خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سیکیورٹی فورسز اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے کوہاٹ پولیس لائنز پر خودکش حملے کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خارجی دہشت گرد زاہد گل کو لکی مروت میں ہلاک کردیا۔
سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے مطابق سی ٹی ڈی لکی مروت اور سیکیورٹی فورسز نے فرنٹیئر ریجن (ایف آر) لکی مروت میں مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، جس کے دوران حافظ گل بہادر گروپ سے وابستہ اہم دہشت گرد کمانڈر زاہد گل مارا گیا۔
حکام کے مطابق ہلاک دہشت گرد پرانی کوہاٹ پولیس لائنز پر خودکش حملے کا مرکزی منصوبہ ساز تھا اور سیکیورٹی اداروں کو متعدد سنگین دہشت گرد کارروائیوں میں مطلوب تھا۔
سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ زاہد گل نے کوہاٹ پولیس لائنز پر حملے کے دوران بارود سے بھری خودکش گاڑی کو جائے وقوعہ تک پہنچانے اور اس کی رہنمائی کرنے میں کردار ادا کیا تھا۔ حکام کے مطابق وہ دہشت گرد نیٹ ورک کے لیے خودکش حملہ آوروں کی کوہاٹ منتقلی میں بھی ملوث رہا۔
واضح رہے کہ 18 ستمبر 2026 کو کوہاٹ کی پرانی پولیس لائنز کے قریب مسجد کے نزدیک بارود سے بھری گاڑی کے دھماکے کے بعد مسلح دہشت گرد پولیس کمپاؤنڈ میں داخل ہوگئے تھے اور پولیس تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔ اس حملے میں 15 پولیس اہلکاروں سمیت مجموعی طور پر 21 افراد شہید جبکہ 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔
حملے کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے کمپاؤنڈ میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی تھی۔ واقعے نے خیبرپختونخوا میں پولیس اور سیکیورٹی تنصیبات کو درپیش خطرات کو ایک مرتبہ پھر نمایاں کیا تھا۔
سی ٹی ڈی کے مطابق ہلاک دہشت گرد زاہد گل کوہاٹ کے علاقے بلی ٹنگ میں ہونے والی بینک ڈکیتی میں بھی مبینہ طور پر شریک تھا، جہاں سے 60 لاکھ روپے لوٹے گئے تھے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ ڈکیتی سے حاصل ہونے والی رقم بنوں کے علاقوں بکاخیل اور جانی خیل میں سرگرم دہشت گرد گروہوں میں تقسیم کی گئی تھی۔
حکام کے مطابق زاہد گل حافظ گل بہادر گروپ سے قریبی رابطے میں تھا اور کوہاٹ میں متعدد خودکش حملہ آوروں کی نقل و حرکت اور ترسیل میں سہولت کاری کرتا رہا تھا۔
سی ٹی ڈی کے مطابق زاہد گل نے تقریباً دو ماہ قبل نئی کوہاٹ پولیس لائنز کو نشانہ بنانے کے لیے بھی ایک خودکش حملہ آور کو لانے میں کردار ادا کیا تھا، تاہم یہ حملے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔
حکام کے مطابق ہلاک دہشت گرد کے ممکنہ آئندہ اہداف میں کوہاٹ میں پاکستان ایئر فورس کی تنصیب اور پولیس ٹریننگ اسکول بھی شامل تھے۔ سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ متعلقہ دہشت گرد نیٹ ورک کے دیگر کارندے پہلے ہی سیکیورٹی اداروں کی حراست میں ہیں۔
سیکیورٹی اداروں کے مطابق دہشت گردی کے منصوبوں کو ناکام بنانے اور مطلوب عناصر کے نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں جاری ہیں۔ لکی مروت میں ہونے والا آپریشن کوہاٹ پولیس لائنز حملے کے مبینہ منصوبہ ساز کو ہلاک کرنے کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔