پنجاب کے شہر چونیاں میں سرکاری اسپتال کے ڈاکٹروں پر مبینہ غفلت کا سنگین الزام سامنے آیا ہے، جہاں ایک خاتون کے اہلِ خانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ زچگی کے آپریشن کے دوران ان کے پیٹ میں تولیہ چھوڑ دیا گیا، جس کے بعد اسپتال میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات اور عملے کی ذمہ داریوں پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔
نجی چینل کی رپورٹ کے مطابق یہ معاملہ تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال چونیاں سے متعلق ہے۔ متاثرہ خاتون کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران طبی عملے کی مبینہ لاپروائی نے مریضہ کی صحت کے حوالے سے انہیں شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ انہوں نے محکمہ صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور اگر کسی کی غفلت ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
دوسری جانب ٹی ایچ کیو اسپتال چونیاں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے الزامات پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسپتال کے آپریشن تھیٹر میں استعمال ہونے والے تمام اسپنج کی تعداد مکمل ہے۔ تاہم اگر کسی دوسرے اسپتال میں خاتون کے جسم سے تولیہ یا اسپنج نکالا گیا ہے تو اس حوالے سے متعلقہ عملے سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل آزاد کشمیر میں بھی اسی نوعیت کا ایک واقعہ رپورٹ ہوا تھا، جہاں ایک خاتون کے آپریشن کے تقریباً ایک سال بعد ان کے پیٹ سے مبینہ طور پر طبی پٹیاں نکلنے کا انکشاف ہوا تھا۔
چونیاں میں پیش آنے والے واقعے کے اصل حقائق تحقیقات کے بعد ہی واضح ہوں گے، تاہم اس نوعیت کے الزامات نے سرکاری اسپتالوں میں آپریشن کے دوران حفاظتی اصولوں اور طبی نگرانی کی اہمیت کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔