وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے ٹرین حادثے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی اور متاثرین کی مالی امداد کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے میں ملوث کسی بھی شخص کو رعایت نہیں دی جائے گی، اب روایتی طریقوں سے کام نہیں چلے گا۔
ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حنیف عباسی نے کہا کہ وہ وزیراعظم کی ہدایت پر ملتان پہنچے ہیں۔ ریلوے میں بہت سے مسائل موجود ہیں اور بحیثیت وزیر وہ اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی ایک شخص کو پیشگی طور پر حادثے کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جائے گا بلکہ تحقیقات کے بعد ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
وفاقی وزیر ریلوے نے کہا کہ ان کا کسی کے ساتھ کوئی ذاتی تعلق نہیں اور نہ ہی ذمہ داری سے بھاگنا ان کی فطرت ہے۔ حادثے میں جو بھی ملوث پایا گیا، اس کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔
حنیف عباسی نے ریسکیو آپریشن کے حوالے سے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے بروقت کارروائی شروع کی، جبکہ پاک فوج کے جوانوں نے بھی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ حادثے سے متاثرہ افراد کی مالی امداد کی جائے گی۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وہ خود بھی ٹرین میں سفر کرتے ہیں اور ریلوے کے مسائل سے آگاہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے کے مختلف کاموں کے لیے ایک ایک معاملے پر آٹھ مرتبہ ٹینڈر کیے گئے ہیں، تاہم اب مکینیکل مسائل کا حل ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنانا ہوگا۔
حنیف عباسی نے مزید کہا کہ روہڑی سے کراچی تک ریلوے ٹریک پر کام جنوری میں شروع ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریلوے نظام میں بہتری، تکنیکی مسائل کے خاتمے اور مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔