دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز سے متعلق تحقیقات میں ایک سنگین دعویٰ سامنے آیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق زیرِ حراست عمانی شریک پائلٹ حَمّام الحمّامی نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ اس کا مقصد غزہ میں جاری صورتحال کا بدلہ لینا تھا۔
اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شریک پائلٹ نے پہلے کپتان کو قابو کرنے یا بے ہوش کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اس کے بعد وہ پرواز کو معمول کے مطابق تل ابیب کی جانب لے جانا چاہتا تھا تاکہ لینڈنگ کی ضروری اجازت حاصل ہو جائے، تاہم آخری مرحلے میں اس کا مبینہ ارادہ طیارے کو ایئرپورٹ کی کسی تنصیب یا وہاں موجود دوسرے طیارے سے ٹکرانے کا تھا۔
رپورٹ کے مطابق اس نے اردن کی فضائی حدود تک پہنچنے کا انتظار کیا اور پھر کاک پٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اس دوران بھارتی کپتان اور عملے کے بعض افراد زخمی ہوئے، لیکن کپتان کاک پٹ کا دروازہ کھولنے میں کامیاب ہوگیا۔
صورتحال بگڑنے پر چند مسافروں نے شریک پائلٹ کو قابو کیا، جبکہ ایک مسافر نے طیارے کو مستحکم رکھنے میں مدد دی۔ بعد میں پرواز میں موجود دو آف ڈیوٹی پائلٹس نے کنٹرول سنبھال لیا۔ طیارے میں عملے سمیت 170 سے زیادہ افراد موجود تھے۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ فلائی دبئی کے دوسرے عملے کے اس مبینہ منصوبے میں شامل ہونے کے شواہد نہیں ملے۔ رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ عمانی حکام نے گزشتہ برس حَمّام الحمّامی کو قومی فضائی کمپنی میں پرواز کرنے سے روک دیا تھا۔ اب تفتیش میں اس کے ماضی، شام میں قیام اور مبینہ انتہا پسندانہ نظریات سے متعلق پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔