفیع کا کہنا ہے کہ کلیانی بار بار رقم کا مطالبہ کر رہی تھی اس نے دھمکی دی تھی کہ اگر رقم نہ دی گئی تو وہ بچہ واپس لے جائے گی۔‘
اے سی پی درگاراؤ نے صحافیوں سے بات چیت میں بتایا کہ ’شفیع کو یہ بچہ بہت عزیز تھا۔ اسے لگا کہ اگر بچہ واپس نہ کرنا پڑے اور کلیانی کو راستے سے ہٹا دیا جائے تو یہ تنازع ختم ہو جائے گا۔ اسی سوچ کے تحت اس نے گوشت کاٹنے والے چاقو سے اسے قتل کر دیا۔‘
پولیس کے مطابق انھیں اس قتل کے پیچھے بظاہر کوئی اور محرک نظر نہیں آتا۔
ابراہیم پٹنم پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کو حراست میں لے لیا گیا ہےپولیس کے مطابق کلیانی کا وہ بیٹا، جسے شفیع نے گود لیا تھا، چار برس کا ہے۔ چونکہ گود لینے کا یہ عمل قانونی نہیں تھا، اس لیے قانونی مشاورت کے بعد بچے کو چائلڈ ویلفیئر ہوم منتقل کیا جائے گا۔
مقتولہ کلیانی کے پس منظر کے مطابق خود انھوں نے بچپن ہی میں اپنی والدہ کو کھو دیا تھا۔ اسی وجہ سےخود ان کی بھی یتیم خانے میں پرورش ہوئی تھی۔
پولیس کی طرف سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق مرنے والی خاتون درگا عرف کلیانی ایلورو ضلع کے گاؤں چنا تادیناڈ کی رہنے والی تھیں۔
ان کی ماں چھوٹی عمر میں ہی فوت ہوگئی تھیں اس لیے ان کے والد نے کلیانی اور اس کے بھائی کو ضلع کرشنا میں گناورم کے قریب ایک آشرم میں داخل کرا دیا۔
کلیانی اور اس کا بھائی تقریباً 18 سال کی عمر تک اسی آشرم میں رہے۔ اس کے بعد دونوں آشرم سے چلے گئے۔ کلیانی منگل گری میں رہتی تھیں۔ روزی کمانے کے لیے وہ مختلف ہوٹلوں میں کام کرتی تھی۔
بی بی سی ملزم کے رشتہ داروں اور کلیانی کے بھائی سے بات کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔