ہین جی کیسلنگ لکھتے ہیں کہ ’اپنی تقرری کی خبر سُن کر وہ (وحید کاکڑ) بھی اتنے ہی حیران ہوئے جتنے دوسرے لوگ، کیونکہ کئی مضبوط امیدوار اس اعلیٰ ترین فوجی منصب پر ترقی پانے کی امید لگائے بیٹھے تھے۔ تاہم، غلام اسحاق خان نے کمال مہارت سے اپنے پتے کھیلے اور نواز شریف سمیت سب کو حیران کر دیا۔‘
سنہ 1993 سے 1996 تک پاکستانی فوج کے سربراہ رہنے والے جنرل عبدالوحید کاکڑ، پیر (26 اکتوبر) کی صبح 89 برس کی عمر میں وفات پا گئے۔
23 مارچ 1937 کو پشاور میں پیدا ہونے والے عبدالوحید کا تعلق پشتو بولنے والے بڑے قبائل میں شمار کاکڑ قبیلے سے تھا، جس کی اکثریت بلوچستان اور افغانستان کے علاقوں میں آباد ہے۔
سابق سفارتکار اور صحافی ملیحہ لودھی اپنی کتاب ’پاکستانز انکاؤنٹر ود ڈیموکریسی‘ میں لکھتی ہیں کہ ’عبدالوحید کاکڑ نے پشاور کے ایڈورڈ کالج سے تعلیم حاصل کی اور سنہ 1959 میں فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔ وہ کمانڈ اینڈ سٹاف کالج (کینیڈا) اور نیشنل ڈیفنس کالج میں بھی زیرِ تعلیم رہے۔‘
ملیحہ لودھی نے لکھا کہ جنرل وحید، تحریک پاکستان کے کارکن سردار عبدالرب نشتر کے بھتیجے تھے اور یوں صوبہ سرحد (موجودہ خیبرپختونخوا) کے نمایاں سیاسی خاندانوں میں سے ایک سے تعلق رکھتے تھے۔
اُن کے مطابق جنرل وحید کے ساتھ خدمات انجام دینے والے ساتھی انھیں اُن کے پیشرو جنرل آصف نواز کی طرح ایک ’غیر سیاسی فوجی‘ قرار دیتے تھے۔
’وہ انھیں صاف گو، دیانتدار اور اصول پسند فوجی بھی بتاتے تھے۔ ایک سیینئر افسر کے مطابق وہ 'جنرل آصف نواز سے بھی زیادہ دوٹوک اور بے لچک مزاج کے مالک' تھے، جبکہ ایک دوسرے ساتھی نے انھیں 'سخت نظم و ضبط کا پابند' قرار دیا۔‘
ملیحہ نے لکھا کہ جنرل عبدالوحید کاکڑکا بطور آرمی چیف تقرر بہت بڑا سرپرائز تھا۔
’جنرل آصف نواز کی اچانک وفات اور نئے آرمی چیف کے نام کے اعلان کے درمیان چار روز تک ذرائع ابلاغ میں اُن کے جانشین کے بارے میں جو قیاس آرائیاں زوروں پر رہیں، اُن میں جنرل کاکڑ کا نام شامل نہیں تھا۔‘
’صدر غلام اسحاق خان کو آئین کے تحت مسلح افواج کے سربراہ مقرر کرنے کا صوابدیدی اختیار حاصل تھا، لیکن بظاہر انھوں نے اس اہم تقرر پر وزیرِاعظم سے مشاورت کا فیصلہ کیا۔‘
’جون 1991 میں جنرل مرزا اسلم بیگ کے جانشین کا انتخاب کرتے ہوئے انھوں نے اس نوعیت کی مشاورت کی روایت قائم کی تھی، حالانکہ یہ لازمی نہیں تھی۔ 1993 میں بھی انھوں (غلام اسحاق خان) نے یہی طریقہ اختیار کیا۔‘
’اپنی تقرری پر وحید کاکڑ خود بھی حیران تھے‘
سیاسی اور دفاعی امور پر تجزیہ کرنے والے صحافی ماجد نظامی کے مطابق جنرل آصف نواز کی وفات کے بعد نئے آرمی چیف کے انتخاب میں وزیراعظم نواز شریف اور صدر غلام اسحاق خان میں اختلافات تھے۔
’مسلم لیگ ن کے مختلف رہنما اپنے اپنے نام سامنے لا رہے تھے۔ میاں نواز شریف کی کچن کیبنٹ کی جانب سے لیفٹیننٹ جنرل رحم دل بھٹی اور لیفٹیننٹ جنرل غلام محمد ملک کا نام زیر گردش تھا، اس سے قطع نظر کہ یہ دونوں نام سنیارٹی لسٹ میں سرفہرست نہیں تھے۔‘
’جبکہ غلام اسحاق خان کے قریبی حلقوں میں اس وقت کے چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل فرخ کا نام تھا اور وہی سیینئر ترین جنرل بھی تھے۔ لیکن وزیراعظم آفس کی جانب سے اس نام کو مسترد کر دیا گیا جس سے کشیدگی میں اضافہ ہوا۔‘
ماجد نظامی کے بقول پھر اس معاملے پر پیغام رسانی شروع ہوئی اور میاں نواز شریف کی جانب سے پیغام بھیجا گیا کہ جنرل فرخ کے علاوہ کسی کو بھی آرمی چیف بنا دیں۔
ہین جی کیسلنگ اپنی کتاب ’دی انٹر سروسز انٹیلیجنس آف پاکستان‘ میں لکھتے ہیں کہ ’جنرل عبدالوحید کاکڑ کو غلام اسحاق خان نے گویا اچانک ہی منظر پر لا کر سب کو حیران کر دیا۔ کوئٹہ میں تعینات کور کمانڈر سنیارٹی کے لحاظ سے پانچویں نمبر پر تھے اور تقرری کے وقت وہ ریٹائرمنٹ کی تیاری کر رہے تھے۔‘
ہین جی کیسلنگ لکھتے ہیں کہ ’اپنے تقرر کی خبر سُن کر وہ (وحید کاکڑ) بھی اتنے ہی حیران ہوئے جتنے دوسرے لوگ، کیونکہ کئی مضبوط امیدوار اس اعلیٰ ترین فوجی منصب پر ترقی پانے کی امید لگائے بیٹھے تھے۔ تاہم، غلام اسحاق خان نے کمال مہارت سے اپنے پتے کھیلے اور نواز شریف سمیت سب کو حیران کر دیا۔‘
چار افسران سینیارٹی کے باوجود منصب سے محروم
ملیحہ لودھی نے لکھا کہ قسمت اور اقتدار کے ایوانوں میں جاری رسہ کشی نے جنرل وحید کاکڑ کو دنیا کی پانچویں بڑی فوج کی کمان اور ملک کے طاقتور ترین مناصب میں سے ایک پر پہنچا دیا۔
ہین جی کیسلنگ لکھتے ہیں کہ ’وحید کاکڑ سیاسی جوڑ توڑ کرنے والے شخص نہیں تھے، بلکہ انھیں ایک غیر سیاسی جنرل سمجھا جاتا تھا۔ اور یہی وجہ تھی کہ غلام اسحاق خان نے انھیں اس منصب کے لیے منتخب کیا۔‘
’جی ایچ کیو میں اپنے پہلے خطاب میں جنرل وحید نے اپنے پیشرو کی کامیابیوں کا اعتراف کیا اور آئندہ تین برس کے دوران اسی طرز پر کام کرنے کی امید ظاہر کی۔ ان کے تصور کے مطابق، ان کی سربراہی جنرل آصف نواز کے دورِ کمان کا تسلسل ہوتی، جس میں فوج سیاست سے دور رہتی۔ لیکن بہت جلد جنرل وحید کو احساس ہو گیا کہ انھوں نے ایک مشکل وعدہ کر لیا ہے۔ سیاسی حالات نے تیزی سے انھیں اپنی گرفت میں لے لیا۔‘
ملیحہ لودھی کے مطابق ’جنرل وحید کے بطور چیف آف آرمی سٹاف تقرر کے نتیجے میں چار افسران سینیارٹی میں اُن سے آگے ہونے کے باوجود اس منصب سے محروم رہ گئے۔ سینیارٹی کے لحاظ سے اُن کے نام یہ تھے: لیفٹیننٹ جنرلرحم دل (آر ڈی) بھٹی، لیفٹیننٹ جنرل محمد اشرف (کور کمانڈر لاہور)، لیفٹیننٹ جنرل فرخ اور لیفٹیننٹ جنرل عارف بنگش (جو کوارٹر ماسٹر جنرل کے عہدے پر فائز تھے)۔ ان تمام افسران کی ریٹائرمنٹ فروری سے جولائی 1993 کے درمیان متوقع تھی۔‘
’جنرل وحید کو بھی 1993 میں ریٹائر ہونا تھا، کیونکہ وہ لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر چار سال مکمل کر چکے تھے، جن میں سے تین سال انھوں نے کوئٹہ میں کور کمانڈر کی حیثیت سے گزارے تھے۔ بظاہر صدر نے اگلے درجے کے افسران، جن میں لیفٹیننٹ جنرل لطیف مغل بھی شامل تھے، کے بجائے سیینئر کور کمانڈروں میں سے انتخاب کرنے کا فیصلہ کیا۔‘
’آرمی چیف وحید کاکڑ نے وزیرِ اعظم اور صدر کو استعفے پر مجبور کیا‘
ملیحہ لودھی کے مطابق جنرل وحید نو کور کمانڈروں میں عوامی سطح پر سب سے کم معروف تھے۔
’انفنٹری سے تعلق رکھنے والے جنرل وحید کو جنرل مرزا اسلم بیگ نے کوئٹہ میں بارہویں کور کی کمان سونپی تھی۔اس سے پہلے جنرل وحید جی ایچ کیو میں ایڈجوٹنٹ جنرل کے عہدے پر خدمات انجام دے چکے تھے، جب کہ اس سے قبل وہ سندھ کے علاقے پنو عاقل میں ایک انفنٹری ڈویژن کی کمان کر رہے تھے۔‘
ان کے تقررکے موقع پر جاری ہونے والے سرکاری اعلامیے کے مطابق، انھوں نے سنہ 1965 کی جنگ میں چونڈا کے محاذ پر فرنٹیئر فورس کے ایک یونٹ کے ساتھ عملی جنگی خدمات انجام دی تھیں۔ سنہ 1971 میں انڈیا کے ساتھ جنگ کے دوران میں وہ میجر کے عہدے پر فائز تھے اور سلیمانکی سیکٹر میں ایک انفنٹری بریگیڈ کی کمان کر رہے تھے۔
اپنی کتاب ’پاکستان: ٹائم فار چینج‘ میں محمد انور اور عباد بیگ لکھتے ہیں کہ جنرل عبدالوحید کاکڑ چیف آف آرمی سٹاف کے طور پر اپنے دور میں پاکستان کی سیاسی صورتِحال پر مکمل کنٹرول رکھتے تھے۔
’وہ سینڈہرسٹ کی تربیت حاصل کیے بغیر فوج میں اعلیٰ مقام تک پہنچنے والے سپاہی کے طور پر جانے جاتے تھے۔‘
محمد انور اور عباد بیگکے مطابق سنہ 1993 میں سیاسی اور آئینی بحران کے دوران جنرل کاکڑ نے صدر غلام اسحاق خان اور وزیرِاعظم نواز شریف کو مستعفی ہونے پر مجبور کیا، جس کے نتیجے میں 1993 کے عام انتخابات ہوئے اور پاکستان پیپلز پارٹی کی بے نظیر بھٹو وزیرِاعظم بن گئیں۔
صدر اور وزیرِ اعظم کی مخاصمت میں ایک موقع ایسا بھی آیا کہ سابق بیورو کریٹ اور اُس وقت کے وزیرِ احتساب روئیداد خان کے مطابق انھوں نے جنرل کاکڑ کو بتایا کہ ماضی میں فوج نے اس سے کم وجوہات پر مارشل لا نافذ کیا، لیکن اب آئین کی آٹھویں ترمیم موجود ہے، جس کے تحت صدر آئینی طور پر اسمبلی تحلیل کر سکتے ہیں۔
نواز شریف اور غلام اسحاق خان کی ایک تصویرفوجی افسران کے گروہ کی سازش کا سراغ
اپنی کتاب ’پاکستان اے ڈریم گون سار‘ میں روئیداد خان لکھتے ہیں کہ جنرل کاکڑ نے واضح کیا کہ مارشل لا کسی صورت قابلِ قبول نہیں، لیکن اگر صدر آئین کے مطابق کوئی قدم اٹھاتے ہیں تو فوج ان کا ساتھ دے گی۔
محمد انور اور عباد بیگکے مطابق جنرل کاکڑ کو اپنے دورِ سربراہی میں ایک سنگین صورتِ حال کا سامنا اس وقت بھی کرنا پڑا جب ستمبر 1995 میں انھوں نے فوجی افسران کے ایک گروہ کی سازش کا سراغ لگایا۔
اس گروہ کی قیادت میجر جنرل ظہیر الاسلام عباسی کر رہے تھے اور اسے ایک شدت پسند تنظیم حرکت الجہاد الاسلامی کی حمایت حاصل تھی۔ مبینہ طور پر اس گروہ نے آرمی چیف اور وزیرِاعظم کو قتل کرکے اقتدار پر قبضہ کرنے کی سازش تیار کی تھی۔ جنرل کاکڑ کی قیادت میں پاک فوج نے بغاوت کی اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔
’سازش میں ملوث افراد کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمات چلائے گئے، تاہم جنرل عباسی کو چند برس بعد رہا کر دیا گیا۔‘
سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو اپنی کتاب ’ڈاٹر آف ڈیسٹنی‘ جو ’ڈاٹر اف دی ایسٹ‘ کے نام سے بھی شائع ہوئی میں اس واقعے سے متعلق لکھتی ہیں کہ ’اُس وقت جنرل وحید کاکڑ آرمی چیف تھے۔ انھوں نے مجھ سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تو میں نے انھیں وزیرِاعظم ہاؤس میں اپنے دفتر بلوا لیا۔ سازش کی تفصیلات بتانے کے بعد انھوں نے مجھ سے کہا: 'وزیرِاعظم، آپ بہت خوش قسمت خاتون ہیں۔‘
پاکستان کی سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو’میں نے ’قوم سے خطاب‘ کا وہ مسودہ بغور پڑھا جو سازش میں شریک میجر جنرل ظہیر الاسلام عباسی پہلے ہی تحریر کر چکے تھے۔ اُن کا خطاب تمام مسلمانوں سے اس اپیل کے ساتھ شروع ہوتا تھا کہ وہ برپا ہونے والے ’اسلامی انقلاب‘ کے تحت متحد ہو جائیں۔
انھوں نے اعلان کیا تھا کہ ’اب عالمِ اسلام میں کوئی سرحد باقی نہیں رہے گی اور پاکستان و افغانستان کی سرحد بھی ختم ہو جائے گی، کیونکہ اسلام کے رشتے سے ہم ایک قوم ہیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ دراصل پرانے وفاقی اتحاد کے تصور کو نئے الفاظ میں پیش کرنے کی کوشش تھی۔'
بے نظیر مزید لکھتی ہیں کہ ’یقیناً، انتہا پسند عناصر کا خیال تھا کہ وہ افغانستان کے راستے وسطی ایشیا اور ترکی اور چیچنیا کے راستے یورپ کے ساحلوں تک پہنچ کر اسلام پھیلا سکتے ہیں۔ یہ خلافت کے قیام کا القاعدہ طرز کا منصوبہ تھا۔‘
’جنرل وحید کاکڑ نے مجھ سے کہا ’وزیرِاعظم، میں ان لوگوں پر غداری کے الزام میں فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلاؤں گا اور انھیں پھانسی دلواؤں گا۔‘
بے نظیر لکھتی ہیں کہ ’مجھے فوج میں انتہا پسندوں کی دراندازی پر تشویش تھی، اس لیے میں نے جنرل کاکڑ سے کہا کہ وہ 1995 میں اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی عہدے پر برقرار رہیں۔ بدقسمتی سے، جنرل کاکڑ آرمی چیف کی حیثیت سے اُن کی مدتِ ملازمت میں توسیع کی میری تجویز سے متفق نہیں ہوئے۔‘
مدتِ ملازمت میں توسیع سے انکار
تجزیہ کاروں کے مطابق، جنرل عبدالوحید کاکڑ کو اس فیصلے پر خاصی پذیرائی ملی کہ انھوں نے وزیرِاعظم بے نظیر بھٹو کی جانب سے مدتِ ملازمت میں توسیع کی پیشکش قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
ماجد نظامی بتاتے ہیں کہ پاکستان آرمی کی تاریخ میں صرف دو جنرل ایسے گزرے ہیں جنھوں نے توسیع کی پیشکش سے انکار کیا اور پیشہ وارانہ انداز میں مدت ملازمت مکمل ہونے کے بعد گھر جانے کو ترجیح دی۔
اُن میں پہلا نام جنرل ٹکا خان کا تھا جنھوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی پیشکش کو قبول نہیں کیا جبکہ عبد الوحید کاکڑ نے بے نظیر بھٹو کی جانب سے کی گئی توسیع کی پیشکش سے معذرت کی تھی۔
تاریخ سے شغف رکھنے والے لکھاری محمد حسن معراج نے بی بی سی اُردو کو بتایا ’سنہ 1995کے اواخر میں حکومت وقت نے مختلف ذرائع سے جنرل کاکڑ کو عہدے میں توسیع دینے کے متعدد پیغامات بھجوائے مگر ان کا انکار ایک جملے کی صورت کافی مشہور ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ اُن دنوں جنرل کاکڑ عمرے سے واپس پہنچے تو کسی نے پوچھ لیا کہ آپ کا کیا فیصلہ ہے۔ جنرل کاکڑ نے جواب دیا 'نا مَڑا ۔۔۔ آئی ایم گوئنگ ہوم۔‘
ماجد کے مطابق ریٹائرمنٹ کے بعد انھوں نے سیاسی معاملات پر گفتگو سے عموما احتراز ہی کیا اور خاموش زندگی گزاری اور یہ خاصیت انھیں دیگر طاقتور جنرلوں سے ممتاز کرتی ہے۔
ماجد کے بقول ’جمہوری حوالے سے ان کے کردار پر ہمیشہ بحث کی جائے گی کہ انھوں نے سیاسی کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے ایک ایسا منفرد فارمولا دیا کہ جس میں صدر، وزیراعظم، تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور یہاں تک کہ گورنرز سب ہی بیک وقت مستعفی ہو گئے اور نئے انتخابات کا اعلان کیا گیا۔‘
’کیا یہ جمہوریت کو بچانے کی ایک مخلصانہ کوشش تھی یا ایک چھڑی سے سب کو ہانکا گیا؟ تاریخ دان اس کردار کی تشریح اپنے اپنے انداز میں کرتے رہیں گے۔‘