ورلڈ اکنامک فورم کے تجزیے میں پاکستان میں بہتر حکمرانی اور عوامی خدمات کی فراہمی کے لیے 16 نئے صوبے یا 23 سے 25 انتظامی اکائیاں تشکیل دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
تجزیے کے مطابق پاکستان کی بڑھتی آبادی اور موجودہ صوبوں کا وسیع انتظامی حجم عوام کو سرکاری سہولتوں کی فراہمی میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2030 تک پاکستان کی آبادی 26 کروڑ 50 لاکھ تک پہنچنے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات ضروری ہیں۔
تجویز کے مطابق ہر موجودہ صوبے کو چار حصوں میں تقسیم کرکے 16 انتظامی اکائیاں بنائی جا سکتی ہیں، جس سے فی اکائی اوسط آبادی تقریباً ڈیڑھ کروڑ رہ جائے گی۔ متبادل تجاویز میں 23 سے 25 یا موجودہ ڈویژنز کی بنیاد پر 30 سے زائد انتظامی اکائیاں قائم کرنا بھی شامل ہے۔
تجزیے میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 28 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ صوبوں کی اپنی آمدن مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 0.9 فیصد سے بھی کم ہے۔
رپورٹ کے مطابق نئے صوبوں کی تشکیل سے فیصلہ سازی، بجٹ اور جوابدہی عوام کے قریب لائی جا سکتی ہے، تاہم اس کے لیے ہر انتظامی اکائی کو مناسب مالی وسائل، ٹیکس وصولی کے اختیارات اور مضبوط انتظامی صلاحیت فراہم کرنا ضروری ہوگا۔
تجزیے میں واضح کیا گیا ہے کہ مقصد صرف صوبوں کی تعداد بڑھانا نہیں، بلکہ ایسا انتظامی نظام تشکیل دینا ہے جو عوامی ضروریات کے مطابق بہتر خدمات فراہم کرسکے۔