وہیل نے ایسیکس کو اتنی زور سے ٹکر ماری کہ جہاز پر موجودتمام افراد لڑکھڑا کر گر گئے۔ اس کے بعد وہیل تقریباً 900 فٹ (270 میٹر) دور تک تیرتی ہوئی گئی، پھر اچانک مڑی اور ایک بار پھر اپنی پوری رفتار سے واپس حملہ آور ہوئی۔ دوسری ٹکر نے جہاز کے پورے اگلے حصے کو تباہ کر دیا۔ کچھ ہی دیر بعد وہیل شکاری جہاز ایسیکس سمندر میں ڈوب گیا۔
وہ 20 نومبر 1820 کی صبح کا وقت تھا جب 15 سالہ تھامس نکرسن ایک ہولناک حادثے سے بال بال بچے تھے۔
ایک وہیل نے ان کی کشتی میں سوراخ کر دیا تھا اور اس میں تیزی سے پانی بھر رہا تھا۔
نکرسن اور اس کے ساتھی چپو چلاتے ہوئے جلدی سے وہیل کو شکار کرنے کے لیے مخصوص جہاز ایسیکس کی جانب لوٹے اور انھیں لگا کہ اب وہ خطرے سے باہر ہیں۔
لیکن جب نکرسن نے ایسیکس کی جانب دیکھا تو انھیں ایک اور بھی بڑی وہیل نظر آئی جو پوری رفتار سے سیدھی جہاز کی طرف بڑھ رہی تھی۔
انھوں نے فوراً جہاز کے فرسٹ میٹ اوون چیس کو خبردار کیا۔ عملے میں شور مچ گیا اور سب گھبرا گئے۔ اور اس دن کے حوالے سے نکرسن نے تقریباً 50 سال بعد اپنی یادداشتوں میں لکھا کہ ’پھر ایک زبردست تصادم‘ ہوا۔
وہیل نے ایسیکس کو اتنی زور سے ٹکر ماری کہ جہاز پر موجود تمام افراد لڑکھڑا کر گر گئے۔ اس کے بعد وہیل تقریباً 900 فٹ (270 میٹر) دور تک تیرتی ہوئی گئی، پھر اچانک مڑی اور ایک بار پھر اپنی پوری رفتار سے واپس حملہ آور ہوئی۔
دوسری ٹکر نے جہاز کے پورے اگلے حصے کو تباہ کر دیا۔ کچھ ہی دیر بعد وہیل شکاری جہاز ایسیکس سمندر میں ڈوب گیا۔
اگر یہ واقعہ پڑھ کر آپ کو کسی ناول کا حصہ یاد آ جائے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسیکس کے تباہ ہونے کی یہی داستان بعد میں ہرمن میلول کے مشہور ناول موبی ڈک کے لیے متاثر کن ثابت ہوئی۔
آج، موبی ڈک کی اشاعت کے 175 سال بعد، تحقیق نے واضح کیا ہے کہ سپرم وہیل اپنے سے کئی گنا بڑے جہاز کو نقصان پہنچانے یا تباہ کرنے کی صلاحیت کیسے رکھتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سوال کا جواب تقریباً 200 سال پہلے ہی ایسیکس کے فرسٹ میٹ اوون چیس نے اپنے ایک نظریے کی صورت میں پیش کر دیا تھا۔
اور ستم ظریفی یہ ہے کہ وہیل کی یہ غیرمعمولی طاقت غالباً اسی حصے میں پوشیدہ ہے جہاں وہ قیمتی تیل موجود ہوتا تھا جس کی خاطر وہیل شکاری اس کا شکار کرتے تھے، یعنی اس کے سر کے اندر۔
ایک پراسرار دماغی عضو
سپرم وہیل کا سر غیرمعمولی طور پر بڑا ہوتا ہے۔ درحقیقت اس کا سر اس کے جسم کی مجموعی لمبائی کا تقریباً ایک تہائی حصہ بنتا ہے۔
اس کا دماغ، جس کا وزن نو کلوگرام (20 پاؤنڈ) تک ہو سکتا ہے، زمین پر موجود کسی بھی جانور کے دماغ سے بڑا ہوتا ہے۔
اس کے ماتھے کے اندر چکنائی پر مشتمل ایک بڑا اور نرم عضو موجود ہوتا ہے جسے سپرماسیٹی عضو (spermaceti organ) کہا جاتا ہے اور یہ صرف سپرم وہیل میں پایا جاتا ہے۔
یہ عضو ایک تیل نما مادے سے بھرا ہوتا ہے جسے سپرماسیٹی کہا جاتا ہے۔ اس مادے کا یہ نام اس لیے پڑا کیونکہ ابتدائی دور کے وہیل شکاریوں کا خیال تھا کہ یہ منی (سیمن) سے مشابہ ایک مادہ ہے۔
وہیل کو شکارکرنے والے اس مادے کے حصول کے لیے بے حد کوشاں رہتے تھے کیونکہ اس سے حاصل ہونے والا تیل اعلیٰ معیار کا ایندھن فراہم کرتا تھا۔ اسے صابن، موم بتیوں اور دیگر مصنوعات بنانے میں بھی استعمال کیا جاتا تھا۔
18ویں اور 19ویں صدی کے دوران دنیا بھر میں تقریباً تین لاکھ سپرم وہیل شکار کی گئیں۔
سپرماسیٹی کے اتنے وسیع پیمانے پر استعمال کے باوجود سائنس دان آج بھی اس عضو کے اصل مقصد کو مکمل طور پر سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ سپرماسیٹی عضو لڑائی میں استعمال ہونے والے ہتھیار کے طور پر کام کرتا ہے۔
ارتقائی حیاتیات دان کے عہدے سے ریٹائرڈ ہونے والے ڈیو کیریئر کہتے ہیں کہ ’یہ خیال سب سے پہلے ہمیں نہیں بلکہ یہ اوون چیس کو آیا تھا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’18ویں صدی کے وہیل کے ایک شکاری نے یہ دلیل دی تھی کہ وہیل کی پیشانی ایک ہتھیار ہے، اور ہم نے اس نظریے کو جانچنے کا فیصلہ کیا۔‘
گذشتہ دو صدیوں کے دوران ماہرین نے بڑی حد تک چیس کے اس خیال کو نظرانداز کیا لیکن ڈیو کیریئر کے مطابق ’وہیل شکاری کی بصیرت اور تجربہ غالباً درست تھے۔‘
2002 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں ڈیو کیریئر نے یہ نظریہ پیش کیا کہ سپرم وہیل کی پیشانی میں موجود غیرمعمولی طور پر بڑا چربی دار حصہ، جسے میلون کہا جاتا ہے، وقت کے ساتھ اس طرح ارتقا پذیر ہوا کہ وہ ایک طاقتور دھکے کی طرح کام کر سکے۔ ان کے مطابق سپرم وہیل اس عضو کی مدد سے اپنے حریف کو زوردار اور ممکنہ طور پر جان لیوا ضرب پہنچا سکتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے دریائی گھوڑا اپنے سر سے حملہ کرتا ہے۔
ان کے مطابق ’وہیل ممالیہ جانور ہیں اور ان کا تعلق ہرنوں اور مینڈھوں جیسے جانوروں سے ہے، جن میں نر ایک دوسرے سے ٹکر مار کر مقابلہ کرتے ہیں۔ اس لیے ممکن ہے کہ یہ رویہ انھیں اپنے آباؤ اجداد سے ورثے میں ملا ہو۔‘
حال ہی میں یونیورسٹی آف ہوائی کے محقق ایلک برسلِم نے سپرم وہیلوں کو ایک دوسرے کو سر مار کر ٹکر دینے کا منظر کیمرے میں قید کیا۔
ان کے مطابق یہ ایک ’خوش قسمتی سے پیش آنے والا اتفاق‘ تھا۔ یہ رویہ بیلیئرک جزائر اور ازورس کے قریب دیکھا گیا۔
یہ بات عجیب لگ سکتی ہے کہ وہیل لڑائی کے لیے اپنے سر کا استعمال کرتی ہے۔ آخر کوئی جانور اپنے جسم کے اتنے اہم حصے کو حریف سے ٹکرانے کے خطرے میں کیوں ڈالے گا؟
تاہم 2015 کی ایک تحقیق کے مطابق سپرم وہیل کے سر کا یہ حصہ اتنا مضبوط اور محفوظ ہوتا ہے کہ وہ اسے مینڈھے کی طرح استعمال کر سکتی ہیں اور پھر بھی نقصان سے محفوظ رہتی ہیں۔
برسلِم نے کئی مواقع پر نوجوان سپرم وہیلز میں یہ رویہ دیکھا۔
سب سے طاقتور ٹکر ایک کم عمر نر وہیل نے ماری، جو 15 فٹ فی سیکنڈ (4.5 میٹر فی سیکنڈ) کی رفتار سے دوسری وہیل کی طرف بڑھا اور تقریباً 460 کلو نیوٹن کی قوت سے اس سے ٹکرایا۔
برسلِم کے اندازے کے مطابق اگر ایک بڑی بالغ سپرم وہیل اسی رفتار سے ٹکر مارے تو اس کی قوت تقریباً 1200 کلو نیوٹن ہو گی۔ یہ تقریباً اتنی طاقت ہو گی جتنی 40 میل فی گھنٹہ (65 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے چلتی بس کی ٹکر میں محسوس ہوتی ہے۔
کسی جہاز کے خلاف استعمال ہونے پر یہ غیرمعمولی طاقت ثابت ہو سکتی ہے۔
نینٹکٹ ہسٹوریکل ایسوسی ایشن کے چیف کیوریٹر مائیکل ہیریسن کہتے ہیں کہ ’تاریخ میں صرف تین شکاری جہازوں پر وہیلز نے حملہ کیا۔‘
یہ ادارہ تاریخی لاگ بکس اور دیگر اہم نوادرات کا ایک بڑا ذخیرہ رکھتا ہے۔
تاہم جب کسی وہیل کا شکار کیا جاتا تھا تو مرکزی جہاز سے اتاری جانے والی چھوٹی اور کھلی کشتیوں پر وہیل کے حملے نسبتاً عام تھے۔
ہیریسن کہتے ہیں کہ ’لاگ بکس اکثر ان واقعات کی ڈرامائی نوعیت کی پوری عکاسی نہیں کرتے۔‘
وہیل شکاری جہاز ایسیکس کی المناک حقیقی کہانی نے ہرمن میلول کے موبی ڈک کو متاثر کیا۔جن تین واقعات میں وہیلز نے شکار کے مرکزی جہاز پر حملہ کیا، ان سب میں حملہ آور سپرم وہیلز تھیں۔
1851 میں جنوبی بحرالکاہل میں ایک سپرم وہیل نے این الیگزینڈر پر حملہ کر کے اسے مکمل طور پر تباہ کر دیا۔
1902 میں بھی ایک سپرم وہیل نے کیتھلین نامی جہاز کو تباہ کر دیا، جو گالاپاگوس جزائر کے قریب سفر کر رہا تھا۔
تاہم ایسیکس کا انجام شاید سمندری تاریخ میں بقا کی سب سے مشہور آزمائش بن گیا۔ اس روز 20 افراد ڈوبتے ہوئے جہاز کو چھوڑ کر تین وہیل شکاری کشتیوں میں سوار ہو گئے۔
وہ خشکی سے 1300 میل دور تھے، اور اس کے بعد پیش آنے والے واقعات سمندری تاریخ کی ہولناک ترین بقا کی کہانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ یہی واقعہ بعد میں ہرمن میلول کے ناول موبی ڈک کے لیے بھی باعثِ تحریک بنا۔
محبت اور جنگ
برسلِم کہتے ہیں کہ یقیناً ہم یہ نہیں جانتے کہ قدرتی ماحول میں، جب ان کی نگرانی کے لیے کوئی ڈرون موجود نہ ہو، سپرم وہیلز اپنے سر کو مینڈھے کی طرح کتنی بار استعمال کرتی ہیں
وہ مزید کہتے ہیں کہ ہم اب تک یہ بھی پوری طرح نہیں سمجھ پائے کہ ان کے غیرمعمولی طور پر بڑے میلون کا اصل مقصد کیا ہے۔
سپرماسیٹی عضو کے کردار کے بارے میں دیگر نظریات بھی موجود ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس کے ایک سے زیادہ کام ہوں۔
سپرم وہیلز آواز پیدا کرنے کے لیے ناک کے اگلے حصے میں موجود صوتی لبوں کے ایک جوڑے کو استعمال کرتی ہیں، جنھیں ’منکی لپس‘ کہا جاتا ہے۔
اس سے پیدا ہونے والی آواز کا ایک حصہ آگے پانی کی طرف سفر کرتا ہے جبکہ دوسرا حصہ سر کے پچھلے حصے میں موجود سپرماسیٹی عضو کی عقبی دیوار سے ٹکراتا ہے۔
برسلِم کے مطابق جب مادہ وہیل ان دونوں آوازوں کے امتزاج کو سنتی ہے تو وہ اندازہ لگا سکتی ہے کہ نر وہیل کا سپرماسیٹی عضو کتنا بڑا ہے اور آیا وہ اتنا بڑا اور طاقتور ہے کہ اس کے ساتھ ملاپ کیا جائے یا نہیں۔
برسلِم کہتے ہیں کہ ’ہمیں اب بھی ان جانوروں کے بارے میں بہت کچھ جاننا ہے۔ ہمیں ان کے تحفظ کو ترجیح دینی چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم ابھی ان کے بارے میں سمجھنا شروع ہی ہوئے ہیں۔‘