امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے مڈ ٹرم انتخابات کے بعد ایران پر بڑے حملے کی تیاریوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ ممکنہ کارروائی کے حوالے سے خلیجی ممالک کو بھی آگاہ کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ممکنہ حملوں میں ایران کی جوہری تنصیبات اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی فوج ٹیکساس سے پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام کا ایک اضافی یونٹ اسرائیل منتقل کر رہی ہے جبکہ ایک اضافی طیارہ بردار بحری بیڑے کا جنگی گروپ اور میرینز دستہ بھی تعیناتی کے لیے تیار ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے ممکنہ امریکی حملوں کی صورت میں جوابی کارروائی کی وارننگ دی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔