"میرا ابتدائی علاج پاکستان میں مکمل ہوچکا ہے اور اب میری جان کو کوئی خطرہ نہیں، لیکن چہرے کی بحالی کے لیے مزید آپریشن ضروری ہیں۔ امریکا میں میری سرجری کا انتظام ہوچکا ہے، مگر مجھے ویزا نہیں مل رہا۔ میں امریکی سفیر سے درخواست کرتی ہوں کہ میرا ویزا جلد منظور کیا جائے تاکہ میرا علاج آگے بڑھ سکے۔ میں بلوچستان حکومت کی شکر گزار ہوں جس نے میرے علاج کے تمام اخراجات برداشت کیے۔ اگرچہ یہ آپریشن پاکستان میں بھی ممکن ہے، لیکن امریکا میں اس کے بہتر نتائج کی امید ہے۔"
یہ درد بھری اپیل بلوچستان سے تعلق رکھنے والی نوجوان ڈاکٹر ماہ نور کی ہے، جو جون 2026 میں تیزاب گردی کا نشانہ بنی تھیں۔ اطلاعات کے مطابق اسپتال کے ایک ملازم نے ان کے چہرے پر تیزاب پھینک دیا تھا اور موقع سے فرار ہوگیا تھا۔ حملے میں ان کا چہرہ اور جسم بری طرح متاثر ہوا، جبکہ ایک آنکھ کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
کئی ماہ تک علاج کروانے کے بعد ڈاکٹر ماہ نور کی حالت اب خطرے سے باہر ہے، تاہم ان کی مکمل صحت یابی کے لیے مزید سرجریاں درکار ہیں۔ حالیہ انٹرویو میں انہوں نے اعلیٰ حکام سے ویزے کے معاملے میں فوری مدد کی درخواست کی ہے تاکہ علاج میں مزید تاخیر نہ ہو۔
ڈاکٹر ماہ نور کی اپیل سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعائیں کر رہے ہیں۔ بعض افراد نے بیرونِ ملک علاج کے لیے مدد کی پیشکش بھی کی، جبکہ ایک بھارتی صارف نے انہیں بھارت آکر علاج کروانے کا مشورہ دیا۔