’فوجی سربراہ برطرف کرنے کا ارادہ نہیں‘: انتخابات سے چند گھنٹے پہلے اسرائیلی وزیر اعظم کو یہ وضاحت کیوں دینا پڑی؟

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے عام انتخابات سے چند گھنٹے قبل ان خبروں کی تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ دوبارہ اقتدار میں آنے کی صورت میں اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زمیر کو عہدے سے ہٹا سکتے ہیں۔ چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق دونوں کے درمیان ایران سے متعلق ایک حساس سکیورٹی معاملے پر اختلافات پیدا ہوئے تھے۔
فائل فوٹو، جون 2013: بنیامین نیتن یاہو یروشلم میں کابینہ اجلاس کے دوران ایال زمیر سے گفتگو کر رہے ہیں۔ زمیر اس وقت وزیر اعظم کے فوجی سیکریٹری تھے۔
Getty Images
فائل فوٹو، جون 2013: بنیامین نیتن یاہو کابینہ اجلاس کے دوران ایال زمیر سے گفتگو کر رہے ہیں۔ زمیر اس وقت وزیر اعظم کے فوجی سیکریٹری تھے۔

’میں فوج کے سربراہ کو برطرف کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔‘

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو انتخابات سے محض چند گھنٹے قبل سوشل میڈیا پر یہ غیر معمولی وضاحت دینا پڑی ہے۔

نیتن یاہو کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی ٹی وی چینل 12 کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اگر وہ دوبارہ حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئے تو اسرائیلی فوج کے موجودہ سربراہ (چیف آف سٹاف) لیفٹیننٹ جنرل ایال زمیر کے عہدے پر برقرار رہنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو اور اسرائیلی فوج کے سربراہ کے درمیان حالیہ دنوں میں ایک حساس سکیورٹی معاملے پر شدید اختلافات سامنے آئے ہیں۔

ٹی وی چینل کا دعویٰ ہے کہ تنازع ایران پر کسی ممکنہ حملے کے بارے میں نہیں تھا بلکہ ایک ایسی کارروائی کے بارے میں تھا جس کے متعلق جنرل زمیر کو خدشہ تھا کہ ایران اس کی غلط تشریح کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان اچانک فوجی کشیدگی یا تصادم پیدا ہو سکتا ہے۔

حالیہ سکیورٹی مشاورتوں میں شریک متعدد ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ اسے نا قابلِ تلافی سمجھا جا رہا ہے۔ اسی وجہ سے ایال زمیر کے اپنے عہدے پر برقرار رہنے کے امکانات کم ہیں۔

اسرائیلی حکومت کی جانب سے ان دعوؤں کی تردید کی گئی ہے جبکہ نیتن یاہو نے خود بھی واضح کیا ہے کہ وہ چیف آف سٹاف کو برطرف کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں انھوں نے لکھا کہ ’خوف پھیلانے والے‘ چینلز 12 اور 13 نے انتخابات کے موقع پر ’فیک نیوز (جھوٹی خبر)‘ دی۔

اس تنازع نے انتخابات سے عین پہلے اسرائیل میں سیاسی اور سکیورٹی قیادت کے تعلقات کے بارے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

اسرائیل میں آج عام انتخابات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب ملک کو سیاسی تقسیم، غزہ جنگ کے اثرات، ایران کے ساتھ کشیدگی اور سلامتی سے متعلق مسلسل چیلنجز کا سامنا ہے۔

انتخابات میں ووٹرز کے سامنے بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا بنیامین نیتن یاہو ایک بار پھر حکومت بنانے میں کامیاب ہوں گے یا اپوزیشن جماعتیں انھیں اقتدار سے باہر رکھنے کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل کر سکیں گی۔

اسرائیلی وزیر اعظم کی اپنے آرمی چیف سے تنازع کی ابتدا کہاں سے ہوئی، اس سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ انتخابات سے پہلے ایران اسرائیلی سیاست اور انتخابی مہم کا اتنا اہم موضوع کیسے بن گیا۔

'ایرانی حکومت نے اب تک سبق نہیں سیکھا‘

انتخابات سے قبل اپنی مہم میں نیتن یاہو ایران کو ایک اہم موضوع کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ایران پر ایک نئے حملے کے امکان کی جانب بھی اشارے کیے ہیں۔

انھوں نے ایران کے جوہری خطرے کے بارے میں بھی نئے دعوے کیے، تاہم ان دعوؤں کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیے، اور ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ ایران کی موجودہ حکومت کا خاتمہ ہونا چاہیے۔

بدھ (21 اکتوبر) کے روز بنیامین نیتن یاہو اور اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ایران کے بارے میں سخت بیانات جاری کیے۔

اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق فوجی افسران کی پاسنگ آؤٹ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا: ’ایرانی حکومت نے اب تک سبق نہیں سیکھا۔ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایران ایک بار پھر تباہی کے ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘

انھوں نے کہا: ’لہٰذا اس خطرے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ایران میں موجود حکومت کا خاتمہ ہے۔ یہی میری ہدایت اسرائیلی فوج، موساد اور سکیورٹی اداروں کے لیے ہے۔‘

اسی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل کاٹز نے کہا کہ حالیہ دنوں میں اسرائیل کے دشمن، خصوصاً ایران اور اس کے اتحادی، ایسے حملوں کی کوشش کر رہے ہیں جو انتخابات کے نتائج پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

ان کے بقول: ’ایرانی حکومت اپنی تاریخ کے سب سے کمزور مرحلے میں ہے اور ہمیں خدشہ ہے کہ یہی کمزوری اسے انتہائی اقدامات پر اکسائے گی، جن میں اسرائیل کے خلاف کارروائی بھی شامل ہو سکتی ہے۔‘

ایسے وقت میں جب نیتن یاہو انتخابی مہم میں ایران سے لاحق خطرات کو اجاگر کر رہے تھے، اسرائیلی میڈیا میں یہ اطلاعات بھی سامنے آ رہی تھیں کہ ایران کے معاملے پر حکومت اور فوجی قیادت کی سوچ ایک جیسی نہیں۔

اسرائیلی فوجی قیادت کے تحفظات کیا تھے؟

ایال زمیر
AFP via Getty Images
20 اپریل 2018 کی تصویر: اس وقت ایال زمیر میجر جنرل تھے، فروری 2025 میں انھیں ترقی دے کر اسرائیلی فوج کا سربراہ (چیف آف سٹاف) مقرر کیا گیا۔

اسرائیلی میڈیا میں شائع ہونے والی بعض رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے بارے میں حکومت کے مؤقف اور فوجی قیادت کے اندازِ فکر میں نمایاں فرق موجود تھا۔

اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل نے امریکی اور اسرائیلی حکام کے حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اکتوبر کے دوران درجنوں اسرائیلی لڑاکا طیاروں اور فضائی ایندھن بردار طیاروں نے شام اور عراق کی فضائی حدود سے گزرتے ہوئے ایران کی سرحد کی جانب پرواز کی تھی۔

رپورٹ کے مطابق طیارے ایرانی فضائی حدود تک پہنچنے سے کچھ پہلے واپس لوٹ آئے۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق اسرائیل نے اس کارروائی کے بارے میں پیشگی طور پر واشنگٹن کو آگاہ کیا تھا اور اسے ایک فوجی مشق اور طاقت کے اظہار کے طور پر بیان کیا تھا، جس کا مقصد انتخابات سے قبل ایران کو کسی ممکنہ کارروائی سے باز رکھنا تھا۔

تاہم بعض امریکی ذرائع نے یہ شبہ بھی ظاہر کیا کہ اسرائیل کے کچھ عہدے دار شاید یہ توقع رکھتے تھے کہ ایران ان طیاروں پر ردعمل ظاہر کرے، جس کے بعد اسرائیل کو جوابی کارروائی کا جواز مل سکتا تھا۔

یہ رپورٹس ایسے وقت میں سامنے آئیں جب برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے دعویٰ کیا تھا کہ نیتن یاہو رواں ماہ کے آغاز میں ایران کے خلاف حملوں کے خواہاں تھے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے کسی نئی جنگی کشیدگی کی مخالفت کی تھی۔

اسی تناظر میں ایگزیوس نے رپورٹ کیا کہ اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زمیر نے اپنے امریکی ہم منصب جنرل ڈین کین کو بتایا تھا کہ اگر انتخابات سے پہلے جنگ چھڑ گئی تو اسرائیل میں ووٹنگ ملتوی کرنا پڑ سکتی ہے۔

جنرل زمیر نے بعد میں ایک عوامی بیان میں کہا تھا کہ فوج اس بات کو یقینی بنائے گی کہ انتخابات ’بیرونی مداخلت کے بغیر‘ منعقد ہوں۔

یہی وجہ ہے کہ جب چینل 12 نے دعویٰ کیا کہ نیتن یاہو اور جنرل زمیر کے درمیان اختلافات نا قابلِ تلافی حد تک بڑھ چکے ہیں تو یہ خبر انتخابی مہم کے آخری مرحلے میں ایک بڑا سیاسی موضوع بن گئی اور اسرائیلی وزیر اعظم کو وضاحت جاری کرنا پڑی۔

اسرائیلی آرمی چیف سے اختلاف کا دعویٰ قابلِ اعتبار کیوں ہے؟

چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتوں میں سیاسی اور فوجی قیادت کے درمیان ایک ایسے اقدام پر اختلاف پیدا ہوا جس کے بارے میں بعض سکیورٹی حکام کا خیال تھا کہ اسے فوری طور پر انجام دینا ضروری ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ چیف آف سٹاف ایال زمیر نے اس اقدام پر مزید غور، تفصیلی بحث اور تحریری قانونی منظوری کا مطالبہ کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ حساس انتخابی ماحول میں ایسا قدم کسی بڑے بحران یا غلط فہمی کو جنم دے سکتا ہے۔

ٹی وی رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ بعض دیگر سکیورٹی حکام نے اس معاملے میں نیتن یاہو کے مؤقف کی حمایت کی، جبکہ زمیر اس حوالے سے نسبتاً تنہا دکھائی دیے۔

رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ دونوں شخصیات کے درمیان تعلقات اس قدر خراب ہو چکے ہیں کہ اگر نیتن یاہو دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں تو جنرل زمیر کے اپنے عہدے پر برقرار رہنے کے امکانات بہت کم ہوں گے۔

بی بی سی کے امریکہ میں شراکت دار ادارے سی بی ایس نیوز کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم اور فوج کے سربراہ کے درمیان اختلافات کی چینل 12 کی خبر قابلِ اعتبار دکھائی دیتی ہے۔

سی بی ایس نیوز نے یہ دعویٰ متعلقہ شخصیات سے گہری واقفیت رکھنے والے ایک سینیئر اسرائیلی ذریعے کے حوالے سے کیا ہے۔

اس ذریعے کے مطابق رپورٹ قابلِ اعتبار ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ چینل 12 کی رپورٹ فوجی سینسرشپ کے عمل سے گزر کر شائع ہوئی۔

اسرائیل میں قومی سلامتی سے متعلق تمام میڈیا رپورٹس کو اشاعت سے قبل فوجی سینسر کے پاس جانا پڑتا ہے۔ خود چینل 12 نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اسے ’سینسر کی منظوری کے بعد نشر کیا گیا۔‘

ذریعے کا کہنا تھا کہ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ فوجی قیادت نے پارلیمانی انتخابات سے قبل عوام کے لیے اس معلومات کا سامنے آنا ضروری سمجھا۔

ان کے بقول اگر رپورٹ غلط ہوتی تو فوجی سینسر اسے شائع ہونے سے ہی روک دیتا۔

سی بی ایس نیوز کے مطابق ذریعے نے یہ بھی کہا کہ اس رپورٹ کے درست ہونے کا ایک اور اشارہ یہ ہے کہ ایال زمیر اصولی طور پر ایران پر دوبارہ حملوں کے مخالف نہیں ہیں بلکہ ان کا اختلاف ایسے اقدامات کے وقت اور موقع پر ہے۔

ذریعے کے مطابق ممکن ہے کہ ایران کی جانب سے نئے خطرات ابھر رہے ہوں، تاہم فوجی قیادت کے سامنے اصل سوال یہ ہے کہ آیا ایسے حملوں کی فوری ضرورت ہے یا نہیں۔

ان قیاس آرائیوں کے جواب میں نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا: ’میں چیف آف سٹاف کو برطرف کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا اور ہم اسرائیل کی سلامتی کے لیے مل کر کام جاری رکھیں گے۔‘

انھوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق خطرے کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تعاون کا ارادہ رکھتے ہیں۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US