فیس بک کی سرپرست کمپنی میٹا کو پرائیویسی قوانین کی سنگین خلاف ورزی پر ریکارڈ 25 ارب ڈالرز جرمانے کی سزا سنا دی گئی ہے۔
امریکی ریاست نیو میکسیکو کی ایک ڈسٹرکٹ کورٹ نے کیمبرج اینالیٹیکا اسکینڈل کیس میں یہ فیصلہ سنایا۔
عدالتی جیوری نے ستمبر 2026 میں دریافت کیا تھا کہ کمپنی نے نیو میکسیکو کے 'ان فیئر پریکٹیسز ایکٹ' کی 4 کروڑ 30 لاکھ سے زائد بار خلاف ورزی کی ہے۔
جج فرانسس میتھیو نے فیصلے میں میٹا کے بزنس ماڈل اور صارفین سے کی جانے والی غلط بیانی پر سخت تنقید کی، جبکہ دوسری جانب میٹا نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
واضح رہے کہ نیو میکسیکو نے 2021 میں میٹا کے خلاف صارفین کا ڈیٹا غلط طریقے سے استعمال کرنے پر مقدمہ دائر کیا تھا، جو کہ 2018 میں سامنے آنے والے کیمبرج اینالیٹیکا اسکینڈل سے منسلک ہے جس میں 8 کروڑ 70 لاکھ سے زائد صارفین کی معلومات کا غیر قانونی استعمال ہوا تھا۔