’ریسکیو اہلکار ہار مان چکے تھے‘: 70 میٹر گہرے کنویں سے پانچ سالہ زین کو نکالنے کا خطرناک آپریشن اور 11 سالہ عمر کی دلیری

صرف 30 سینٹی میٹر (12 انچ) چوڑا ہونے کے باعث اس سوراخ میں کوئی بالغ شخص اس کے پیچھے نیچے نہیں جا سکتا تھا، اور زین اللہ اتنا چھوٹا اور خوفزدہ تھا کہ یہ سمجھ ہی نہیں پا رہا تھا کہ خود کو باہر نکالنے کے لیے نیچے پھینکی گئی رسی سے کیسے باندھے۔
how one five-year-old was rescued in Afghanistan
BBC

ایک چھوٹا سا لڑکا 70 میٹر (230 فٹ) گہرے اور نم کنویں کے ایک کونے میں سمٹا بیٹھا تھا۔

پانی اس کے پیروں سے ٹکرا رہا تھا اور اس کے سر پر ٹپک رہا تھا۔ وہ خوفزدہ تھا اور اسے سردی لگ رہی تھی۔

اوپر، مردوں کا ایک گروہ اس کی تصاویر ایک سکرین پر دیکھ رہا تھا جو ریسکیو اہلکاروں کی جانب سے نیچے اتارے گئے کیمرے کے ذریعے بھیجی جا رہی تھیں۔

پانچ سالہ زین اللہ چند روز قبل جنوبی افغان صوبے قندھار میں اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے ایک تنگ، خشک پڑ چکے کنویں میں گر گیا تھا۔

انتباہ: اس تحریر میں تکلیف دہ مواد شامل ہے۔

حیرت انگیز طور پر وہ اس گہرائی میں گرنے کے باوجود زندہ بچ گیا جو ایک فٹ بال گراؤنڈ کی چوڑائی جتنی تھی۔

لیکن صرف 30 سینٹی میٹر (12 انچ) چوڑا ہونے کے باعث اس سوراخ میں کوئی بالغ شخص اس کے پیچھے نیچے نہیں جا سکتا تھا، اور زین اللہ اتنا چھوٹا اور خوفزدہ تھا کہ یہ سمجھ ہی نہیں پا رہا تھا کہ خود کو باہر نکالنے کے لیے نیچے پھینکی گئی رسی سے کیسے باندھے۔

ریسکیو اہلکاروں کی ہر کوشش ناکام ہو چکی تھی۔

تین دیگر بچوں نے کنویں میں نیچے جانے کی کوشش کی، لیکن وہ اتنا تنگ تھا کہ سانس لینے میں دشواری کے بعد انھوں نے واپس اوپر نکالنے کی درخواست کی۔

تب ریسکیو ٹیم نے 11 سالہ حضرت عمر کو بلایا، جنھیں بظاہر اس سے پہلے بھی ایک کامیاب مشن کے دوران زیرِ زمین بھیجا گیا تھا۔

اپنے چچا کی رضامندی سے حضرت نے نیچے جانے پر آمادگی ظاہر کی، حالانکہ فکرمند بڑوں نے انھیں ایسا نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

وہ یاد کرتے ہیں: ’پہلی کوشش میں جب مجھے ہاتھوں کے گرد بندھی رسی کے ذریعے نیچے اتارا گیا تو میرا کندھا اور ران پھنس گئے۔‘

’میں نے چیخ کر کہا کہ مجھے چوٹ لگی ہے۔ انھوں نے مجھے واپس اوپر کھینچ لیا۔‘

پھر انھوں نے دوبارہ کوشش کی اور اس بار وہ نیچے تک پہنچ گئے۔

زمین پر، سینکڑوں بالغ افراد دم سادھے انتظار کر رہے تھے۔

بالآخر سوراخ کے گرد کھڑے مردوں نے رسی کھینچنا شروع کی، میٹر بہ میٹر، یہاں تک کہ دونوں لڑکے باہر آ گئے۔

افغانستان بھر میں پانی کی تلاش میں شدید کوششوں کے نتیجے میں لاکھوں نہیں بلکہ سینکڑوں ہزار گہرے، تنگ اور آسانی سے نظر نہ آنے والے کنویں کھودے گئے ہیں، جنھوں نے کسانوں کے کھیتوں کو جان لیوا جال میں بدل دیا ہے۔

جس کنویں میں زین اللہ گرا تھا وہ دو سال پہلے خشک ہو چکا تھا۔

اسے کھودنے والے مقامی کسانوں نے اس کا منہ لکڑی اور مٹی سے ڈھانپ دیا تھا، مگر وقت کے ساتھ لکڑی گل گئی اور مٹی ڈھیلی ہو گئی۔

ریسکیو اہلکاروں کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں میں زین اللہ جیسے سینکڑوں افغان ایسے کنوؤں میں گر چکے ہیں جنھیں پانی ختم ہونے کے بعد مناسب طریقے سے بند نہیں کیا گیا تھا۔

بی بی سی نے 2021 سے اب تک ایسے 100 سے زائد واقعات کی تصدیق کی ہے، جن میں زیادہ تر ملک کے جنوبی حصے میں پیش آئے۔

ان میں سے زیادہ تر متاثرین کی عمر 10 برس سے کم تھی اور تقریباً نصف کی موت ہو گئی۔

خشک کنوؤں میں لوگوں کا گر جانا جنوبی ایشیا میں غیر معمولی بات نہیں ہے۔

2009 سے 2023 کے درمیان انڈیا میں 40 سے زائد بچوں کے کنوؤں میں گرنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

لیکن جرمنی میں مقیم افغانستان کے معروف آبی ماہرین میں سے ایک، نجیب اللہ صدیق کے مطابق افغانستان میں کئی عوامل کے امتزاج نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

2021 میں 20 برس بعد امریکی افواج کے انخلا کے ساتھ ہی تعمیرات، تجارت اور غیر ملکی امداد پر قائم کمزور معیشت منہدم ہو گئی۔

طالبان کی واپسی کے بعد خواتین پر سخت پابندیوں اور بین الاقوامی امداد میں شدید کمی کے باعث مزید روزگار ختم ہو گئے۔

جوں جوں مواقع کم ہوتے گئے، لوگ دوبارہ کھیتی باڑی کی طرف لوٹے کیونکہ اب یہ علاقے جنگی زون نہیں رہے تھے۔

اصل مسئلہ پانی کی کمی تھی، جس کی وجہ موسمیاتی تبدیلی اور طویل خشک سالی تھی، اور اس کے باعث کسانوں کا انحصار زیرِ زمین گہرائی میں موجود پانی پر بڑھتا گیا۔

اس کے ساتھ سستے چینی سولر پینلز کی فراوانی بھی شامل ہو گئی۔ صدیق کے مطابق اس سے کسان ’سارا دن پانی پمپ کر سکتے تھے‘ اور نتیجہ یہ نکلا کہ زمین میں خطرناک کنوؤں کی تعداد بڑھتی چلی گئی۔

صدیق کے مطابق 2020 کے بعد کنوؤں کی تعداد میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے اور سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب ان کی تعداد پانچ لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔

ان میں سے زیادہ تر دریائے ہلمند کے طاس میں واقع ہیں، خاص طور پر ہلمند، قندھار، فراہ اور غزنی کے صوبوں میں۔

how one five-year-old was rescued in Afghanistan
BBC
پانچ سالہ زین اللہ چند روز قبل جنوبی افغان صوبے قندھار میں اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے ایک تنگ، خشک پڑ چکے کنویں میں گر گیا تھا۔

تاہم جب کوئی شخص ان کنوؤں میں گرتا ہے تو امدادی کارروائی کرنے کی صلاحیت انتہائی محدود ہے اور اس وقت صرف تقریباً پانچ تربیت یافتہ افراد رضاکارانہ بنیادوں پر ایسی کارروائیوں میں شامل ہیں۔

اسی وجہ سے جنوبی صوبہ ہلمند سے تعلق رکھنے والے 28 سالہ موبائل فون فروش میراجان عبداللہ نے خود اس مسئلے سے نمٹنے کا فیصلہ کیا۔

اپریل 2021 میں پہلی بار انھوں نے اپنے گاؤں، ضلع سنگین، میں ایک پانچ سالہ بچے کے ایک خشک کنویں میں گرنے کے بارے میں سنا۔

how one five-year-old was rescued in Afghanistan
BBC

میراجان یاد کرتے ہیں: ’بچہ بہت رو رہا تھا۔‘

’وہ کہہ رہا تھا، مجھے سردی لگ رہی ہے۔ مجھے بھوک لگی ہے۔ مجھے پیاس لگی ہے۔ اندھیرا ہے۔ مجھے باہر نکالو۔‘

گاؤں والوں کو اسے نکالنے کا طریقہ سمجھنے میں 48 گھنٹے لگ گئے۔

لیکن بچہ کچھ ہی دیر بعد ہسپتال میں دم توڑ گیا۔

how one five-year-old was rescued in Afghanistan
BBC
میراجان عبداللہ کنویں میں جاری ریسکیو آپریشن کی رہنمائی کے لیے اپنا تیار کردہ مانیٹر نصب کرتے ہیں

میراجان نے ابتدا میں اسے ایک منفرد سانحہ سمجھا، لیکن ایک سال بعد جب ایک اور بچے، حیدر، کے کنویں میں گرنے کا پتا چلا تو انھیں احساس ہوا کہ گہرے کنوؤں سے بچوں کو نکالنے کا کوئی طریقہ ہونا چاہیے۔

انھوں نے ایک ایسا آلہ تیار کیا جو کیمرے کو کمپیوٹر سے جوڑتا تھا، تاکہ سطح پر موجود لوگ پھنسے ہوئے فرد کو دیکھ سکیں۔

اس کے بعد وہ درست جگہ پر رسی اتار سکتے تھے، جسے متاثرہ شخص خود سے باندھ کر محفوظ طریقے سے باہر آ سکتا تھا۔

آزمائش کے لیے انھوں نے اپنے ہی پانچ سالہ بیٹے کو 25 میٹر (82 فٹ) گہرے کنویں میں اتارا۔

یہ طریقہ کامیاب رہا۔

اس کے بعد چار برسوں میں وہ 113 امدادی کارروائیوں میں حصہ لے چکے ہیں اور تقریباً 70 افراد کی جان بچا چکے ہیں۔

ایسی ہی ایک کارروائی ہلمند میں ہوئی، جہاں میراجان نے اپنے آلے کی مدد سے پانچ سالہ نور آغا تک رسائی حاصل کی، جو چار گھنٹے سے 140 میٹر زیرِ زمین پھنسے ہوئے تھے۔

how one five-year-old was rescued in Afghanistan
BBC
حضرت عمر کو سر کی حفاظت کے لیے ایک ٹوپی دی گئی

بدقسمتی سے سب کو نہیں بچایا جا سکا۔

میراجان کے مطابق بعض افراد کنوؤں میں موجود پانی میں ڈوب گئے۔

افغانستان کے کنویں نہ صرف فوری جسمانی خطرات پیدا کرتے ہیں بلکہ پائیداری کے حوالے سے بھی تشویش کا باعث ہیں۔

خشک سالی کے باعث وقت کے ساتھ یہ کنویں مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ پہلے یہ تقریباً 80 میٹر (260 فٹ) گہرے ہوتے تھے، لیکن اب اطلاعات کے مطابق بعض 200 میٹر (660 فٹ) تک جا پہنچے ہیں۔

افغانستان کی زراعت زیرِ زمین پانی پر منحصر ہے اور انتہائی گہری تہوں سے پانی نکالا جا رہا ہے، حالانکہ یہ محدود وسیلہ ہے۔

صدیق کے مطابق خطرہ یہ ہے کہ ’کچھ علاقے مکمل طور پر خالی ہو جائیں گے، لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوں گے اور یہ خطے بنجر میدانوں اور صحراؤں میں بدل جائیں گے۔‘

میراجان کہتے ہیں کہ زیرِ زمین پانی کی سطح میں کمی کے اثرات ابھی سے دیکھے جا سکتے ہیں، اور ’صرف چند میٹر کے فاصلے پر دو سے تین کنویں‘ دیکھنا غیر معمولی بات نہیں۔

how one five-year-old was rescued in Afghanistan
BBC

ان تمام مشکلات کے باوجود کسانوں کی آمدن انتہائی کم ہے۔

صدیق وضاحت کرتے ہیں: ’عام طور پر ایک کلو ٹماٹر پیدا کرنے کے لیے 100 سے 300 لیٹر پانی استعمال ہوتا ہے۔ لیکن فصل کی کٹائی کے وقت یہی ایک کلو ٹماٹر مارکیٹ میں صرف پانچ یا 10 افغانی میں فروخت ہوتا ہے [0.08 تا 0.16 ڈالر؛ 0.06 تا 0.12 پاؤنڈ]۔‘

’بنیادی طور پر آپ 300 افغانی مالیت کا پانی استعمال کر کے 10 افغانی کی پیداوار حاصل کر رہے ہیں۔ یہ مکمل طور پر غیر پائیدار ہے۔‘

اور جب کنویں خشک ہو جاتے ہیں تو انھیں چھوڑ دیا جاتا ہے اور نئے کنویں کھود لیے جاتے ہیں، جس سے زمین پر چلنے والوں کے لیے خطرات کا سلسلہ برقرار رہتا ہے۔

شدید غربت کے شکار بہت سے افغان شہریوں کے لیے انھیں ڈھانپنا بہت مہنگا ہے، اور مقامی لوگ بی بی سی کو بتاتے ہیں کہ عوامی تحفظ ان کی اولین ترجیح نہیں۔

how one five-year-old was rescued in Afghanistan
BBC
میراجان عبداللہ

افغانستان میں ذاتی کنویں کھودنے کے خلاف کوئی قانون موجود نہیں ہے۔

جب بی بی سی نے طالبان حکام سے پوچھا کہ ان خطرات سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں تو انھوں نے کہا کہ وہ خصوصی ریسکیو آلات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ہنگامی ردعمل کی صلاحیت بہتر بنائی جا سکے۔

طالبان کی وزارتِ آب و توانائی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ سرکاری اجازت نامے کے بغیر زیرِ زمین پانی کے استعمال پر پابندی لگانے کا منصوبہ رکھتے ہیں، سوائے پینے کے پانی کے۔

تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ پابندی کب نافذ ہو گی۔

اس سے پہلے طالبان کی وزارتِ داخلہ کنوؤں کے مالکان کو متنبہ کر چکی ہے کہ وہ انھیں مناسب طور پر ڈھانپیں۔

وزارت نے کہا تھا کہ ایسا نہ کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

اس سب کے باوجود پانچ سالہ زین اللہ میوند میں ایک کنویں میں گر گیا۔

جب میراجان کو زین اللہ کو بچانے کے لیے بلایا گیا تو انھیں فوراً احساس ہو گیا کہ یہ ان کی زندگی کا سب سے پیچیدہ مشن ہے۔

ان کا کیمرے والا آلہ لڑکے تک نہیں پہنچ سکتا تھا، کیونکہ اسے صرف عمودی حالت میں سیدھا نیچے جانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، جبکہ زین اللہ سوراخ کے نچلے حصے میں موجود چار ضرب چار میٹر (13 فٹ × 13 فٹ) کے خالی خلا کے کنارے بیٹھا تھا۔

how one five-year-old was rescued in Afghanistan
BBC

زین اللہ کے والد کے مطابق گاؤں والوں نے شروع میں کانٹوں کی مدد سے اسے باہر نکالنے کی کوشش کی تھی۔

لیکن ’اس کے جسم کے کچھ حصے زخمی ہو چکے تھے‘، اس لیے وہ خوفزدہ ہو گیا اور کنویں کے ایک طرف سرک گیا۔

میراجان کا آلہ مطلوبہ زاویے پر نہیں جا سکتا تھا، کم از کم اس وقت تک نہیں جب تک کوئی انسانی ہاتھ اسے سمت نہ دیتا۔

اس لیے انھیں لڑکے کو بچانے کا کوئی اور طریقہ تلاش کرنا تھا۔

خطرات کے باوجود حضرت عمر کو نیچے جانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔

جب وہ نیچے پہنچے تو پہلی بار زین اللہ کو دیکھا۔

حضرت نے کامیابی سے زین اللہ کے ہاتھ دوسری رسی کے ساتھ باندھ دیے۔

اوپر جمع بالغ افراد نے رسیاں کھینچنا شروع کر دیں۔

لاؤڈ سپیکر پر ہجوم سے خاموش رہنے کی اپیل کی گئی۔

میراجان نے حضرت کو آواز دی: ’ہم تقریباً تمھیں اوپر لے آئے ہیں، ہماری طرف مت دیکھو، نیچے دیکھو۔‘

لوگ رسی کھینچنے والوں کو کہتے رہے: ’آہستہ آہستہ کھینچو‘، جبکہ ہجوم کو پیچھے ہٹنے کا کہا گیا تاکہ ریسکیو کے آخری لمحات فلم بند کیے جا سکیں۔

دو ایمبولینسیں بھی تیار کھڑی تھیں۔

جب ہجوم نے حضرت کو دیکھا تو ایک چیخ بلند ہوئی۔

’شاباش شیر، شاباش!‘ لوگ خوشی سے پکارے۔

پھر چھوٹے سے سوراخ میں سے حضرت نمودار ہوئے، رسی کے سرے سے لٹکتے ہوئے اور مٹی سے اٹے ہوئے۔

’اسے پیچھے لے جاؤ۔ شاباش میرے چیمپیئن!‘ میراجان نے آواز لگائی، جبکہ نوجوان ریسکیور کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔

چند منٹ بعد زین اللہ کو بھی باہر نکال لیا گیا اور جشن شروع ہو گیا۔

زین اللہ کو ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن اگلے روز انھیں فارغ کر دیا گیا۔

how one five-year-old was rescued in Afghanistan
BBC
دونوں لڑکے زین اللہ کے گھر اور اس کنویں کے قریب دوبارہ ملتے ہیں جس نے ان کی زندگی بدل دی۔

ان کے والد کا ماننا ہے کہ حضرت نے ان کے بیٹے کو موت کے منہ سے واپس لانے میں مدد دی۔

’اس احساس کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ آپ اس شخص کو یاد کرتے ہیں جسے کھو چکے ہوں اور اس کا غم مناتے ہیں، اور پھر اچانک وہ آپ کے سامنے زندہ کھڑا ہوتا ہے۔‘

انھیں خدشہ ہے کہ اگر حضرت نہ ہوتے تو گاؤں والے آخرکار کانٹوں کی مدد سے زین اللہ کو نکالنے کی کوشش کرتے، اور وہ شدید زخمی یا مردہ حالت میں ملتا۔

وہ چاہتے ہیں کہ کنوؤں کو محفوظ طریقے سے ڈھانپا جائے۔

جس کنویں میں ان کا بیٹا گرا تھا اسے اب ایک بڑی چٹان رکھ کر بند کر دیا گیا ہے۔

حضرت کے چچا عزیز اللہ اس کامیاب امدادی کارروائی پر بے حد خوش ہیں، لیکن وہ کہتے ہیں کہ اپنے بھتیجے کو کنویں میں اتارنے کے بارے میں وہ بہت پریشان تھے۔

وہ بی بی سی سے کہتے ہیں: ’مجھے ہچکچاہٹ تھی، لیکن پھر میں نے خدا پر بھروسہ کیا اور کہا کہ ہم میں سے ایک کو دوسرے کے لیے قربانی دینی چاہیے۔ میں نے اپنے بھتیجے کو خبردار کیا تھا کہ اگر وہ پھنس گیا تو یہ خطرناک ہو گا، لیکن وہ پھر بھی جانا چاہتا تھا۔‘

’اگر آپ اس کنویں کا منھ دیکھتے تو آپ کو یقین ہوتا کہ وہاں سے کسی کو نکالنا ناممکن ہے۔‘

how one five-year-old was rescued in Afghanistan
BBC

میراجان کے لیے زین اللہ کا ریسکیو ان واقعات کی طویل فہرست کا صرف ایک اور واقعہ ہے جو مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔

وہ اس مسئلے کی سنگینی سے بخوبی واقف ہیں۔

ان کے مطابق اکثر صورتحال اس وقت مزید خراب ہو جاتی ہے جب تربیت کے بغیر لوگ ان کے پہنچنے سے پہلے ریسکیو کی کوشش کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’ایک چھوٹی سی غلطی بھی پھنسے ہوئے شخص کی جان کو شدید خطرے میں ڈال سکتی ہے۔‘

میراجان کو غزنی کی ایک امدادی کارروائی یاد ہے جس میں ایک بچے کو بچانے کی کوشش کرتے ہوئے تین افراد ہلاک ہو گئے تھے، حالانکہ بعد میں بچے کو زندہ نکال لیا گیا تھا۔

وہ چاہتے ہیں کہ مزید لوگوں کو تربیت دی جائے تاکہ مستقبل میں حادثات کی جگہوں تک جلد پہنچا جا سکے۔

آٹھ ماہ بعد، 2 فروری کو، دونوں لڑکے زین اللہ کے گھر اور اس کنویں کے قریب دوبارہ ملتے ہیں جس نے ان کی زندگی بدل دی۔

یہ پہلا موقع ہے جب زین اللہ کے والدین حضرت کا ذاتی طور پر شکریہ ادا کرتے ہیں اور انھیں تحائف دیتے ہیں۔

حضرت اب مقامی ہیرو ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’گاؤں میں جب بھی بچے مجھے دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ میں نے بہت بہادر اور غیر معمولی کام کیا ہے۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US