کاکروچ پارٹی کا 24 گھنٹوں کا الٹیمیٹم، سپریم کورٹ تک مارچ کی تیاری اور مظاہرین پر ہندوتوا تنظیم کے حملے

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے اعلان کیا ہے کہ اگر دلی پولیس نے 24 گھنٹوں کے اندر احتجاج کی اجازت نہ دی تو جماعت ایک نئے احتجاجی پروگرام کا اعلان کرے گی۔
دہلی میں سی جے پی کے احتجاج کے دوران پولیس پر مظاہرین کے خلاف حد سے زیادہ سختی کا الزام لگایا گیا ہے
Getty Images
دہلی میں سی جے پی کے احتجاج کے دوران پولیس پر مظاہرین کے خلاف حد سے زیادہ سختی کا الزام لگایا گیا ہے

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے اعلان کیا ہے کہ اگر دلی پولیس نے 24 گھنٹوں کے اندر احتجاج کی اجازت نہ دی تو جماعت ایک نئے احتجاجی پروگرام کا اعلان کرے گی۔

سی جے پی کے ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان کے مطابق پارٹی کے شریک کنوینرز آشوتوش رانکا، سوربھ داس اور قانونی امور کی سربراہ رتنا سنگھ پیر کی صبح 10 بجے پارلیمنٹ سٹریٹ تھانے جائیں گے۔

پارٹی نے کہا ہے کہ وہ جنتر منتر پر اپنے پرامن احتجاج کے لیے تاریخ مقرر کرنے کا مطالبہ کرنے تھانے جا رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ’دہلی پولیس ہمیں 24 گھنٹوں کے اندر تاریخ دے سکتی ہے، ورنہ ہم خود اپنے احتجاج کا اعلان کریں گے۔‘

اس سے ایک روز قبل اتوار کو سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے اور ان کے دو دیگر ساتھی پولیس حراست سے رہا ہوئے تھے۔

رہائی کے بعد سی جے پی کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ تمام ’کاکروچ‘ فی الحال پیچھے ہٹ جائیں، جبکہ اگلے لائحہ عمل کا جلد اعلان کیا جائے گا۔

ادھر کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے اعلان کیا کہ اپوزیشن پارٹیاں پیر کو سپریم کورٹ تک مارچ کریں گی۔

انھوں نے کہا کہ مارچ کے دوران چیف جسٹس آف انڈیا کو ایک میمورنڈم پیش کیا جائے گا، جس میں ’ووٹ چوری‘ کو روکنے، ایس آئی آر کے عمل کو بند کرنے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جائے گا۔

اس سے قبل انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں احتجاج کے باعث میٹرو ریل کارپوریشن (ڈی ایم آر سی) نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر پیر کے روز تقریباً 10 گھنٹوں کے لیے 6 میٹرو سٹیشن بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب اپوزیشن جماعتوں کے ارکانِ پارلیمان چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کے لیے پیر کو ایک مارچ نکالنے والے ہیں۔

ڈی ایم آر سی کے مطابق 12 اکتوبر 2026 کو صبح 6 بجے سے شام 4 بجے تک ان سٹیشنوں پر مسافروں کے داخلے اور اخراج پر پابندی رہے گی۔

ادارے نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ شام 4 بجے کے بعد سکیورٹی ادارے صورتحال کا دوبارہ جائزہ لیں گے اور ضرورت کے مطابق نئی ہدایات جاری کی جائیں گی۔ تاہم ان تمام سٹیشنوں پر میٹرو لائن تبدیل کرنے کی سہولت دستیاب رہے گی۔

ویڈیو سے لی گئی تصویر
Video Grab

اس سے پہلے سنیچر کے روز سوشل میڈیا پر کئی ویڈیوز سامنے آئیں جن میں خود کو ہندوتوا تنظیموں کے ارکان بتانے والے بعض افراد کو دہلی میں احتجاج کرنے والے لوگوں کو مبینہ طور پر گالیاں دیتے اور ان پر تشدد کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

یہ مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کے لیے سڑکوں پر نکلے تھے۔

ایک ویڈیو میں ایک شخص روتے ہوئے یہ کہتا دکھائی دیتا ہے کہ اس کے ساتھ مارپیٹ کی گئی۔ جب ایک صحافی نے اس سے پوچھا کہ کیا پولیس نے اسے بچایا، تو اس نے جواب دیا کہ پولیس نے ایسا نہیں کیا۔

ہندوتوا تنظیم ہندو رکشا دل کے قومی صدر بھوپیندر چودھری، جو پنکی بھیا کے نام سے بھی معروف ہیں، نے یہ ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ویڈیو میں مارپیٹ کرتے نظر آنے والے افراد ان کی تنظیم کے ارکان ہیں۔

انھوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا: ’یہ میرے کارکن ہیں۔ ہندو رکشا دل جو کہتا ہے وہ کر کے دکھاتا ہے۔ جتنے بھی کاکروچ ملے، ان کا دماغ ٹھیک کرنے کی طاقت ہندو رکشا دل میں ہے اور وہ یہ کام مسلسل کرتا رہے گا۔‘

الزام ہے کہ دہلی پولیس کی موجودگی میں کچھ مظاہرین کو مارا پیٹا گیا
Video Grab
الزام ہے کہ دہلی پولیس کی موجودگی میں کچھ مظاہرین کو مارا پیٹا گیا

ویڈیو میں نظر آنے والے ایک صحافی نے لڑکی کو ’چھوٹی بچی‘ قرار دیا۔

اس واقعے پر سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہونے کے بعد دہلی پولیس نے خود نوٹس لیا اور چار افراد، رمن سینی، وویکانند عرف وویک، کپل کمار اور رویندر سنگھ عرف گووند ہندو، کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔

کملہ مارکیٹ تھانے کے ایک سینئر پولیس افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ چاروں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

افسر اس بات کی تصدیق نہیں کر سکے کہ ویڈیو میں جس شخص کے ساتھ مبینہ طور پر مارپیٹ ہوتی دکھائی دے رہی ہے، آیا وہ کم عمر ہے یا نہیں۔

انھوں نے کہا، ’ہم معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور متاثرہ شخص سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

ملزمان کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہیتا کی دفعہ 126 (امن برقرار رکھنے کے لیے سکیورٹی)، دفعہ 115 (جان بوجھ کر جسمانی نقصان پہنچانا) اور دفعہ 130 (حملہ) سمیت دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

سینئر پولیس افسر نے کہا کہ مزید تحقیقات کے بعد مقدمے میں مزید دفعات بھی شامل کی جا سکتی ہیں۔

بی بی سی کے پاس ایف آئی آر کی نقل موجود نہیں ہے۔

ملزمان کون ہیں؟

تشدد کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بھارتی یوتھ کانگریس سمیت متعدد سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے پوسٹس شیئر کی گئیں، جن میں مبینہ طور پر مارپیٹ میں ملوث افراد کی شناخت بتائی گئی۔

ایک پوسٹ میں کہا گیا: ’اب تک دو افراد کی شناخت ہو چکی ہے۔ دونوں آر ایس ایس سے وابستہ تنظیموں کے انتہا پسند عناصر ہیں، جن کے انسٹاگرام پروفائلز سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مسلسل نفرت انگیز بیانات دیتے رہے ہیں، اور آج انہوں نے پولیس کے تحفظ میں ایک بیٹی کو مارا پیٹا۔‘

تاہم سوشل میڈیا پر تنقید کے باوجود تشدد کے الزامات کا سامنا کرنے والے افراد اپنی شناخت ظاہر کرنے سے گریزاں نہیں رہے۔

ملزم کپل کمار کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں وہ اور ایک دوسرے ملزم رویندر سنگھ نظر آتے ہیں۔

ویڈیو کا عنوان تھا: ’ہم نے جنتر منتر پر کاکروچ کا اچھا علاج کر دیا۔‘

ویڈیو میں انھیں یہ کہتے سنا جا سکتا ہے: ’ہم مودی اور دہلی پولیس کے حامی ہیں، پھر بھی ہمیں حراست میں لے لیا گیا۔ ہم ان کی عزت بچانے آئے تھے، اس کے باوجود ہمیں حراست میں لیا گیا۔‘

بی بی سی نے ایک اور ملزم رمن سینی سے فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن ان کا فون بند تھا۔

بی بی سی نے پنکی بھیا سے بھی رابطہ کیا، تاہم انھوں نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

انھوں نے کہا: ’میں اس بات کی تصدیق نہیں کر سکتا کہ یہ لوگ ہماری تنظیم سے وابستہ ہیں یا نہیں۔‘

تاہم پولیس کی حراست میں لیے جانے کے بعد رویندر سنگھ نے ایک ویڈیو میں خود کو ہندو رکشا دل کا رکن بتایا۔ اس ویڈیو میں پولیس اہلکار اسے اپنے ساتھ لے جاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

ای ٹی وی بھارت دہلی کی جانب سے اپ لوڈ کی گئی ویڈیو میں اسے یہ کہتے سنا جا سکتا ہے: ’مجھے پریشان مت کرو۔ تمام بڑے افسران مجھے جانتے ہیں۔‘

وہ مزید کہتے ہیں: ’میں واپس جاؤں گا اور ان لوگوں، ان کاکروچوں، کو سیدھا کر دوں گا۔ جو ملک مخالف نعرے لگا رہے ہیں اور دہلی پولیس کو گالیاں دے رہے ہیں، میں انھیں ٹھیک کر دوں گا۔ ہندو رکشا دل پیچھے نہیں ہٹے گا۔‘

ایک اور ویڈیو میں بھی رویندر سنگھ کو ایک شخص کو تھپڑ مارتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

مظاہرے کے دوران تصادم کی وجوہات

دہلی کے علاقے کناٹ پلیس میں کشیدگی برقرار ہے، جبکہ پولیس مرکزی دہلی پہنچنے والے مظاہرین کو حراست میں لے رہی ہے۔ علاقے میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں اور بڑی تعداد میں نیم فوجی دستوں اور پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔

تاہم مظاہرین کے ایک طبقے نے دہلی پولیس کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سینکڑوں مظاہرین کو حراست میں لیے جانے کے باوجود ہندو رکشا دل جیسی ہندوتوا تنظیموں کے خلاف فوری کارروائی نہیں کی گئی۔

دہلی پولیس کے ایک سینئر افسر نے کہا کہ پولیس سنیچر کو سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز کی تحقیقات کر رہی ہے اور ضروری کارروائی کی جائے گی۔

پولیس کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہندوتوا تنظیموں کے ارکان سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر کئی ویڈیوز شیئر کی گئی ہیں، جن میں وہ خود تشدد میں ملوث ہونے کا دعویٰ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

مثال کے طور پر سنیچر کو پنکی بھیا نے ایکس پر ایک اور ویڈیو شیئر کی۔ اس کے ساتھ انھوں نے لکھا: ’میں نے کہا تھا نا ہندو رکشا دل کو مت چھیڑو۔ ہندو رکشا دل پیچھے ہٹنے والا نہیں ہے۔ یہ میرے ایسے جنگجو ہیں جو پوری طاقت کے ساتھ سناتن دھرم کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ہمیں کسی سیاست سے کوئی تعلق نہیں، لیکن اگر کوئی سناتن کو نشانہ بنائے گا تو ہم اسے وہیں پہنچائیں گے جہاں اس کی جگہ ہے۔‘

تشدد کی دھمکیاں

ہفتے کے احتجاج سے قبل بھی پنکی بھیا نے کئی ویڈیوز شیئر کی تھیں جن میں ’سناتن کے خلاف‘ سمجھے جانے والے افراد کو تشدد کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔

صحافی دھیرج ماہیشوری نے ایکس پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں چند افراد ایک مظاہرے کو گھیرے ہوئے ہیں اور اس سے ’معافی‘ منگواتے دکھائی دیتے ہیں۔

دی کوئنٹ نے رتیش ٹھاکر نامی ایک شخص کا انٹرویو بھی نشر کیا، جس نے خود کو بجرنگ دل کا کارکن بتایا اور دعویٰ کیا کہ احتجاج کے مقام پر اس سے وابستہ تنظیموں کے 250 افراد موجود تھے۔

ویڈیو میں اس نے کہا: ’ان لوگوں نے پہلے بھی رام اور سیتا کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کیے ہیں۔ ہم انھیں دوبارہ ایسا نہیں کرنے دیں گے۔‘

بی بی سی کے صحافیوں نے بھی 10 اکتوبر کو وسطی دہلی میں ایسے تصادم دیکھے۔

مظاہرین کے مخالف ایک شخص نے کہا: ’چاہے سی جے پی ہو یا راہل گاندھی، اگر کوئی ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کرے گا تو ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘

ایک اور شخص نے کہا: ’ان کاکروچوں کی وجہ سے دہلی جام ہو گئی ہے اور سارا کام بند پڑا ہے۔‘

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی متعدد ویڈیوز میں مظاہرین اور ان کی مخالفت کے لیے آنے والے افراد کے درمیان کشیدگی دیکھی جا سکتی ہے۔

کناٹ پلیس کے اندرا چوک میں دائیں بازو کی تنظیموں کے ارکان سے الجھنے والے مظاہرین میں سے ایک شخصنے بی بی سی کو بتایا: ’وہ ہمیں کہہ رہے ہیں کہ اگر ہم احتجاج جاری رکھیں گے تو وہ ہمیں ماریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم یہاں غیر قانونی طور پر آئے ہیں۔‘

دریں اثنا، پی ٹی آئی کے مطابق دہلی پولیس نے سی جے پی کے احتجاج کے سلسلے میں 20 مقدمات درج کیے ہیں، جن میں پولیس اہلکاروں پر مبینہ حملوں کے مقدمات بھی شامل ہیں۔

پی ٹی آئی کے مطابق انہی مقدمات میں ہندو رکشا دل سے وابستہ چار افراد کے خلاف درج مقدمہ بھی شامل ہے، جنہیں احتجاج کے دوران خواتین کے ساتھ مبینہ دھکم پیل اور مارپیٹ کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US