کراچی کے علاقے اسٹیل ٹاؤن سے اغوا ہونے والے نوجوان زین العابدین کا بہیمانہ قتل کا معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کی نشاندہی پر مقتول کی لاش برآمد کرلی ہے۔
مقتول کے والد کے مطابق سعودی عرب میں درزی کا کام کرنے والا زین العابدین 14 اکتوبر کو اپنے گھر کے قریب سے لاپتا ہوا تھا، اور نامعلوم افراد اس کا موبائل فون، اے ٹی ایم کارڈ، گاڑی کے کاغذات اور چپل گھر پر پھینک گئے تھے۔
والد نے واقعے کے بعد اسٹیل ٹاؤن تھانے میں این سی کٹوائی تھی، جس کے بعد اسی رات اغوا کاروں نے بیٹے کے موبائل سے کال کرکے تاوان کا مطالبہ کیا اور دھمکی دی کہ پیسوں کا بندوبست نہ کیا تو بیٹے کو مار دیا جائے گا۔ اس کے اگلے روز تھانے میں باقاعدہ ایف آئی آر درج کروائی گئی۔
پولیس کے مطابق فیملی پر دباؤ ڈالنے کے لیے اغوا کاروں نے نوجوان کا کٹا ہوا ہاتھ بھی گھر بھیجا تھا، جبکہ مقتول کے والد کا کہنا ہے کہ وہ ملزمان کو پانچ لاکھ روپے کی رقم بھی دے چکے تھے۔
پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے گلشن حدید سے دو ملزمان کو حراست میں لیا، جن میں مقتول کا کزن فیصل اور اس کا ایک دوست شامل ہے جو مغوی سے قریبی تعلق رکھتے تھے۔
زیر حراست ملزمان نے دورانِ تفتیش مغوی کو قتل کرنے کا اعتراف کیا، جن کی نشاندہی پر پولیس نے مقتول زین العابدین کی لاش اسٹیل ملز کے قریب جھاڑیوں سے برآمد کرلی ہے۔