اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات مکمل ہو چکے ہیں جبکہ امریکہ میں ایک ہفتے بعد کانگریس کے وسط مدتی انتخابات ہونے والے ہیں۔ دونوں ممالک کے انتخابی نتائج مشرقِ وسطیٰ کی جنگی صورتحال، ایران کے ساتھ کشیدگی اور عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

اسرائیل میں عام انتخابات ہو چکے ہیں اور نئی پارلیمان چننے کے لیے پولنگ مکمل ہو گئی ہے، جبکہ امریکہ میں ایک ہفتے بعد نئی کانگریس کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے۔
ان دونوں انتخابات کے نتائج دنیا پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
امریکی کانگریس کے ایک سابق سپیکر، ٹِپ او نیل، نے شاید ایک بار کہا تھا کہ ’تمام سیاست مقامی ہوتی ہے‘ لیکن ان انتخابات کے نتائج بلا شبہ عالمی ہوں گے۔
اگرچہ اسرائیل میں ووٹنگ مکمل ہو چکی ہے اور امریکہ میں پولنگ ابھی باقی ہے، لیکن یہ دونوں انتخابات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے بھی ہیں۔
اسرائیل میں مستقبل کی حکومت مشرقِ وسطیٰ اور خطے میں جاری جنگوں پر دیرپا اثر ڈالے گی۔
اور امریکہ کے انتخابی نقشے میں کوئی بھی تبدیلی نہ صرف ان جنگوں بلکہ عالمی معیشت کے مستقبل کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
ان دونوں کے درمیان ایک عملی تعلق بھی موجود ہے: لابی گروپ ’ریپبلکنز اوورسیز اسرائیل‘ کے اندازے کے مطابق تقریباً پانچ لاکھ ایسے اسرائیلی ہیں جن کے پاس امریکی پاسپورٹ بھی ہے اور جو دونوں انتخابات میں ووٹ ڈال سکتے ہیں۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنے اتحاد کو نمایاں کیا ہےگروپ کے چیئرمین مارک زیل نے کہا کہ یہ ووٹر امریکہ میں سخت مقابلوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، مثلاً مشیگن کے سینیٹ انتخاب میں، جہاں ان کے اندازے کے مطابق اسرائیل سے 10 ہزار ووٹ ڈالے جائیں گے۔
انھوں نے بی بی سی سے کہا: ’یہ واقعی فرق ڈال سکتے ہیں۔‘
لیکن پالیسی کے لحاظ سے یہ تعلق شاید اس سے بھی زیادہ گہرا ہے، خصوصاً ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے حوالے سے۔ فروری میں شروع ہونے والے وسیع فضائی حملوں نے بہت سے فوجی اہداف تباہ کیے اور ایران کی قیادت کے بڑے حصے کو ہلاک کر دیا۔ لیکن وہ حکومت کا تختہ الٹنے میں ناکام رہے، جس نے خلیج بھر میں سخت جوابی کارروائی کی اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کر لیا، جہاں سے عالمی تیل کی رسد کا پانچواں حصہ گزتا ہے۔
ایران کا سوال
انتخابات کا محض انعقاد ہی فیصلہ سازی پر اثر انداز ہو چکا ہے۔
اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے انتخابی مہم کے دوران ایران پر ایک نئے حملے کے امکان پر بات کی۔
انھوں نے ایران کے جوہری خطرے کے بارے میں نئے دعوے کیے، تاہم کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا، اور ایک بار پھر اصرار کیا کہ ایران میں موجود حکومت کا خاتمہ ہونا چاہیے۔
ان کا مقصد اپنے آپ کو ایک مضبوط سکیورٹی رہنما کے طور پر پیش کرنا ہے، ایسی ساکھ جو سات اکتوبر کو حماس کی قیادت میں اسرائیل پر ہونے والے جان لیوا حملوں کے بعد بری طرح متاثر ہوئی تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران پر نئے حملوں کی قیاس آرائیوں میں اضافہ کیا ہے۔ انھوں نے نیتن یاہو کی انتخابی مہم کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں کو ایران میں ’جلد یہ کام مکمل کرنا چاہیے۔‘
تاہم تمام جنگی بیان بازی کے باوجود ایسی متضاد اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ ٹرمپ نے رائے شماری سے قبل نیتن یاہو کو ایران پر حملہ کرنے سے روکنے کے لیے مداخلت کی، کیونکہ انھیں خدشہ تھا کہ توانائی کی قیمتوں میں نیا اضافہ امریکی ووٹروں کو ان کی غیر مقبول جنگ کی یاد دلا سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ ریپبلکن کانگریسی امیدواروں کی حمایت میں انتخابی مہم چلا رہے ہیںتو کیا ایران پر حملہ انتخابات کے بعد تک مؤخر کیا جا سکتا ہے؟ اسرائیلی میڈیا ایسی قیاس آرائیوں سے بھرا ہوا ہے کہ نیتن یاہو انتخابات کے بعد نگران وزیرِ اعظم کی حیثیت سے ایران پر حملہ کر کے اپنی سیاسی بقا کو یقینی بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
اس نظریے کے مطابق وہ قومی اتحاد پر مبنی حکومت کی وکالت کریں گے، جس میں خود وہ بھی شامل ہوں، نہ کہ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان کسی اتحاد کی۔
نیتن یاہو کو اسرائیلی سیاست کا ایسا رہنما سمجھا جاتا ہے جو ہر مشکل سیاسی صورتحال سے نکل آنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر وہ اقتدار سے محروم ہو گئے تو انھیں سات اکتوبر کے حملوں سے پہلے اپنے اقدامات کے بارے میں ایک سرکاری تحقیقاتی عمل اور بد عنوانی کے الزامات سے متعلق نئے قانونی مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ قیاس آرائیاں اس قدر حقیقی سمجھی جا رہی ہیں کہ نیتن یاہو کے حریف اور سابق فوجی سربراہ گادی آئزنکوٹ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ وہ حکومت بنانے کے لیے کسی بھی اتحاد میں شامل نہیں ہوں گے۔ اسرائیل کے مرکزی دھارے کے تمام سیاست دانوں کی طرح آئزنکوٹ بھی ایران کو اسرائیل کے وجود کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں اور ایرانی حکومت کے خلاف فوجی کارروائی کی حمایت کرتے ہیں۔ تاہم انھوں نے واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ سیاسی مقاصد کے لیے جنگ کو وسعت نہ دی جائے۔
انتخابات کے بعد کا ایجنڈا
یقیناً اگر ٹرمپ وسط مدتی انتخابات کے بعد انتخابی دباؤ سے آزاد ہو جائیں اور جنگ سے نکلنے کے لیے ایک آخری کوشش کرنا چاہیں تو وہ ایران پر حملے کے لیے زیادہ آمادہ ہو سکتے ہیں۔
بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جنگ اور اقتصادی پابندیوں کے باعث ایران معاشی طور پر اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ فوجی حملوں کا ایک نیا سلسلہ ایرانی عوام کو حکومت کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے پر آمادہ کر سکتا ہے۔ دوسرے لوگ اسے محض ایک اور خوش فہمی قرار دیتے ہیں۔ یہ ایک ایسی حکمت عملی ہے جو بار ہا ناکام ہوئی ہے، لیکن واشنگٹن میں اب بھی اس کی پذیرائی موجود ہے۔
ایک باخبر مغربی سفارتکار نے مجھے بتایا: ’وسط مدتی انتخابات کے بعد ان کی توجہ اپنی سیاسی میراث چھوڑنے پر ہو گی، وہ ہر ایسے معاملے میں سرگرم کردار ادا کرنا چاہیں گے جو ملک کے اندرونی مسائل سے ہٹ کر ہو۔‘
اسرائیل میں ایران سے لاحق خطرے اور اسے محدود کرنے کی ضرورت پر بیشتر جماعتوں کے درمیان وسیع اتفاقِ رائے موجود ہے۔ لیکن اگر ووٹر نئی حکومت منتخب کرتے ہیں تو ممکن ہے کہ انھیں ایسا وزیرِ اعظم ملے جس کی ایران پر نئے حملوں میں ذاتی یا سیاسی دلچسپی نسبتاً کم ہو۔
ایسی صورت میں ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ ان کی سوچ بھی تبدیل ہو سکتی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا: ’اگر اسرائیل کا رہنما غلط شخص ہوا، یعنی بی بی [نیتن یاہو کی عرفیت] کے علاوہ کوئی بھی، تو امریکہ کو یہ کام خود کرنا پڑے گا، اور میں ایسا کرنے کا خواہش مند نہیں ہوں۔‘
نیتن یاہو نے انتخابی مہم کے دوران ایران پر ایک نئے حملے کے امکان پر بات کی ہےحیرت کی بات نہیں کہ تہران میں پالیسی ساز امریکی رائے عامہ کے جائزوں پر اتنی ہی گہری نظر رکھ رہے ہیں جتنی واشنگٹن کے سیاسی حلقوں کے تجزیہ کار رکھتے ہیں۔ خطرہ یہ ہے کہ انتخابات کے بعد کسی بھی حملے کی صورت میں، اگر ایران نے سخت جوابی کارروائی کی، تو مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر افراتفری کا شکار ہو سکتا ہے۔
سرِ عام اور نجی سطح پر ایرانی حکام نے ہوائی اڈوں، پائپ لائنوں، زیرِ سمندر کیبلز، توانائی کی تنصیبات، نمکین پانی کو میٹھا بنانے والے پلانٹس، اور امریکی اڈوں اور جنگی جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی ہیں۔
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے فنانشل ٹائمز میں لکھا کہ نئے حملے ’عام شہریوں کی جانوں، خطے کی تمام ریاستوں کی فلاح و بہبود اور عالمی معیشت کو شدید خطرے میں ڈال دیں گے۔‘
معاملہ معیشت کا ہے
دونوں انتخابات ایک بار پھر عالمی معیشت کے حوالے سے ایک دوسرے سے جڑتے ہیں۔ امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کی مہم کے دوران مہنگائی اور روزمرہ زندگی کے بڑھتے اخراجات اہم موضوعات رہے ہیں، اور ٹرمپ کی جنگ نے ان مسائل کو مزید سنگین بنا دیا ہے کیونکہ ایران نے آبنائے ہرمز سے توانائی کی ترسیل کو محدود کر دیا، جس سے قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
معیشت اسرائیل میں بھی انتخابی مسئلہ ہے، جہاں ووٹر بلند اخراجات اور کم اجرتوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہاں بھی جنگ اپنا کردار ادا کر رہی ہے کیونکہ دفاعی اخراجات میں اضافے نے ملکی معیشت پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے۔
ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات سے قبل ووٹروں کو مطمئن کرنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے روس پر عائد پابندیاں اٹھا لی ہیں، اس امید پر کہ ماسکو سے ڈیزل درآمد کرنے سے قیمتوں میں نمایاں کمی آ سکتی ہے، اگرچہ یہ امید پوری نہیں ہوئی۔ وہ یوکرین کے معاملے پر بھی سخت مؤقف اپناتے رہے ہیں اور اس کی قیادت سے رعایتیں دینے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں، اس امید کے ساتھ کہ انھیں خارجہ پالیسی کی کوئی کامیابی حاصل ہو، لیکن یہ کوشش بھی تا حال کامیاب نہیں ہوئی۔
ٹرمپ کی متنازع حکمت عملی پر ریپبلکن حلقوں میں ناراضی بڑھ رہی ہے۔ شمالی کیرولائنا سے سینیٹر تھام ٹلس، جو اکثر ٹرمپ پر تنقید کرتے ہیں، نے سی بی ایس نیوز سے کہا: ’اگر صدر واقعی توانائی کی قیمتیں کم کرنا چاہتے ہیں تو وہ ایران کے مسئلے کو حل کر کے ایسا کر سکتے ہیں، نہ کہ ولادیمیر پوتن پر کوئی احسان کر کے۔‘
وسط مدتی انتخابات کے لیے امریکہ کی کئی ریاستوں میں ابتدائی ووٹنگ پہلے ہی شروع ہو چکی ہےایران جنگ اور غزہ و مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلا ہے کہ امریکہ میں اسرائیل کی حمایت پر دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان پہلے جیسا اتفاقِ رائے نہیں رہا۔
سینیٹ کے لیے مشیگن سے ڈیموکریٹک امیدوار عبدال السید، اسرائیل کو دی جانے والی فوجی امداد میں کمی کی مہم چلا رہے ہیں۔ انھوں نے اے بی سی نیوز سے کہا: ’جو اتحادی آپ کا پیسہ لے کر آپ کو ایسی جنگوں میں دھکیل دے جنھیں آپ کو نہیں لڑنا چاہیے، وہ اتحادی نہیں ہوتا۔‘
امریکہ اور اسرائیل نے ابتدا میں ایران پر حملہ اس کے بیلسٹک میزائل تباہ کرنے، اس کی جوہری صلاحیت کو کمزور کرنے، پراکسی ملیشیاؤں کے لیے اس کی حمایت کم کرنے اور حتیٰ کہ پورے نظام حکومت کا خاتمہ کرنے کے لیے کیا تھا۔ اس کے بعد ان کے جنگی اہداف تبدیل ہو کر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے تک محدود ہو گئے۔
نیو یارک سے کانگریس کے ڈیموکریٹک امیدوار بریڈ لینڈر، جو اپنی جماعت کے بائیں بازو سے تعلق رکھتے ہیں، نے تو رائے شماری سے صرف چند دن پہلے مغربی کنارے کا سفر بھی کیا۔ انھوں نے زیتون کی فصل کاٹنے میں فلسطینیوں کی مدد کی اور مختصر وقت کے لیے اسرائیلی فورسز کی حراست میں بھی رہے۔ اس بات کو انھوں نے سوشل میڈیا پر اپنی انتخابی مہم کے لیے استعمال کیا۔ امریکی سیاست کی تاریخ میں یہ معمول کی بات نہیں ہے۔ خود نیتن یاہو بھی خبردار کر رہے ہیں کہ مستقبل میں اسرائیل کو شاید امریکی سکیورٹی کے بغیر رہنا پڑے۔
اسرائیل کی یشار پارٹی کے رہنما گادی آئزنکوٹ نے انتخابات کے بعد کسی بھی اتحاد میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہےاگر اسرائیل کے وزیرِ اعظم انتخاب ہار جاتے ہیں تو ان کی رخصتی ایک ایسے غیر ہموار تعلق کا خاتمہ کرے گی، ٹرمپ جس کی کبھی حمایت اور کبھی تنقید کرتے رہے ہیں۔ گذشتہ ہفتے انھوں نے نیتن یاہو کو ’عظیم جنگجُو وزیرِاعظم‘ قرار دیا تھا۔ جبکہ موسمِ گرما کے دوران انھوں نے کہا تھا کہ نیتن یاہو ’پاگل ہو گئے ہیں۔‘ ایک نئے اسرائیلی رہنما کو ایسے امریکی صدر کے ساتھ تعلق استوار کرنا ہو گا جو رخصت ہو رہے ہیں۔ یہ ایک بالکل مختلف نوعیت کی صورتحال ہو گی۔
اگر ڈیموکریٹس کانگریس میں زیادہ کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں تو اس سے اسرائیل کے لیے امریکہ کی غیر مشروط حمایت پر کچھ حد تک قدغن لگ سکتی ہے۔ کانگریس کے پاس روایتی اختیارات موجود ہیں جنھیں وہ فوجی اخراجات محدود کرنے کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔ وہ اسرائیل کو دی جانے والی فوجی امداد میں بھی کمی کر سکتی ہے۔ تاہم صدر کی حیثیت سے ٹرمپ کے پاس اب بھی خاطر خواہ انتظامی اختیارات اور ویٹو کی طاقت موجود ہو گی، جس کے ذریعے وہ اپنی مرضی کے مطابق تنازع جاری رکھ سکتے ہیں۔
اس سال کے اوائل میں ایران کے خلاف جنگ میں جانے کے اسرائیلی اور امریکی فیصلے نے عالمی معیشت اور بین الاقوامی جغرافیائی سیاست کو تبدیل کر دیا۔
اسرائیل کے انتخابی نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور اب نظریں امریکہ کے انتخابات پر ہیں۔ دونوں ممالک میں ووٹرز کے فیصلے عالمی سیاست اور معیشت کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔