فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انکم ٹیکس تنازعات کے متبادل حل کے طریقہ کار میں ترمیم کرتے ہوئے کمیٹیوں کی تشکیل، اراکین کی نامزدگی اور مالی معاوضوں سے متعلق قواعد واضح کر دیے ہیں۔
ایف بی آر کے نئے نوٹیفکیشن کے مطابق رول 231 سی میں تبدیلیاں کی گئی ہیں، جن کے تحت انکم ٹیکس تنازع کے حل کے لیے متاثرہ ٹیکس دہندہ کو بورڈ میں تحریری درخواست جمع کرانا ہوگی۔ درخواست میں نمائندے کا نام، شناختی کارڈ نمبر، فون نمبر، رہائشی پتہ اور ای میل درج کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
نئے طریقہ کار کے تحت ٹیکس دہندہ کا نمائندہ تنازع کے حل کے لیے تین ریٹائرڈ ججوں کے نام تجویز کرے گا، جبکہ کمیٹی کے چیئرمین اور اراکین کے معاوضوں کا بھی تعین کردیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پانچ کروڑ روپے تک کے ٹیکس تنازع میں کمیٹی کے چیئرمین کو تین لاکھ روپے اور ہر رکن کو ڈیڑھ لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے گا، جبکہ پانچ کروڑ روپے سے زائد مالیت کے تنازع میں چیئرمین کا معاوضہ پانچ لاکھ روپے اور ہر رکن کا معاوضہ ڈھائی لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے۔
کمیٹی کے اراکین کو گریڈ 21 اور 22 کے سرکاری افسران کے مساوی سفری اخراجات اور یومیہ الاؤنس بھی ادا کیے جائیں گے۔
قواعد کے مطابق اگر کمیٹی تنازع حل کرنے میں ناکام رہتی ہے یا اسے تحلیل کردیا جاتا ہے تو اراکین معاوضے کے حق دار نہیں ہوں گے۔ ایسی صورت میں پیشگی ادا کی گئی رقم 15 دن کے اندر واپس کرنا لازم ہوگا۔
نوٹیفکیشن میں مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق بھی واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ کسی رکن کے سامنے مفادات کا ٹکراؤ آنے کی صورت میں اسے 7 دن کے اندر بورڈ کو آگاہ کرنا ہوگا، جبکہ وصول کیا گیا معاوضہ بھی واپس کرنا لازم ہوگا۔