1980 اور 1990 کی دہائیوں میں ممبئی انڈیا کے انڈرورلڈ، گینگ وار اور مافیا سرگرمیوں کا مرکز بن گیا تھا۔ منیا سروو کے انکاؤنٹر سے شروع ہونے والے پولیس مقابلوں کا سلسلہ بعد میں داؤد ابراہیم، چھوٹا راجن، ارون گاؤلی اور دیگر جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف منظم کارروائیوں میں تبدیل ہو گیا۔ پردیپ شرما، وجے سالسکر، دیا نائک اور دیگر افسران ’انکاؤنٹر سپیشلسٹ‘ کے طور پر مشہور ہوئے۔
: پولیس انسپکٹر پردیپ شرما اپنی ٹیم کے ساتھممبئی پولیس کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو ایک ایسا دور ذہن میں آتا ہے جب یہ شہر ’انکاؤنٹرز‘ کے لیے مشہور تھا۔
اس موضوع پر متعدد فلمیں بھی بن چکی ہیں کہ ممبئی کے جرائم پیشہ گینگز اور ان کے درمیان ہونے والی خونریز لڑائیوں کا خاتمہ کرنے کے لیے پولیس نے کس طرح گینگ لیڈروں کو انکاؤنٹرز میں مارا۔
یہ الگ بحث ہے کہ ان فلموں میں کتنی حقیقت ہے، لیکن ایک وقت تھا جب ممبئی میں ’انکاؤنٹر‘ کا لفظ نہایت عام تھا، اور آج بھی یہ بحث کا موضوع بنتا رہتا ہے۔
انکاؤنٹرز کی سنسنی خیز کہانیاں ممبئی کی تاریخ کے کئی عشروں تک پھیلی ہوئی ہیں۔
تاریخ کے صفحات کو پلٹتے ہوئے 28 برس قبل پیش آنے والے ایک واقعے کا ذکر ضروری معلوم ہوتا ہے۔
سات اپریل 1991 کو ممبئی کے علاقے آگری پاڑا میں 13 سالہ لڑکی کا ریپ کیا گیا۔ اس مقدمے میں دو ملزمان، 27 سالہ بالی ناندیوڈیکر اور 28 سالہ بابا پرمیشور نامزد تھے، جو ’بابا۔بالی‘ کے نام سے مشہور تھے۔
اس واقعے میں ملزمان کو ہلاک کرنے کے لیے کیا کارروائی کی گئی، اس بارے میں پولیس افسران امباداس پوٹے اور سدھیر نرگڈکر نے بعد میں تفصیلات بیان کیں۔
ملزمان لڑکی کا تعاقب کرتے ہوئے اس کے گھر تک پہنچے تھے۔ وہاں انھوں نے لڑکی کے والد کو قابو میں کیا، باپ اور بیٹی کو قتل کی دھمکی دی اور لڑکی کو نشہ آور اشیا پلانے کے بعد اس کا ریپ کیا۔ اس واقعے نے پورے ممبئی کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
اس وقت کے ڈی سی پی (ڈپٹی کمشنر پولیس) اروپ پٹنائک نے دونوں ملزمان کو پکڑنے کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی، جس میں امباداس پوٹے اور سدھیر نرگڈکر بھی شامل تھے۔
امباداس پوٹے کو اطلاع ملی کہ دونوں ملزمان ایک اور جرم کرنے سانتا کروز کے علاقے کالینا میں آنے والے ہیں۔ پولیس اہلکار ان کی گرفتاری کے لیے گھات لگا کر بیٹھ گئے۔
انھیں ملنے والی اطلاع درست تھی۔
جونہی ملزمان وہاں پہنچے اور کالینا کے علاقے میں داخل ہوئے، تو انھیں اندازہ ہو گیا کہ پولیس ان کا تعاقب کر رہی ہے، کیوں کہ سدھیر نرگڈکر نے پولیس یونیفارم پہن رکھی تھی۔
دونوں وہاں سے بھاگنے لگے۔
تصویری عنوان: منوہر ارجن سروو عرف منیا سروو، جو ایک زمانے میں ممبئی کے بد نام زمانہ گینگسٹر تھےپوٹے بتاتے ہیں کہ ہم نے ملزمان کو رکنے کا کہا تھا۔
’ہم وہاں فوری کارروائی نہیں کر سکتے تھے کیونکہ وہ گنجان آبادی والا علاقہ تھا۔‘
اس وقت پوٹے کے ساتھ بابا رانے نامی ایک پولیس کانسٹیبل بھی تھے، جو ملزمان کا تعاقب کر رہے تھے۔
ناندیوڈیکر نے بابا رانے کے سینے پر چُھرے سے حملہ کیا۔ شدید زخمی ہونے کے بعد دوسرے پولیس اہلکار انھیں علاج کے لیے قریبی ہسپتال لے گئے۔
کچھ دیر بعد دوسرے ملزم پرمیشور نے سدھیر نرگڈکر پر بھی چُھرے سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں وہ بھی زخمی ہو گئے۔
تاہم، جان لیوا حملوں کے باوجود نرگڈکر اور پوٹے نے بابا اور بالی کا پیچھا جاری رکھا اور اپنے ریوالوروں سے فائرنگ کی، جس سے دونوں ملزمان زمین پر گر پڑے۔
28 برس قبل ہونے والے اس پولیس مقابلے میں دونوں ملزمان مارے گئے تھے۔ اس کارروائی میں شامل امباداس پوٹے بعد میں ڈی سی پی کے عہدے سے ریٹائر ہوئے، جبکہ سدھیر نرگڈکر اس وقت میگھ واڑی پولیس سٹیشن میں سینیئر پولیس انسپکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
اس واقعے کے بعد ممبئی میں ایک دو نہیں، بلکہ متعدد پولیس مقابلے ہوئے۔
گینگ وار، گینگسٹر، ڈان، مافیا، قتل اور سمگلنگ جیسے الفاظ ممبئی کی روز مرہ زندگی کا حصہ بن گئے تھے۔ وہ ایک نہایت پُر تشدد دور تھا۔
تاہم، ہم صرف انکاؤنٹر کے بارے میں بات کرنے والے ہیں اور اس کی شروعات منیا سروو سے ہوتی ہے۔
ممبئی میں پہلا ’انکاؤنٹر‘
1993 میں ممبئی میں سلسلہ وار بم دھماکوں کے بعد پولیس مقابلوں (انکاؤنٹرز) میں نمایاں اضافہ ہوا تھامنوہر ارجن سروو، عرف منیا سروو کا شمار ایک وقت میں ممبئی کے بد نام ترین گینگسٹرز میں ہوتا تھا۔
منیا سروو نے دادر کے کیرتی کالج سے تعلیم حاصل کی تھی اور 1970 اور 1980 کی دہائیوں میں ممبئی کی جرائم پیشہ دنیا میں ان کا خاصا اثر و رسوخ تھا۔ انھیں اُس ڈان کے طور پر بھی جانا جاتا تھا جس نے داؤد ابراہیم کو چیلنج کیا تھا۔
10 جنوری 1980 کو منیا سروو اپنی دوست کے ساتھ ممبئی کے امبیڈکر کالج کے باہر واقع ایک بیوٹی پارلر آئے تھے۔
منیا سروو کے انکاؤنٹر میں شامل سابق پولیس افسر آئزک بگوان نے روزنامہ ہندوستان ٹائمز سے گفتگو میں کہا تھا: ’ہمارا مقصد منیا کو مارنا نہیں تھا۔ ہم انھیں گرفتار کر کے عدالت تک پہنچانا چاہتے تھے، لیکن اس وقت اپنے دفاع میں ہمیں فائرنگ کرنا پڑی۔‘
منیا سروے کے اس انکاؤنٹر کو ممبئی ہی نہیں بلکہ پورے انڈیا کا پہلا معروف پولیس انکاؤنٹر بھی قرار دیا جاتا ہے۔
1983 کا بیچ
پولیس انسپکٹر پردیپ شرماممبئی میں پولیس مقابلوں (انکاؤنٹرز) کی تاریخ میں 1983 کے بیچ سے تعلق رکھنے والے پولیس افسران کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
سینیئر صحافی ایس حسین زیدی نے روزنامہ ہندوستان ٹائمز میں شائع اپنے ایک مضمون میں 1983 کے بیچ کو ’کِلر بیچ‘ قرار دیا تھا۔ ان کے مطابق اس بیچ کے افسران نے ممبئی کے جرائم پیشہ نیٹ ورکس میں خوف پیدا کر دیا تھا۔
انسپکٹر پردیپ شرما، پرفل بھوسلے، وجے سالسکر، رویندر آنگرے اور اسلم مومن جیسے افسران کو ناسک پولیس ٹریننگ سکول میں خصوصی تربیت دی گئی تھی۔ اگرچہ ان کا بیچ 1983 کا کہلاتا ہے، تاہم یہ افسران 1984 میں پولیس سروس میں شامل ہوئے تھے۔
جب پردیپ شرما نے گذشتہ اسمبلی انتخابات میں حصہ لیا تھا تو بی بی سی مراٹھی نے 18 اکتوبر کو سابق ڈائریکٹر جنرل پولیس اروند انامدار سے گفتگو کی تھی۔
1983 کے بیچ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اروند انامدار نے کہا: ’1990 کی دہائی میں ممبئی میں بڑے پیمانے پر گینگ وار شروع ہو گئی تھی۔ اس وقت پولیس افسران کی ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔
’اس ٹیم نے سب سے پہلے داؤد ابراہیم کے خلاف چھاپہ مارا اور ساڑھے تین کروڑ روپے مالیت کا سونا ضبط کیا۔ بعد ازاں ارون گاؤلی، چھوٹا شکیل اور دیگر ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ اُس زمانے میں یہ تمام افسران انتہائی مؤثر انداز میں کام کر رہے تھے۔‘
انامدار کے مطابق: ’یہ سب بہترین لڑاکا افسران تھے۔ انھیں اسی مقصد کے لیے تربیت دی گئی تھی۔ فسادات، بم دھماکوں اور دہشت گرد حملوں جیسے حالات سے نمٹنے کے لیے وہ مکمل طور پر تربیت یافتہ اور تیار تھے۔‘
اروند انامدار کا آٹھ نومبر 2019 کو انتقال ہو گیا تھا۔
جب ممبئی مافیا کے سائے میں تھا
مبئی میں 1980 کی دہائی کے دوران ڈاک یارڈ کے ذریعے بڑے پیمانے پر سمگلنگ ہوتی تھی۔ اسی دور میں متعدد جرائم پیشہ گروہ وجود میں آئےجب 1983 کے بیچ سے تعلق رکھنے والے افسران پولیس سروس میں آئے تو انڈرورلڈ ڈان داؤد ابراہیم ملک چھوڑ چکے تھے۔ اس وقت ممبئی گینگسٹرز اور مافیا گروہوں کے خلاف ایک مشکل جنگ لڑ رہا تھا۔ 1983 کے بیچ کے افسران داؤد ابراہیم، چھوٹا راجن اور ارون گاؤلی کی گینگز کے خلاف کارروائیوں میں مصروف تھے۔
سینیئر صحافی عابد شیخ کہتے ہیں: ’1980 کی دہائی میں انڈرورلڈ کا دائرہ بہت وسیع ہو چکا تھا۔ داؤد ابراہیم، امر نائیک اور ارون گاؤلی کے بڑے گروہ تھے اور مالی مفادات پر ان کے درمیان گینگ وار جاری رہتی تھی۔‘
ان کے مطابق: ’جسے آج ہم انکاؤنٹر کلچر کہتے ہیں، اس کا پھیلاؤ اسی دور میں شروع ہوا تھا۔‘
سینیئر صحافی رام پوار کہتے ہیں: ’1980 کی دہائی میں بندرگاہوں اور ڈاک یارڈز کے ذریعے بڑے پیمانے پر سمگلنگ ہوتی تھی۔ اس زمانے میں دبئی سے آنے والے کپڑوں کی زبردست مانگ تھی۔ کنٹینروں کے ذریعے سمگل شدہ سامان آتا تھا۔
’اسی کاروبار کے گرد جرائم پیشہ گروہ بنے اور مالی مفادات کے ٹکراؤ نے گینگ وار کو جنم دیا۔‘
تاہم سینیئر صحافی ایس حسین زیدی ممبئی میں انکاؤنٹرز کے دور کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں: 1990 کی دہائی سے پہلے اور اس کے بعد۔
بی بی سی مراٹھی سے بات کرتے ہوئے زیدی نے کہا: ’1990 کی دہائی سے پہلے انکاؤنٹرز کبھی کبھار ہوتے تھے۔‘
اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے حسین زیدی نے کہا: ’مثال کے طور پر 1982 میں آئزک بگوان نے منیا سروو کا انکاؤنٹر کیا، 1987 میں سب انسپکٹر راجیندر کاتدھرے نے راما نائیک کو مارا جبکہ اسی سال سب انسپکٹر ایمانوئل امولک نے محمود کالیا کو قتل کیا۔‘
لیکن 1990 کی دہائی، اور خاص طور پر 1993 کے بم دھماکوں کے بعد، انکاؤنٹرز معمول کی بات بنتے گئے۔
1995 میں پولیس افسر آر ڈی تیاگی نے کرائم برانچ اور مختلف زونز کے ڈپٹی کمشنروں کو ہدایت دی کہ ہر علاقے کے 10 انتہائی مطلوب مجرموں کی فہرست تیار کی جائے۔
دوسری جانب اُس وقت کے ڈی سی پی ستیہ پال سنگھ اور پرمبیر سنگھ نے ایک خصوصی انکاؤنٹر اسکواڈ تشکیل دیا، جس میں 1983 کے بیچ کے کئی افسران شامل تھے۔
اس یونٹ کی قیادت پرفل بھوسلے، وجے سالسکر اور پردیپ شرما کے سپرد کی گئی۔ انھیں خصوصی اختیارات دیے گئے اور انھوں نے ممبئی کے مافیا گینگز کے خلاف بھرپور کارروائیاں شروع کیں۔
سینیئر صحافی رام پوار کے مطابق 1993 کے بعد پولیس اور اُس وقت کی سیاسی قیادت کی جانب سے گینگ وار کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششوں کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے تھے۔
وہ کہتے ہیں: ’1998 کے بعد گینگ وار کے واقعات میں واضح کمی آ گئی تھی۔ اس وقت تک کئی گینگسٹر پولیس مقابلوں میں مارے جا چکے تھے، جبکہ داؤد ابراہیم اور چھوٹا راجن جیسے ڈان ملک چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے۔
’البتہ بیرونِ ملک بھی ان کے درمیان دشمنی جاری رہی۔ برطانیہ میں چھوٹا راجن پر ہونے والا حملہ بھی اسی گینگ وار کا حصہ تھا۔‘
’انکاؤنٹر سپیشلسٹ‘
پردیپ شرما اور سچن وازےوقت گزرنے کے ساتھ یہ پولیس افسران ’انکاؤنٹر سپیشلسٹ‘ کے طور پر مشہور ہو گئے تھے۔ تاہم ممبئی پولیس کے سابق سربراہ جولیو ریبیرو کے مطابق: ’پولیس محکمے میں انکاؤنٹر سپیشلسٹ جیسی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ سب کو ایک جیسی تربیت دی جاتی ہے۔‘
سینیئر صحافی رام پوار کا کہنا ہے: ’اگرچہ پولیس میں انکاؤنٹر سپیشلسٹ جیسی کوئی رسمی حیثیت نہیں ہوتی، لیکن ان افسران کے پاس مخبروں کا ایک وسیع نیٹ ورک تھا، جس سے وہ فائدہ اٹھاتے تھے۔ ہر افسر کے پاس ایسا نیٹ ورک نہیں ہوتا۔‘
سینیئر صحافی عابد شیخ کہتے ہیں: ’پولیس فورس میں انکاؤنٹر سپیشلسٹ نام کی کوئی باضابطہ پوسٹ یا درجہ نہیں ہوتا، لیکن ان افسران نے اپنی جرات اور کارروائیوں کی وجہ سے یہ شناخت حاصل کی۔ ایسی کارروائیوں کے لیے مضبوط اعصاب اور غیر معمولی حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔‘
عابد شیخ مزید کہتے ہیں: ’ہر پولیس مقابلے کی تفتیش ہوتی ہے۔ اس دوران ثبوت پیش کرنے پڑتے ہیں اور اپنی کارروائی کا جواز بھی دینا ہوتا ہے۔ اگر کسی افسر کا حوصلہ مضبوط نہ ہو تو وہ ایسی کارروائی نہیں کر سکتا۔ ورنہ ممبئی میں اتنے پولیس اہلکار موجود تھے، سب نے ایسی کارروائیاں کیوں نہیں کیں؟‘
ممبئی میں گینگ وار کے خاتمے میں پردیپ شرما، دیا نائک، سچن وازے، رویندر آنگرے اور وجے سالسکر جیسے افسران نے نمایاں کردار ادا کیا تھا۔
پولیس افسران کے درمیان اندرونی اختلافات
انڈیا کے انتہائی مطلوب مجرموں میں شامل داؤد ابراہیمممبئی میں پولیس مقابلوں (انکاؤنٹرز) کی تاریخ جتنی مشہور رہی، اتنی ہی بعض اوقات انکاؤنٹر سپیشلسٹ سمجھے جانے والے افسران کے درمیان اختلافات کی کہانیاں بھی زیرِ بحث رہیں۔ ان میں سب سے زیادہ شہرت پردیپ شرما اور وجے سالسکر کے درمیان مبینہ اختلافات کو ملی۔
چند روز قبل ٹی وی نائن مراٹھی سے گفتگو کرتے ہوئے پردیپ شرما نے کہا تھا: ’یہ بات میڈیا نے پھیلائی تھی کہ میری اور سالسکر کی آپس میں نہیں بنتی۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’حقیقت میں ایسا کچھ نہیں تھا۔ ہمارے درمیان صرف مخبروں کے معاملے پر مقابلہ رہتا تھا۔ اگر کوئی مخبر اس کے ساتھ ہوتا تو میں اسے اپنی طرف کرنے کی کوشش کرتا، اور اگر کوئی میرے ساتھ ہوتا تو وہ اسے اپنی طرف لانے کی کوشش کرتا۔
’لیکن ہمارے درمیان کبھی بات چیت بند ہونے جیسی کوئی صورت حال نہیں تھی۔‘
پردیپ شرما نے زور دیتے ہوئے کہا: ’شہید وجے سالسکر میرے گہرے دوست تھے۔ پولیس ٹریننگ میں اہلکاروں کے گروپ عموماً نام کے پہلے حرف کی بنیاد پر بنائے جاتے ہیں۔‘
انھوں نے بتایا: ’ان کا خاندانی نام سالسکر تھا اور میرا شرما، اسی وجہ سے ہم 1983 میں تربیت کے دوران ایک ہی گروپ میں تھے۔ ہم پورا سال ساتھ رہے۔ ممبئی آنے کے بعد بھی کئی برس تک اکٹھے کام کیا۔ کرائم برانچ میں بھی ہم ایک ساتھ تعینات رہے اور کئی بڑی کارروائیاں مل کر انجام دیں۔‘
پردیپ شرما کے مطابق: ’آج بھی وجے سالسکر کے ساتھ کیا گیا کام یاد آتا ہے۔ میرے خیال میں وجے سالسکر مخبروں کا سب سے بڑا نیٹ ورک رکھنے والے پولیس افسر تھے۔ ان کا نیٹ ورک میرے مقابلے میں سو گنا بڑا تھا۔‘
متنازع انکاؤنٹر
ممبئی پولیس کے ’انکاؤنٹر سپیشلسٹ‘ پردیپ شرماجہاں بھی ’انکاؤنٹر‘ کا ذکر آتا ہے، وہیں تنازع بھی جنم لیتا ہے۔ ممبئی میں ہونے والے متعدد پولیس مقابلے متنازع رہے ہیں، جن میں لکھن بھیا انکاؤنٹر سب سے زیادہ زیرِ بحث رہا۔
2009 میں رام نارائن گپتا عرف لکھن بھیا کے قتل کے مقدمے میں پردیپ شرما کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اس مقدمے میں مجموعی طور پر 13 پولیس افسران کی گرفتاری عمل میں آئی تھی۔
تھانے کی مرکزی جیل میں چار سال گزارنے کے بعد 2013 میں پردیپ شرما کو رہا کر دیا گیا تھا۔
مہاراشٹر کا پہلا انکاؤنٹر احمد نگر میں؟

اگرچہ منیا سروو کے انکاؤنٹر کو اکثر مہاراشٹر کا پہلا پولیس انکاؤنٹر قرار دیا جاتا ہے، لیکن بعض افراد اس رائے سے اتفاق نہیں کرتے۔
سینیئر صحافی عابد شیخ کہتے ہیں: ’منیا سروو کا انکاؤنٹر ممبئی میں ریکارڈ پر آنے والا پہلا انکاؤنٹر ضرور ہے، لیکن مہاراشٹر میں اس سے پہلے بھی ایک پولیس مقابلہ ہو چکا تھا۔
’احمد نگر ضلع کے سنگم نیر میں کِسن ساوجی نامی ایک گینگسٹر پولیس مقابلے میں مارے گئے تھے۔ پولیس سب انسپکٹر گریدھر ڈھمن نے انھیں ہلاک کیا تھا۔‘