33 سالہ فہیم اکرم پر جعلی ڈاک ٹکٹوں اور شپنگ لیبلز کا نیٹ ورک چلانے کا الزام ہے، جس کے ذریعے مبینہ طور پر 50 لاکھ سے زائد جعلی ڈاک لیبل فروخت کیے گئے اور حکام کے مطابق اس سے امریکی پوسٹل سروس کو 126 ملین ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچا۔
’اُسے خود سے پکڑنے کی کوشش ہرگز نہ کریں۔ اگر آپ کے پاس ایسی معلومات موجود ہیں کہ وہ کہاں ہے تو امریکی حکام سے رابطہ کریں۔ امریکی پوسٹل انسپیکشن سروس نے اس کی گرفتاری اور سزا تک پہنچانے والی معلومات فراہم کرنے پر ایک لاکھ ڈالر تک انعام کا اعلان کیا ہے۔‘
امریکہ نے پاکستان کے شہر خانیوال سے تعلق رکھنے والے فہیم اکرم نامی شخص کی گرفتاری میں مدد دینے پر انعام کا اعلان کیا ہے۔ 33 سالہ فہیم اکرم پر جعلی ڈاک ٹکٹوں اور شپنگ لیبلز کا نیٹ ورک چلانے کا الزام ہے، جس کے ذریعے مبینہ طور پر 50 لاکھ سے زائد جعلی ڈاک لیبل فروخت کیے گئے اور حکام کے مطابق اس سے امریکی پوسٹل سروس کو 126 ملین ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچا۔
امریکی اٹارنی جیسن اے ریڈنگ کوئینونیز کے آفیشل ’ایکس‘ ہینڈل سے کہا گیا ہے کہ امریکی حکام نے فہیم اکرم کی ویب سائٹ بند کر دی ہے اور اب اسے تلاش کرنے میں حکام کو لوگوں کی مدد درکار ہے۔
اس پیغام میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اگر آپ کو اس کے بارے میں کوئی معلومات ہیں یا آپ جانتے ہیں کہ وہ کہاں موجود ہے تو 1-877-876-2455 پر پوسٹل انسپکٹرز سے رابطہ کریں۔‘
ان معلومات کے ساتھ فہیم اکرم کی تصویر بھی جاری کی گئی ہے۔
اس سے قبل 28 ستمبر کو امریکی ریاست فلوریڈا کی جیوری نے فہیم اکرم پر امریکی پوسٹل سروس کو 126 ملین ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچانے کے الزام میں فردِ جرم عائد کی تھی۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق ملزم مبینہ طور پر ’لیبلز بینک ڈاٹ کام‘ نامی ویب سائٹ چلاتے تھے، جس کے ذریعے جعلی امریکی ڈاک لیبل فروخت کیے جاتے تھے۔
اس کیس سے متعلق استغاثہ کا کہنا ہے کہ ویب سائٹ نے 50 لاکھ سے زائد جعلی ڈاک لیبل فروخت کیے، جن کی مدد سے صارفین پیکجز کے وزن، حجم یا منزل سے قطع نظر انتہائی کم قیمت پر پارسل بھیج سکتے تھے۔
حکام کے مطابق یہ ویب سائٹ امریکی پوسٹل سروس کی مجاز فروخت کنندہ نہیں تھی، اور مبینہ طور پر ہر لیبل تقریباً دو ڈالر میں فروخت کیا جاتا تھا۔
اس طریقہ کار کے باعث صارفین اصل ڈاک اخراجات سے بچ جاتے تھے، جس سے امریکی پوسٹل سروس کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
امریکی اٹارنی جیسن اے ریڈنگ کوئینونیز نے کہا تھا کہ یہ بظاہر سادہ لیکن بڑے پیمانے پر جاری رہنے والی دھوکہ دہی تھی، جس میں انتہائی کم قیمت پر جعلی ڈاک لیبل فروخت کر کے صارفین کو قانونی ڈاک فیس سے بچنے کا موقع فراہم کیا گیا۔
ان کے مطابق فردِ جرم میں 51 لاکھ سے زائد جعلی لیبلز اور 126 ملین ڈالر سے زیادہ کے نقصانات کا ذکر کیا گیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق تاحال یہ واضح نہیں ہے ملزم اس وقت کہاں ہیں۔
فردِ جرم عائد کرنے کی کارروائی کے دوران امریکی پوسٹل انسپیکشن سروسکے میامی ڈویژن کے انچارج بلادیسمیر روخو نے کہا تھا کہ سرحد پار جرائم میں ملوث عناصر جہاں بھی ہوں، امریکی حکام ان کا سراغ لگا کر انھیں قانون کے کٹہرے میں لائیں گے۔
اس کیس میں ہونے والی تحقیقات کے مطابق 5,200 سے زائد افراد نے ’لیبلز بینک ڈاٹ کام‘ سے 51 لاکھ سے زیادہ جعلی شپنگ لیبل خریدے۔فردِ جرم کے ساتھ عدالت نے ویب سائٹ کو ضبط اور بند کرنے کا حکم بھی جاری کیا تھا، جس کے بعد متعلقہ حکام نے اس ویب سائٹ کی ڈومین کو تحویل میں لے لیا تھا۔
ملزم پر امریکہ کے خلاف دھوکہ دہی کی سازش، جعلی ڈاک لیبل بنانے اور فروخت کرنے کے پانچ الزامات، جبکہ الیکٹرانک ذرائع سے فراڈ (وائر فراڈ) کے چار الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ جرم ثابت ہونے کی صورت میں انھیں سازش اور جعلی ڈاک سے متعلق الزامات پر پانچ سال تک قید، جبکہ ہر وائر فراڈ الزام پر 20 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
یہ مقدمہ امریکی پوسٹل انسپیکشن سروس کے میامی ڈویژن کی تحقیقات کے نتیجے میں سامنے آیا تھا جبکہ وفاقی پراسیکیوٹرز اس کی پیروی کر رہے ہیں۔
نوٹ: امریکی قانون کے تحت فردِ جرم محض الزام ہوتی ہے۔ کسی بھی ملزم کو عدالت میں جرم ثابت ہونے تک بے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔