وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے مجوزہ منصوبے پر تیاری مکمل کرلی ہے جبکہ اس حوالے سے صوبائی حکومت کو پیغام بھی پہنچا دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں صوبے کی صورتحال سے متعلق اہم فیصلے متوقع ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق فاٹا کے 8 ضم شدہ قبائلی اضلاع سمیت ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، بنوں اور لکی مروت میں ابتدائی طور پر دو ماہ کے لیے ایمرجنسی نافذ کرنے کی تجویز زیر غور ہے جس میں حالات کا جائزہ لینے کے بعد توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔
مجوزہ منصوبے کے تحت ان اضلاع کے لیے صوبائی انتظامی ڈھانچے سے الگ خصوصی سیکریٹریٹ قائم کرنے کی تجویز ہے، جس کی سربراہی گریڈ 21 کا افسر کرے گا۔ سیکریٹریٹ میں سینئر پولیس افسر سمیت دیگر انتظامی افسران بھی تعینات کیے جائیں گے، جبکہ ان کی تقرری وفاقی حکومت کے ذریعے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے ممکنہ نفاذ پر غور کے پیش نظر وفاقی کابینہ کے ارکان کو اسلام آباد میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی جلد بلائے جانے کا امکان ہے، جس میں صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف کی شرکت متوقع ہے۔
مجوزہ اقدامات کے حوالے سے آئین کے آرٹیکلز 232 سے 234 تک کا جائزہ لینے اور قومی سلامتی کے اداروں کی رپورٹس پر غور کیے جانے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔تاہم ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ سے متعلق حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔