وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی)، ڈیجیٹائزیشن اور جدید ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال پاکستان میں تجارت، برآمدات، زرعی پیداوار اور سرکاری خدمات کے معیار کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے جبکہ ملکی ترقی کے لیے زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا ناگزیر ہے۔
وزیراعظم کی زیر صدارت معیشت اور گورننس میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹائزیشن اور علی بابا گروپ کے ساتھ تعاون پر پیش رفت کا جائزہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں مختلف شعبوں میں جاری منصوبوں اور مستقبل کے لائحہ عمل پر بریفنگ دی گئی۔
وزیراعظم نے متعلقہ وزارتوں کو ہدایت کی کہ علی بابا گروپ کے ساتھ تعاون کے تمام منصوبوں پر واضح اہداف، مقررہ مدت اور مؤثر نگرانی کے تحت عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور نومبر تک ضروری اقدامات مکمل کرکے رپورٹ پیش کی جائے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ زراعت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت پر مبنی ماڈلز، تمباکو کی ٹریک اینڈ ٹریس ٹیکنالوجی اور ترش پھلوں و زیتون کی برآمدات کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کی تیاری پر کام جاری ہے۔ علی بابا کے ذریعے پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے خصوصی ویب سائٹ پر پاکستان پویلین بھی قائم کر دیا گیا ہے۔
وزیراعظم نے چینی منڈیوں میں پاکستانی زرعی اجناس کی برآمدات کے فروغ کے لیے علی بابا کے تعاون کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے زرعی شعبے میں آٹومیشن کے اقدامات تیز کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ علی بابا کے تعاون سے کینسر کی پیشگی تشخیص کے نظام کا نفاذ بھی جلد یقینی بنایا جائے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ پاکستان سنگل ونڈو کے ذریعے تجارتی دستاویزات کی ڈیجیٹل تصدیق کا نظام فعال کر دیا گیا ہے جبکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) کو عالمی منڈیوں تک رسائی، تربیت اور ای کامرس کے مواقع فراہم کرنے کے لیے دو سالہ پروگرام شروع کیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے پروگرام اگنائیٹ اور علی بابا کے اشتراک سے آئی ٹی گریجویٹس کے لیے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں 15 روزہ تربیتی پروگرام جلد شروع کرنے کی بھی ہدایت کی۔
اجلاس میں ایف بی آر اور پرال کے لیے جدید ڈیٹا پلیٹ فارم اور سینٹرل ڈیٹا ہب کی تیاری جبکہ توانائی کے شعبے میں اوگرا کو پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی چین کی نگرانی اور ڈیٹا کے تجزیے کے لیے مصنوعی ذہانت اور بزنس انٹیلی جنس ٹولز کی فراہمی پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی چین کی مؤثر نگرانی کے لیے تجزیاتی نظام جلد متعارف کرایا جائے۔
وزیراعظم نے ایکسپورٹ پروموشن بورڈ کو بھی علی بابا کے ساتھ مل کر ملکی برآمدات میں اضافے کے لیے تعاون یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان اور علی بابا گروپ کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی اور ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
اجلاس کو اعلیٰ تعلیم، ریلوے، پوسٹل سروسز اور شہری انتظام کے شعبوں میں بھی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
وزیراعظم نے کہا کہ اپنے دورۂ چین کے دوران ہانگژو میں علی بابا کے ہیڈکوارٹرز میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے جس کا مقصد پاکستان میں جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور معاشی ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔