ریاض ایئرپورٹ حملے میں مارے گئے پاکستانی کی باجوڑ میں نماز جنازہ: ’رضوان آٹھ ماہ قبل ہی محنت مزدوری کے لیے سعودیہ گیا تھا‘

سعودی عرب کے شہر ریاض میں شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہوئے حملے میں ہلاک ہونے والے پاکستانی شہری کی تدفین اُن کے آبائی علاقے باجوڑ میں کر دی گئی ہے۔ خیبر پختونخوا کے علاقے باجوڑ سے تعلق رکھنے والے 28 سالہ رضوان اللہ آٹھ ماہ قبل محنت مزدوری کی غرض سے سعودی عرب گئے تھے۔

سعودی عرب کے شہر ریاض میں شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہوئے حملے میں ہلاک ہونے والے پاکستانی شہری کی تدفین اُن کے آبائی علاقے باجوڑ میں کر دی گئی ہے۔

خیبرپختونخوا کے علاقے باجوڑ سے تعلق رکھنے والے 28 سالہ رضوان اللہ آٹھ ماہ قبل محنت مزدوری کی غرض سے سعودی عرب گئے تھے۔

رضوان کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ وہ 11 اکتوبر کو ایئرپورٹ پر ہوئے حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔ سعودی عرب کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے 12 اکتوبر کو اپنی پریس ریلیز میں ایک پاکستانی کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی، تاہم مرنے والے کا نام ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق گذشتہ ہفتے شاہ خالد ایئرپورٹ پر ہونے والے حملوں کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد ہلاک جبکہ 300 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ اِن حملوں میں سنیچر کی شب ہونے والا ایک حملہ بھی شامل ہے، جس میں 13 افراد مارے گئے تھے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے سنیچر کے حملے کو گذشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں سعودی سرزمین پر ہونے والا ’مہلک ترین حملہ‘ قرار دیا تھا۔

یمنی گروہ انصار اللہ کے مسلسل حملوں کے بعد سعودی دار الحکومت ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو کم از کم 17 اکتوبر تک بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

رضوان اللہ کے چچا زاد بھائی یونس خان نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ اُن کے کزن شاہ خالد ایئرپورٹ سے منسلک نجی کمپنی میں کام کرتے تھے اور اُن کی ڈیوٹی ایئرپورٹ پر موجود ٹرالیوں کے انتظام سے متعلق تھی۔

یونس خان کے بقول رضوان اللہ نے انھیں بتایا تھا کہ ایئرپورٹ پر ہوئے ابتدائی حملوں کے بعد انتظامیہ نے انھیں اور ٹرالی سیکشن میں کام کرنے والے چند دیگر افراد کو پانچ روز کی چھٹی دی تھی کیونکہ حالات سازگار نہیں تھے۔

یونس نے بتایا کہ ریاض میں رضوان اللہ کے ساتھ کام کرنے والے ان کے دوستوں نے بتایا کہ 11 اکتوبر کے بڑے حملے سے قبل ہوئے ایک چھوٹے حملے کے بعد رضوان اللہ سمیت دیگر افراد کو ایئرپورٹ پر ڈیوٹی پر بلایا گیا کیونکہ بکھری ہوئی چیزیں اور ٹرالیوں وغیرہ کو ترتیب سے رکھنا تھا ۔

یونس کے بقول انھیں بتایا گیا ہے کہ 11 اکتوبر کو جب یہ کام ختم ہوا اور مزدوروں کا یہ گروپ ٹرمینل تین سے واپس گاڑی میں بیٹھنے کے لیے روانہ ہوا تو باقی افراد تو گاڑی تک پہنچ گئے تاہم پیچھے رہنے کی وجہ سے رضوان گاڑی میں سوار نہ ہو سکے اور عین اسی دوران بڑا حملہ ہوا جس میں رضوان زخمی ہوئے اور بعد ازاں ہسپتال میں ہلاک ہو گئے۔

یونس کے مطابق اب جمعہ کو، چھ روز بعد اُن کی میت واپس پاکستان لائی گئی ہے، جس کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی ہے۔

یونس نے بتایا کہ رضوان کے تین بچے ہیں جن میں ایک بیٹی اور دوبیٹے شامل ہیں، جبکہ ان کیآخری بیٹے کی پیدائش آٹھ ماہ قبل ہی ہوئی تھی۔

یونس کے مطابق ریاض ائیر پورٹ کی بندش کی وجہ سے میت آنے میں تاخیر ہوئی کیونکہ پہلے سڑک کے ذریعے میت کو ریاض سے جدہ لانے کا انتظام کیا گیا اور اس کے بعد بذریعہ جہاز یہ میت اسلام آباد پہنچائی گئی۔

Riyadh
Getty Images
فائل فوٹو: سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے ایئر پورٹ پر تیل تنصیبات پر ہونے والے حملوں کے بعد وہاں مقیم پاکستانی بھی تشویش میں مبتلا ہیں

سعودی دار الحکومت ریاض میں بڑی تعداد میں پاکستانی شہری بھی رہتے ہیں، جو یہاں مختلف ملازمتیں اور کاروبار کرتے ہیں۔

ریاض ایئرپورٹ کو نہ صرف ان بڑے حملوں کا سامنا رہا ہے بلکہ سعودی حکام کے مطابق گذشتہ دو ہفتوں کے دوران اس شہر پر ہونے والے حوثیوں کے کئی مبینہ حملے ناکام بھی بنائے گئے ہیں۔

اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے سعودی حکام نے شہریوں کی حفاظت کے پیش نظر کئی حفاظتی اقدامات بھی متعارف کروائے ہیں، جبکہ حکام کا دعویٰ ہے کہ حملوں کے باوجود سعودی عرب میں معمول کی زندگی رواں دواں ہے۔

تاہم بی بی سی اُردو سے بات کرنے والے ریاض میں مقیم پاکستانی شہریوں کا کہنا ہے کہ لوگوں کے دلوں میں خدشات موجود ہیں اور اگرچہ زندگی چل رہی ہے مگر انجانا سا خوف بھی سب کے ذہنوں میں موجود رہتا ہے۔

بی بی سی اُردو سے بات کرنے والے ان پاکستانیوں کے نام اُن کی حفاظت کے پیش نظر تبدیل کیے گئے ہیں کیونکہ اُن کے مطابق انھیں حکام کی جانب سے تسلسل سے موبائل فون اور سوشل میڈیا پر پیغامات موصول ہوتے ہیں، جن میں تصاویر اور ویڈیوز شیئر نہ کرنے اور تفصیلات فراہم کرنے کے حوالے سے متنبہ کیا گیا ہوتا ہے اور خلاف ورزی پر کڑی کارروائی کی بات کی گئی ہوتی ہے۔

’اب ذہن میں انجانا سا خوف رہتا ہے‘

زبیر اکرم (فرضی نام) سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر صفائی ستھرائی کے کام پر مامور عملے کے اراکین میں سے ایک ہیں۔ اُن کا تعلق پاکستان سے ہے اور وہ گذشتہ آٹھ برس سے اس ایئرپورٹ پر کام کرتے ہیں۔

سنیچر کی شب حوثی گروہ کی جانب سے اس ایئرپورٹ پر کیے گئے بڑے حملے کے وقت وہ یہاں موجود نہیں تھے کیونکہ اُس روز ان کی شفٹ نہیں تھی۔ تاہم اُن کے مطابق اگلے روز انھیں اپنے ساتھیوں سے اس حملے کی تفصیلات ملی تھیں۔

اُن کے مطابق انھیں اُن کے ساتھیوں نے بتایا تھا کہ دھماکہ انتہائی شدید تھا اور متاثرہ جگہ پر بہت سے زخمی لوگ چیخ رہے تھے اور مدد کو پکار رہے تھے۔

اُن کے مطابق وہ دو روز بعد جب اپنی شفٹ کے مطابق وہ واپس ایئرپورٹ پہنچے تو وہاں حملے کے اثرات بدستور موجود تھے۔ ’یہ ایئرپورٹ اچانک ایسی جگہ بن گیا ہے جہاں اب ہمیں اپنی حفاظت کے بارے میں سوچنا پڑتا ہے اور دل میں خدشات رہتے ہیں۔‘

ان کے مطابق چونکہ ایئرپورٹ پر تمام آپریشنز معطل ہیں اس لیے عملے کی تعداد بھی وہاں کم کر دی گئی ہے۔ زبیر اکرم کے مطابق پاکستان میں موجود اُن کے گھر والے بھی اس صورتحال پر پریشان ہیں اور یہ صورتحال اُن کی پریشانی کو مزید بڑھا دیتی ہے۔

’معمول کی زندگی تو اب بھی چل رہی ہے مگر حالیہ حملوں کے بعد دل میں خوف سا بیٹھ گیا ہے۔ سعودی عرب کے مختلف مقامات پر حملوں کی اطلاعات پہلے بھی ملتی تھیں، مگر ریاض میں سکون تھا اور یہاں ہم ہمیشہ انتہائی محفوظ محسوس کرتے تھے، مگر اب پہلے جیسا اطمینان اور تحفظ محسوس نہیں ہوتا۔‘

Riyadh
Getty Images
ایک ہفتے کے دوران ریاض ایئر پورٹ ہونے والے حملوں میں 18 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے

’لوگ اب یہ بات کر رہے ہیں کیا ریاض اب محفوظ ہے؟‘

Riyadh
Getty Images

ریاض میں مقیم اسما اور اُن کے شوہر کا تعلق بھی پاکستان سے ہے اور یہ دونوں میاں، بیوی تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ اُن کے مطابق تعلیمی ادارے بند ہونے کے باعث وہ گھر سے آن لائن کلاسیں لے رہے ہیں۔

اسما بتاتی ہیں کہ موجودہ حالات میں انھیں خوف محسوس ہوتا ہے۔ ’گھر سے کلاسیں لی جا رہی ہیں اور تدریسی سرگرمیاں بدستور جاری ہیں، لیکن اس سے تشویش تو ختم نہیں ہوتی۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ان حملوں کے بعد ریاض میں مقیم بہت سے غیر ملکیوں کو انھوں نے یہ بحث کرتے دیکھا کہ کیا اب ریاض واقعی محفوظ مقام ہے۔

اسما بتاتی ہیں کہ اُن کے سکول میں داخل بیشتر بچے اُن پاکستانی اور انڈین شہریوں کے ہیں، جو یہاں محنت مزدوری کرتے ہیں۔

’ہمارا رابطہ اور ہمارا سکول غیر ملکی محنت کشوں کے بچوں ہی پر مشتمل ہے، وہ بھی اپنے روزگار کے حوالے سے متفکر ہیں۔‘

ریاض کے ایک ہوٹل میں کام کرنے والے مجتبیٰ خان کہتے ہیں موجودہ صورتحال کے باعث اُن کے ہوٹل میں کام کم ہو گیا ہے۔

’لوگوں کے دلوں میں ڈر ہے اور آج کل وہ زیادہ باہر نہیں نکلتے۔ آپ کہہ لیں کہ ہوٹل پر کام بہت کم ہوا ہے، زیادہ تر اب ہم فارغ ہی بیٹھے ہوتے ہیں۔‘

KSA
Getty Images
چند روز قبل ریاض کے نواح میں آرامکو کی تنصیب پر ہونے والے حملے کے بعد آگ اور دھواں اُٹھ رہا ہے

’جس ہوٹل میں کام کرتا ہوں وہ تقریباً خالی ہو چکا ہے‘

خدمات کے شعبوں سے وابستہ افراد اس صورتحال سے متاثر نظر آتے ہیں۔ ایک فور سٹار ہوٹل میں کام کرنے والے پاکستانی شہری عبداللہ کے مطابق ان کے ہوٹل کی کئی بکنگز منسوخ ہوئی ہیں اور اُب ان کا ہوٹل لگ بھگ خالی ہے۔

اُن کے مطابق ایسا اس لیے ہے کیونکہ ریاض کا سب سے بڑا ایئرپورٹ گذشتہ پانچ روز سے مکمل بند ہے اور اس سے قبل بھی وہاں فضائی آپریشنز متاثر تھے اور کئی پروازیں منسوخ ہو رہی تھیں۔

انھوں نے کہا کہ اُن کا ہوٹل چونکہ ایئرپورٹ کے قریب ہے اور وہاں تر بکنگ دیگر ممالک سے آنے والے مسافروں کی ہی ہوتی تھی۔

عبداللہ کا کہنا ہے کہ اُن کی ماہانہ اجرت کچھ زیادہ نہیں تھی اور چونکہ اب کام نہیں ہے تو ہوٹل والوں نے انھیں کہا کہ وہ کام پر آنے کے لیے اگلی کال کا انتظار کریں۔

یاد رہے کہ ریاض ایئرپورٹ پر حالیہ حملوں کے بعد متحدہ عرب امارات کی قومی فضائی کمپنی ’اتحاد ایئرویز‘ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ابوظہبی اور ریاض کے لیے اپنی تمام پروازیں 19 اکتوبر تک منسوخ کر دی ہیں۔ اس کے علاوہ اتحاد ایئرویز کی جانب سے ابوظبی سے جدہ اور دمام جانے والی پروازیں بھی معطل کی گئی ہیں۔

قطر ایئرویز نے بھی ’موجودہ صورتحال‘ کے پیش نظر ریاض اور دمام کے لیے اپنی پروازیں عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

بحرین کی ’گلف ایئر‘ نے کہا ہے کہ اس نے آئندہ ہفتے کے روز تک ریاض کے لیے اپنی پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔

دیگر کئی ممالک نے اپنے شہریوں کو موجود حالات میں ریاض کا سفر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ جو شہری پہلے سے وہاں موجود ہیں انھیں انتہائی احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

Riyadh
Getty Images

نصیر اللہ گذشتہ کئی عرصے سے ریاض میں بطور ٹیکسی ڈرائیور کام کرتے ہیں۔ اُن کے مطابق ان کا دن کا زیادہ تر وقت شاہ خالد ایئرپورٹ اور اس کے اطراف میں ہی گزرتا ہے۔

وہ کہتے ہیں ’اس ٹیکسی پر میں روزانہ 250 ریال سے لے کر 400 ریال تک آسانی سے کما لیتا تھا جس میں سے 40 فیصد میرے سعودی پارٹنر کو چلا جاتا تھا اور باقی مجھے بچ جاتے تھے۔‘

ان کے مطابق مگر اب گذشتہ کئی دن سے صورتحال خراب ہے اور ایئرپورٹ اور سیاحوں سے متعلق کوئی خاص کام نہیں ہے۔

’اب صورتحال خراب ہو چکی ہے۔ اب دن میں 50 ریال بھی نہیں بچ پاتے کیونکہ کام ہی نہیں ہے۔‘

تاہم وہ پرامید ہیں کہ صورتحال میں جلد بہتری آئے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ انھوں نے لوگوں کے چہروں پر خوف تو نہیں دیکھا مگر سڑکوں پر ٹریفک بہت کم ہے اور لوگ زیادہ باہر نہیں نکل رہے ہیں۔

شہریوں کو درپیش اس صورتحال کے باوجود سعودی حکام کا دعویٰ ہے کہ ریاض میں زندگی معمول کے مطابق ہے۔

سعودی عرب کے وزیر اطلاعات سلمان بن یوسف الدوسری نے 12 اکتوبر کو اپنے بیان میں کہا کہ ’خدا کا شکر ہے کہ مملکت میں زندگی معمول کے مطابق رواں دواں ہے۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US