امریکی ریاست ٹینیسی میں قتل کے جرم میں سزائے موت پانے والی 50 سالہ کرسٹا پائیک جان لیوا انجیکشن دیے جانے کے باوجود زندہ بچ گئی۔ تقریباً ایک ہفتے تک تشویشناک حالت میں رہنے کے بعد خاتون اب ہوش میں آچکی ہے اور بات چیت بھی کررہی ہے، تاہم اس کی جسمانی حالت اب بھی سنگین بتائی جارہی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کرسٹا پائیک کو 30 ستمبر کو نیش ول کی ریور بینڈ جیل میں مہلک انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دینے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس دوران طبی عملے کو اس کی رگوں میں انجیکشن لگانے میں مشکلات پیش آئیں اور دوا خون میں شامل ہونے کے بجائے بازوؤں کے اندرونی ٹشوز میں پھیل گئی جس سے شدید سوجن اور زخم پیدا ہوگئے۔ تقریباً ڈھائی گھنٹے تک جاری رہنے والی کارروائی کے باوجود سزا پر عمل درآمد مکمل نہ ہوسکا اور خاتون کو اسپتال منتقل کرنا پڑا۔
وکلا کے مطابق کرسٹا پائیک کئی روز تک بے ہوش رہی اور اسے سانس لینے کے لیے وینٹی لیٹر کی ضرورت پڑی۔ اب اگرچہ وہ گفتگو کرنے کے قابل ہے لیکن شدید نمونیا اور بازوؤں میں سوجن کے باعث اسے کھانے پینے اور جسمانی حرکت میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ڈاکٹروں نے تاحال یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کب تک صحت یاب ہوسکے گی یا اس کے متاثرہ اعضا مکمل طور پر پہلے کی طرح کام کر پائیں گے۔
پائیک کے وکیل نے بتایا کہ ہوش میں آنے کے بعد وہ ذہنی الجھن اور غصے کی کیفیت میں ہے۔ اسے معلوم ہے کہ اس کی سزائے موت پر عمل درآمد کی کوشش کی گئی تھی جبکہ اس نے اس لڑکی کے اہل خانہ کے بارے میں بھی دریافت کیا جس کے قتل میں اسے مجرم قرار دیا گیا تھا۔
واقعے کے بعد کرسٹا پائیک کے وکلا نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ سزا پر عمل درآمد کے دوران غیر معمولی تکلیف پہنچائی گئی اور متعلقہ حکام نے پہلے سے موجود طبی خدشات کو نظرانداز کیا۔ عدالتی کارروائی میں سرنجوں، ادویات، آئی وی لائنوں، طبی ریکارڈ اور دیگر اہم شواہد کو محفوظ رکھنے کا حکم دیا گیا تاکہ واقعے کی مکمل جانچ کی جاسکے۔
وکلا کا دعویٰ ہے کہ سزا پر عمل درآمد کرنے والی ٹیم نے دو گھنٹے سے زائد وقت میں متعدد مرتبہ سوئیاں لگانے کی کوشش کی جس سے خاتون کے دونوں بازو بری طرح متاثر ہوئے۔ دوسری جانب ٹینیسی کے محکمہ اصلاحات نے اپنے مؤقف میں کہا کہ کارروائی کے دوران طے شدہ قانونی طریقہ کار کی پابندی کی گئی تھی۔
اس واقعے کے بعد ریاست کے گورنر بل لی نے رواں سال کی باقی سزائے موت پر عمل درآمد روکنے اور معاملے کی آزادانہ تحقیقات کرانے کا حکم دیا جبکہ محکمہ اصلاحات کے کمشنر فرینک اسٹرادا نے بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
واضح رہے کہ کرسٹا پائیک کو 1995 میں اپنی ساتھی طالبہ کولین سلیمر کو تشدد کے بعد قتل کرنے کے مقدمے میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔ واقعے کے وقت پائیک کی عمر 18 سال تھی۔ استغاثہ کے مطابق اس نے اپنے بوائے فرینڈ اور ایک دوسری ساتھی کے ساتھ مل کر کولین کو ایک سنسان مقام پر لے جاکر قتل کیا تھا۔ مقدمے میں پائیک کو سزائے موت جبکہ اس کے بوائے فرینڈ کو عمر قید سنائی گئی تھی۔
تقریباً تین دہائیوں سے قید کرسٹا پائیک کا معاملہ اب امریکا میں سزائے موت کے طریقہ کار پر ایک نئی بحث کا سبب بن گیا ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف مہلک انجیکشن کے استعمال اور طبی حفاظتی اقدامات پر سوالات اٹھائے ہیں بلکہ سزا پر عمل درآمد کے دوران قیدیوں کے آئینی حقوق سے متعلق قانونی بحث کو بھی دوبارہ نمایاں کردیا ہے۔