مولانا فضل الرحمن کی سیاست کا سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ ان کے اصول مستقل ہیں یا سیاسی حالات کے ساتھ بدل جاتے ہیں؟
کبھی حکومت کے ساتھ مفاہمت، کبھی اپوزیشن کے ساتھ اتحاد، اور کبھی اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ؛ مولانا کی بدلتی سیاسی سمت پر سوال اٹھانا عوام کا جمہوری حق ہے۔
کل تک جن سیاسی قوتوں کے ساتھ شدید محاذ آرائی تھی، آج انہی کے ساتھ مشترکہ مفادات پر مذاکرات اس سوال کو جنم دیتے ہیں کہ کیا سیاست اصولوں کے تحت ہو رہی ہے یا اقتدار میں حصے داری کے لیے؟
مذہب اور اخلاقیات کے نام پر عوام سے حمایت مانگنے والے رہنما کو یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ ان کے سیاسی فیصلوں میں عوامی مفاد کہاں ختم ہوتا ہے اور ذاتی و جماعتی مفاد کہاں سے شروع ہوتا ہے۔
عوام کو مذہبی نعروں، جذباتی تقریروں اور وقتی بیانیوں سے نہیں، مستقل اصولوں اور عملی کردار سے قائل کیا جاسکتا ہے۔ سیاست میں اتحاد جرم نہیں، لیکن ہر بدلتے مؤقف کو اصول پسندی کا نام دینا بھی درست نہیں۔