امریکہ کے 72 ریٹائرڈ جنرلز، ایڈمرلز اور دیگر اعلیٰ فوجی افسران کے ایک گروپ نے امریکی حکومت پر زور دیا ہے کہ فائرنگ سکواڈ کے ذریعے سزائے موت کی براہِ راست نشریات کے منصوبے کو منسوخ کیا جائے۔
امریکہ کے 72 ریٹائرڈ جنرلز، ایڈمرلز اور دیگر اعلیٰ فوجی افسران کے ایک گروپ نے امریکی حکومت پر زور دیا ہے کہ فائرنگ سکواڈ کے ذریعے ہونے والی سزائے موت کی براہِ راست نشریات کے منصوبے کو منسوخ کیا جائے۔
انھوں نے ایک خط میں لکھاکہ ’ہم صدر، کانگریس میں اپنے نمائندوں اور اپنے ہم وطنوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اختیارات کے اس وحشیانہ غلط استعمال کو روکنے کے لیے اقدام کریں۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ براہِ راست نشریات سے اجتماعی قتل کے مجرم کو ’شہید‘ بنا دیا جائے گا۔
گذشتہ ہفتے پینٹاگون نے اعلان کیا تھا کہ 3 دسمبر کو فوجی ماہرِ نفسیات نضال حسن کی سزائے موت عوامی طور پر نشر کی جائے گی۔ ندال حسن نے فورٹ ہڈ فوجی اڈے پر 13 غیر مسلح امریکی فوجیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے قانون سازوں اور مذہبی رہنماؤں نے بھی اس منصوبے پر تنقید کی ہے۔
گذشتہ ہفتے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ براہِ راست نشریات کے منصوبے کی ’مکمل طور پر‘ حمایت کرتے ہیں، تاہم سی بی ایس نیوز کے مطابق انتظامیہ کے بعض حکام اب اس کی مخالفت کی طرف مائل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق منگل تک ٹرمپ نے اس معاملے پر حتمی فیصلہ نہیں کیا تھا۔
بدھ کو جاری کیے گئے کھلے خط میں سابق فوجی رہنماؤں، جن میں 45 جنرلز، 12 ایڈمرلز اور کئی سابق جج ایڈووکیٹ جنرل شامل تھے، نے کہا کہ وہ سزائے موت کے نفاذ کے مخالف نہیں ہیں۔
تاہم ان کا مؤقف تھا کہ عوامی پھانسی امریکہ کے آئین میں ’ظالمانہ اور غیر معمولی سزا‘ کے خلاف موجود تحفظات کی خلاف ورزی ہوگی اور ایک ایسی سزا کو، جو ’سنجیدہ اور نہایت اہم‘ ہونی چاہیے، تماش بینوں کی تفریح میں تبدیل کر دے گی۔
انھوں نے مزید لکھا کہ ’اس قسم کی استحصالی نشریات، جو انسانی وقار کو مجروح کرتی ہیں، اسے استعمال کرنے والی فوج اور اسے اجازت دینے والے ملک دونوں کے وقار کو داغدار کرے گی۔‘
’اسے ہمارے ملک کے دشمن نفرت بھڑکانے، مستقبل میں امریکی فوجیوں اور شہریوں کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کریں گے، اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ حسن اپنے ساتھی فوجیوں پر حملہ کرنے اور انھیں قتل کرنے کے باعث ایک شہید بن جائے۔‘
اس خط پر دستخط کرنے والوں کا تعلق فوج کے مختلف شعبوں سے تھا، جن میں چند ایسے افسران بھی شامل تھے جو ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت کے دوران ریٹائر ہوئے تھے۔ ان میں سے بعض عراق اور افغانستان کی جنگوں میں بھی خدمات انجام دے چکے تھے۔
حسن نے عدالت میں کہا تھا کہ اس نے فورٹ ہڈ میں فائرنگ کی کارروائی اس یقین کے تحت کی تھی کہ وہ افغانستان میں مسلمانوں اور طالبان کو امریکی فوج سے بچا رہا ہے۔ فورٹ ہڈ حملہ کسی امریکی فوجی اڈے پر جنگی کارروائی سے ہٹ کر ہونے والا سب سے خونریز حملہ تھا۔ حملے کے دوران حسن خود بھی گولی لگنے سے زخمی ہوا تھا اور اب وہ وہیل چیئر استعمال کرتا ہے۔
اس خط پر ریٹائرڈ میجر جنرل ٹونی ٹیگوبا نے بھی دستخط کیے، جنھوں نے عراق کی ابو غریب جیل میں قیدیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کی فوجی تحقیقات کی قیادت کی تھی۔ اسی طرح ریٹائرڈ فضائیہ کے کرنل مو ڈیوس، جو گوانتانامو بے حراستی مرکز میں استغاثہ کے وکیل رہ چکے ہیں اور واٹر بورڈنگ کو تشدد قرار دے چکے ہیں، بھی دستخط کنندگان میں شامل تھے۔
دستخط کرنے والوں میں چارلس بولڈن بھی شامل تھے، جو امریکی میرین کور کے میجر جنرل رہ چکے ہیں اور بعد میں ناسا کے سربراہ بنے، جبکہ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل کلاڈیا کینیڈی، جو امریکی فوج میں تھری اسٹار جنرل بننے والی پہلی خاتون تھیں، نے بھی اس خط پر دستخط کیے۔
ٹرمپ نے کہا ہے کہ انھوں نے اس سزا کی منظوری دے دی ہے، تاہم اگرچہ وہ اس کی براہِ راست نشریات کے منصوبے کی حمایت کرتے ہیں، اس بارے میں حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔
اگر یہ منصوبہ نافذ ہوتا ہے تو یہ امریکہ میں تقریباً ایک صدی کے دوران پہلی ایسی عوامی سزائے موت ہوگی۔
’نام نہاد دولتِ اسلامیہ کی یاد‘
یاد رہے کہ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے بتایا تھا کہ عوام سابق امریکی فوجی میجر نضال حسن کو فائرنگ سکواڈ کے ذریعے دی جانے والی سزائے موت براہ راست ٹی وی پر دیکھ سکیں گے۔
سزائے موت کے قیدیوں کے ساتھ کام کرنے والے وکیل جان ملز نے کہا کہ اسے براہِ راست نشر کرنے کا فیصلہ قانونی اعتبار سے ’غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔‘
ہیگستھ نے اپنے فیصلے کے دفاع میں کہا تھا کہ لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ ’اس قسم کی چیزوں کے سنگین نتائج ہوتے ہیں۔‘
ڈیموکریٹک سینیٹر کرس مرفی نے سی این این سے بات کرتے ہوئے براہِ راست نشریات دکھانے کے فیصلے پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ ’یہ نام نہاد دولتِ اسلامیہ کی یاد دلاتا ہے۔‘
ورجینیا سے تعلق رکھنے والے امریکی فوج کے ماہرِ نفسیات حسن نے اعتراف کیا تھا کہ اس نے فورٹ ہڈ عمارت میں 13 غیر مسلح فوجیوں کو ہلاک کیا۔
اس حملے میں سابق امریکی فوجی سارجنٹ الانزو لنسفورڈ کو سات گولیاں لگی تھیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ فائرنگ سکواڈ کے ذریعے سزائے موت کی حمایت کرتے ہیں، کیونکہ یہ اس کے فعل کے مطابق ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ہر کسی کو براہِ راست نشریات دیکھنے کی اجازت ہونی چاہیے کیونکہ وہ اس کے نوجوانوں پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں فکر مند ہیں، تاہم ان کے مطابق حملے سے متاثرہ افراد کو یہ موقع ملنا چاہیے۔
انھوں نے کہا: ’جہاں تک ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں، زندہ بچ جانے والوں کے خاندانوں اور خود بچ جانے والوں کا تعلق ہے، ہاں، میرا خیال ہے کہ ہمیں اسے بغیر کسی سنسرشپ کے دیکھنے کے قابل ہونا چاہیے۔‘
لنسفورڈ کا کہنا ہے کہ وہ پھانسی کے وقت موجود ہوں گے اور گولی چلانے سے پہلے چاہتے ہیں کہ حسن ان کی آنکھوں میں دیکھے۔
’میں چاہتا ہوں کہ وہ جان لے کہ وہ ناکام ہوا۔ میں اب بھی یہاں موجود ہوں۔‘
ہیگستھ نے ایک امریکی نشریاتی ادارے کو دیے جانے والے انٹرویو میں کہا کہ حسن کو ’فوجیوں کا فائرنگ سکواڈ ملے گا۔ جیسا کہ ہونا چاہیے۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا حسن نے کوئی آخری درخواست کی ہے یا صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کیا ہے تو ہیگستھ نے جواب دیا: ’مجھے پرواہ نہیں۔ 3 دسمبر کو ہم اسے دیکھیں گے۔‘

بی بی سی نے وائٹ ہاؤس سے پوچھا ہے کہ آیا ٹرمپ براہِ راست نشر کی جانے والی اس سزائے موت کی حمایت کرتے ہیں۔
اگرچہ گزشتہ سال 17 ممالک میں 2,700 سے زیادہ سزائے موت پر عمل درآمد ہوا، لیکن صرف دو ممالک میں یہ کارروائیاں عوامی طور پر کی گئیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق، 2025 میں ایران میں 11 اور افغانستان میں چھ عوامی پھانسیاں دیے جانے کا علم ہوا ہے۔
سیکرٹری امریکی فوج کے مطابق 3 دسمبر کو ٹیکساس میں واقع فورٹ ہڈ میں سزائے موت پر عمل درآمد کیا جائے گا اور یہ دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی بار ہو گا کہ فوجی سطح پر فائرنگ سکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی جائے گی۔
عدالت میں حسن نے ’غلطی‘ پر معذرت کی۔
اس نے 2013 میں اپنے فوجی مقدمے کے دوران کہا تھا کہ وہ سمجھتا تھا کہ وہ افغانستان میں مسلمانوں اور طالبان کا تحفظ کر رہا ہے۔
ملز نے کہا کہ حسن کے مقدمے میں اپیل کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا اور غالب امکان ہے کہ وہ وفاقی عدالت میں اپنی سزا اور فیصلے کے خلاف نظرِ ثانی کی درخواست کرے گا، جس سے ممکنہ طور پر سزا مؤخر ہو جائے گی۔
ملز نے کہا کہ اگر سزائے موت عمل میں آتی ہے تو انھیں حیرت ہو گی۔
انھوں نے مزید کہا: ’اسے براہِ راست نشر کرنا، فائرنگ سکواڈ کا استعمال ٹرمپ انتظامیہ کی توجہ حاصل کرنے کی ایک کوشش سے زیادہ کچھ نہیں، اور اس کا امکان کم ہے، انصاف کی کسی صورت کے حصول کی بات تو دور رہی۔‘
ییل لا اسکول میں وزٹنگ لیکچرر یوجین آر فائیڈل نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ’واقعی ایک افسوسناک فیصلہ‘ ہے۔
انھوں نے کہا: ’کسی سزائے موت کو براہِ راست نشر کرنا قرونِ وسطیٰ کی بات معلوم ہوتی ہے۔ ایک لحاظ سے ہم بطور معاشرہ اس مرحلے سے بہت آگے نکل چکے تھے، کم از کم میں آج تک یہی سمجھتا تھا۔‘
فائیڈل نے کہا کہ اگر حسن قانونی کارروائی کرتا ہے تو ’یہ کارروائیاں برسوں جاری رہیں گی‘ اور ’صدر ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں مدت سے کہیں زیادہ طویل ہوں گی۔‘
امریکہ کی کچھ ریاستوں میں سزائے موت پر عمل درآمد ہوتا ہوا دیکھنا ممکن ہے۔ بہت سی ریاستوں میں صحافیوں کی موجودگی ضروری ہوتی ہے اور جس شخص کو سزا دی جانی ہو وہ بھی لوگوں کو مدعو کر سکتا ہے۔
بعض ریاستیں عام شہریوں کو بھی رضاکارانہ طور پر گواہ بننے کی اجازت دیتی ہیں۔
تاہم فورڈہم یونیورسٹی کی قانون کی پروفیسر ڈیبورا ڈینو کہتی ہیں کہ ’کبھی بھی کسی سزائے موت کی براہِ راست نشریات نہیں ہوئی۔‘
ان کے مطابق براہِ راست نشریات ’شفافیت کی ایسی سطح کو لازمی بنا دے گی جو شاید اس ملک میں پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔‘
وہ کہتی ہیں: ’ملک کی نصف سے زیادہ آبادی سزائے موت کی حامی ہے، اگرچہ اس حمایت میں کمی آ رہی ہے۔ یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ اگر آپ سزائے موت چاہتے ہیں تو ہم آپ کو دکھائیں گے کہ اس ملک میں یہ کیسے نافذ کی جاتی ہے۔ اور پھر لوگوں کو اس حقیقت کا سامنا کرنا پڑے گا جسے بہت سے لوگ نظر انداز کرتے ہیں۔‘
ڈینو کے مطابق براہِ راست نشریات کے حوالے سے اہم سوالات موجود ہیں، مثلاً آیا اس پر عمر کی پابندی ہو گی یا نہیں، اور آیا یہ اس آن لائن پلیٹ فارم کی پالیسیوں سے متصادم ہو گی جو نشریات کی میزبانی کرے گا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال سب سے زیادہ پھانسیاں چین، ایران، سعودی عرب، یمن اور امریکہ میں دی گئیں۔
امریکی حکومت نے 17 سال تک کسی شخص کو پھانسی نہیں دی تھی، یہاں تک کہ بطور صدر ٹرمپ کی پہلی مدت کے آخری سال میں 13 سزاؤں پر تیزی سے عمل درآمد کیا گیا۔
اقتدار میں واپسی کے بعد ٹرمپ نے فوری طور پر اپنے پیش رو جو بائیڈن کی وفاقی سزائے موت پر عائد پابندی ختم کر دی۔
ملک میں آخری بار 1961 میں امریکی فوج کے ایک اہلکار کو 11 سالہ آسٹرین بچی سے ریپ کے جرم میں سزا یافتہ قرار دیے جانے کے بعد موت کی سزا دی گئی۔
اس سزا کی منظوری اُس وقت کے صدر ڈوائٹ ڈی آئزن ہاور نے دی تھی اگرچہ متاثرہ بچی کے خاندان نے جان ایف کینیڈی سے رحم کی اپیل کی تھی۔
فائرنگ سکواڈ کے ذریعے آخری فوجی سزائے موت جنوری 1945 میں دی گئی تھی، جب امریکی فوج کے ایک نوجوان مفرور سپاہی ایڈی سلووِک کو دوسری عالمی جنگ کے آخری مہینوں میں گولی مار دی گئی تھی۔
اضافی رپورٹنگ: کواسی گیامفی آسیئدو اور کالی ہیز