پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں آٹے کی فراہمی کے نظام میں تبدیلی کا فیصلہ کرتے ہوئے 20 کلو آٹے کا تھیلا بند کرنے اور مارکیٹ میں صرف 10 کلو آٹے کا تھیلا متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں گندم کی کاشت، غذائی اجناس کی دستیابی، قیمتوں کے استحکام اور زرعی پیداوار میں اضافے کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔ وزیراعلیٰ نے گندم اور آٹے کی غیر قانونی نقل و حمل اور اسمگلنگ روکنے کے لیے بین الصوبائی سرحدوں کی مؤثر نگرانی کی ہدایت کی۔
مریم نواز شریف نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو اپنے اضلاع میں گندم کی بوائی کے مقررہ اہداف حاصل کرنے اور سرکاری اراضی پر گندم کی کاشت یقینی بنانے کا حکم دیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نمبردار، گھوڑی پال اسکیم اور ’’اپنا کھیت، اپنا روزگار‘‘ اسکیم کے تحت آنے والی تمام اراضی پر گندم کاشت کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ نے رمضان المبارک کے دوران کیلے، سیب اور کھجور کی کنٹرول نرخوں پر دستیابی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ہر ڈپٹی کمشنر اپنے علاقے میں کولڈ اسٹوریج کی گنجائش اور ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان پھلوں کا مناسب ذخیرہ یقینی بنائے۔
اجلاس میں سبزیوں، دالوں اور دیگر اجناس سمیت 15 اشیائے خورونوش کی قیمتوں کا تقابلی جائزہ بھی پیش کیا گیا، جبکہ پنجاب میں پہلی مرتبہ ’’ٹرانسفارمنگ مارکیٹ ویسٹ ان ٹو ویلتھ‘‘ منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں پامرا کے تحت آف سیزن سبزیوں اور پھلوں کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے ڈی ہائیڈریشن منصوبے کی منظوری بھی دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے کاہنہ میں سبزیوں اور پھلوں کے لیے پنجاب کے پہلے منڈی مارٹ منصوبے پر کام جلد مکمل کرنے اور صوبے بھر میں مزید منڈی مارٹس قائم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کی ہدایت کی۔
مریم نواز شریف نے کھلے دودھ کی فروخت کو ضابطے میں لانے اور اس حوالے سے مؤثر اقدامات کرنے کا حکم بھی دیا۔
حکومت کے مطابق ان اقدامات کا مقصد اشیائے خورونوش کی مسلسل فراہمی، قیمتوں میں استحکام، زرعی پیداوار میں اضافہ اور گندم سمیت دیگر غذائی اجناس کی غیر قانونی نقل و حمل کی روک تھام یقینی بنانا ہے۔