اتوار کو لاہور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات اب ختم ہو گئے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ ننانوے فیصد نکات پر اتفاق ہو گیا تھا، لیکن عین وقت پر وزیرِِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے سب کچھ سبوتاژ کر دیا۔
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) اور حکومت کے درمیان مذاکرات ’بے نتیجہ‘ رہنے کے بعد وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں آج اتوار کو لانگ مارچ شروع ہو رہا ہے۔ دوسری جانب فریقین مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کا ذمے دار ایک دوسرے کو ٹھہرا رہے ہیں۔
خیال رہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جمعے کو مذاکرات کا پہلا دور ہوا تھا جبکہ دوسرا دور سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب تک جاری رہا تھا۔
اتوار کو علی الصبح تقریباً تین بجے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس نے صحافیوں کو بتایا کہ مذاکرات ’بے نتیجہ‘ رہے ہیں۔
بعدازاں مذاکرات میں شریک وزیر داخلہ محسن نقوی نے اتوار کو لاہورمیں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مذاکرات کی ناکامی کے ذمہدار وزیرِِ اعلی سہیل آفریدی ہیں اور اب مذاکرات ختم ہو گئے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ 99 فیصد نکات پر اتفاق ہو گیا تھا، لیکن خیبر پختونخوا حکومت نے سب کچھویٹو کر دیا۔ اب یہ لانگ مارچ کر رہے ہیں اور اگر ایک بھی لاش گری تو اس کے ذمے دار سہیل آفریدی ہوں گے۔
اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ سنیچر کی شب مذاکرات کے آخری مرحلے کے دوران صوبائی حکومت نے وفاق کے ساتھ معاہدے سے انحراف کیا ہے۔
دوسری جانب وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے سات مطالبات پیش کیے تھے جن میں سے کوئی بھی غیر آئینی نہیں ہے، اور اگر حکومت ان مطالبات پر عمل درآمد کی تحریری یقین دہانی کروا دے تو لانگ مارچ منسوخ کر دیں گے۔
مذاکرات میں حکومتی و اتحادی وفد کی جانب سے رانا ثنا اللہ، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، امیر مقام، طلال چوہدری، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، سینیٹر شیری رحمان، نوید قمر اور اعجاز حسین جاکھرانی شریک ہوئے۔ اپوزیشن کی نمائندگی بیرسٹر گوہر علی خان، علامہ راجا ناصر عباس، اسد قیصر، عامر ڈوگر، سلمان اکرم راجا اور حلیم عادل شیخ نے کی۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور جمعے کی سہ پہر سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ان کے چیمبر میں ہوا تھا، جہاں قومی اسمبلی کے ترجمان کے مطابق حکومت، پی پی ہی اور اپوزیشن کے وفود نے اپنے اپنے مؤقف ایک دوسرے کے سامنے رکھے اور ’مختلف سیاسی و قومی معاملات پر تحمل اور سنجیدگی کے ساتھ تفصیلی گفتگو‘ کی۔
دوسری جانب وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کی کال پر اتوار کو لانگ مارچ کا آغاز گنڈی چوک لکی مروت سے ہو رہا ہے، جہاں صوبے کے دیگر علاقوں سے قافلے پہنچ رہے ہیں۔
اب سے کچھ دیر قبل سہیل آفریدی کے فیس بک پیج پر بتایا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا گنڈی چوک، لکی مروت کے لیے روانہ ہو رہے ہیں جہاں سے وہ لانگ مارچ کی قیادت کریں گے۔
پی ٹی آئی نے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ اسلام آباد کی جانب مارچ کریں گے، تاہم حکومتی وزرا واضح کر چکے ہیں کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو کسی صورت اسلام آباد میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔

’ننانوے فیصد معاملات طے پا چکے تھے، سہیل آفریدی مذاکرات کی ناکامی کے ذمے دار ہیں‘
اتوار کو لاہورمیں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے حکومت اور پاکستان تحریکِ انصاف کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کا ذمے دار وزیرِ اعلی سہیل آفریدی کو ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ 99 فیصد معاملات طے پا چکے تھے، لیکن عین وقت پر خیبر پختونخوا حکومت نے سب کچھ ویٹو کر دیا۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ اب مذاکرات ختم ہو چکے ہیں، اب انھوں نے لانگ مارچ شروع کر دیا ہے۔ جو بھی جتھہ لانگ مارچ میں شامل ہو گا، ہم کسی بھی صورت میں نو مئی کو دہرانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات موجود ہیں، ان کی خلاف ورزی نہیں کرنے دیں گے۔
اُن کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کے دوران ایک بھی انسانی جان کا ضیاع ہوا تو اس کے ذمے دار سہیل آفریدی ہوں گے۔
محسن نقوی نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ سہیل آفریدی نے مذاکرات سبوتاژ کرنے کی کوشش کی، ڈرافٹ فائنل ہونے کے بعد سہیل آفریدی نے کہا کہ ’ہم نہیں مانتے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ دو معاہدے ہونے تھے۔ ایک اعلامیہ تھا جس پر اپوزیشن کی جماعتوں کے ساتھ فیصلہ ہو رہا تھا، جبکہ دوسرا معاہدہ دہشت گردی سے متعلق تھا، جس میں پولیس ایکٹ، دہشت گردی، افغانستان، قبائلی اضلاع، طالبان، نیشنل ایکشن پلان اور دیگر معاملات شامل تھے۔

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ہماری طرف سے لانگ مارچ ملتوی کرنے کی کوئی درخواست نہیں کی گئی تھی۔ ہم نے کہا تھا کہ لانگ مارچ ہمارا مسئلہ نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی یہ چاہتی تھی کہ لانگ مارچ ملتوی ہو تاکہ درجہ حرارت نیچے آئے، جو ایک اچھی بات تھی۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ مسلسل 12 گھنٹے مذاکرات کا عمل جاری رہا۔ نوید قمر، شیری رحمان اور رانا ثنا اللہ سمیت دیگر رہنماؤں کے ساتھ چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی بات پر بات ہوتی رہی۔
اُن کا کہنا تھا کہ اگر ہمیں پہلے سے معلوم ہوتا کہ اس کمیٹی میں کوئی ایسا فرد موجود نہیں جو خیبر پختونخوا حکومت کی نمائندگی کرتا ہو اور صوبائی حکومت بعد میں اس معاہدے کو ویٹو کر دے گی تو ہم مذاکرات میں آگے نہ بڑھتے۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ سیاسی معاملات میں ہم 99 فیصد متفق ہو گئے تھے۔ دہشت گردی کے معاملے پر ہم نے کہا تھا کہ وفاق اور صوبہ اکٹھے کھڑے ہوں۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ وزیرِاعلیٰ فوج کے خلاف بیانات دیں۔
اُن کے بقول ہم نے کہا تھا کہ آپ اس معاملے میں ہمارے ساتھ آن بورڈ ہو جائیں، سیاسی معاملات میں ہم آپ کے ساتھ بات کریں گے۔
’یقین دہانیوں پر عمل ہوا تو لانگ مارچ منسوخ کریں گے‘
اس سے قبل وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا تھا کہ وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے پی ٹی آئی کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات میں سے کوئی بھی ’غیر آئینی یا غیر قانونی‘ نہیں۔
انھوں نےالزام لگایا کہ ’ہمیں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جا رہا ہے اور ریاست ہمارے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے۔‘
سہیل آفریدی نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ’یہ پی ٹی آئی کے مطالبات تھے، ہیں اور رہیں گے۔‘
انھوں نے ملک میں سیاسی استحکام، آئین و قانون کی بالادستی، جمہوری عمل کے تسلسل اور امن و امان کے قیام کے لیے وفاقی حکومت کے سامنے سات مطالبات بھی پیش کیے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے وفاقی حکمت کے سامنے پیش کیے جانے والے سات مطالبات:
- وزیراعظم اور اپوزیشن رہنماؤں کی ملاقات: وزیرِ اعظم اور دونوں ایوانوں میں قائدینِ حزبِ اختلاف کے درمیان باقاعدہ ملاقاتیں ہوں، جن میں اہم سیاسی، قومی، آئینی اور قانونی معاملات پر بات ہو اور دو ماہ میں مؤثر پیش رفت یقینی بنائی جائے۔
- مشترکہ سیاسی مذاکراتی کمیٹی: حکومت، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے جو سیاسی معاملات اور اختلافات پر مسلسل مذاکرات کرے اور ایک ماہ میں قابلِ عمل حل کے لیے سفارشات پیش کرے۔
- عمران خان اور بشریٰ بی بی کے حقوق: جیل قوانین اور آئین کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تمام قانونی، انسانی اور طبی حقوق دیے جائیں اور جہاں قانون اجازت دے وہاں ان کے ذاتی یا نامزد ڈاکٹروں کی رائے کو بھی مدِنظر رکھا جائے۔
- اہلِ خانہ اور وکلا سے ملاقاتیں: عمران خان اور بشریٰ بی بی کو جیل قوانین کے مطابق اپنے اہلِ خانہ، نامزد وکلا اور مجاز رفقا سے ملاقات کی اجازت دی جائے، تاہم ان ملاقاتوں کو قانوناً ممنوع سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔
- قیدیوں کی قانونی درخواستوں پر کارروائی: عمران خان، بشریٰ بی بی، خواتین، بزرگ اور بیمار قیدیوں کی سزاؤں کے خلاف درخواستوں سمیت دیگر قانونی درخواستوں پر قانون کے مطابق دس دن میں کارروائی شروع یا مکمل کی جائے، جبکہ سیاسی قیدی خواتین کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جلد رہا کیا جائے۔
- خیبر پختونخوا میں دہشت گردی اور امن و امان: وفاقی اور صوبائی حکومتیں دہشت گردی کے خاتمے اور مستقل امن کے لیے مسلسل مشاورت کریں اور 72 گھنٹوں میں اجلاس کرکے ایک واضح اور قابلِ عمل حکمتِ عملی مرتب کریں۔
- یقین دہانیوں پر عمل اور لانگ مارچ: وفاقی حکومت کی جانب سے مطالبات اور طے شدہ اقدامات پر عمل درآمد کی تحریری یقین دہانی کے بعد پی ٹی آئی موجودہ لانگ مارچ منسوخ کرے گی، تاہم خلاف ورزی کی صورت میں پارٹی اپنے پُرامن اور قانونی احتجاج کا حق محفوظ رکھے گی۔
مذاکرات میں شریک رہنماؤں نے کیا کہا؟
مذاکرات کے پہلے دور کےبعد پی پی پی کی رہنما شیری رحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’پی ٹی آئی کو لانگ مارچ ملتوی یا منسوخ نہیں بلکہ ختم کرنا ہوگا کیونکہ اس طرح کے اقدامات سے تشدد بڑھتا ہے، کم نہیں ہوتا۔‘
شیری رحمان نے کہا کہ ’فرد واحد کےلیے ہم کبھی بھی لانگ مارچ نہیں کرتے، پی ٹی آئی کے مطالبات پر ابھی کوئی بات نہیں کر سکتی۔‘
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’ہم نے ایک دوسرے کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچانی، ابھی جو بات ہو رہی ہے اس کو وقت دینا ہو گا، ہماری کوشش ہو گی کل مذاکرات مکمل ہو جائیں اور کسی نتیجے پر پہنچیں۔‘
شیری رحمان نے کہا ’خیبرپختونخوا میں امن وامان کی تشویشناک صورتحال ہے، شدت پسندوں اور دیگر کے حملوں میں ہمارے لوگ مارے جا رہے ہیں، ہمارے فوجی شہید ہو رہے ہیں، پولیس والے شہید ہو رہے ہیں۔‘
دوسری جانب مذاکرات کے بعد پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے میڈیا کو بتایا کہ ’یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے اسے ٹک ٹاک کا موضوع نہ بنایا جائے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’عمران خان کی صحت، رہائی اور ان تک رسائی قومی مسئلہ ہے۔ میں یہ درخواست کروں گا کہ ٹک ٹاک کے لیے اس معاملے کی اہمیت کو کم نہ کریں۔‘
تاہم پی ٹی آئی کے دیگر رہنما کہتے ہیں کہ معاملات کو آگے بڑھانے کے لیے اڈیالہ جیل میں قید عمران خان سے ملاقات اور مشاورت ضروری ہے۔
پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا کہتے ہیں کہ ’ہم انصاف کی بات کریں گے، انصاف مکمل ختم ہو چکا ہے، ہمیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور مشاورت چاہیے، اگر یہ ملاقات ہوتی ہے تو معاملہ آگے بڑھے گا، ورنہ ایسے ہی رہے گا۔‘