پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن نورین نیازی کو بدھ کی رات جیل میں طبیعت خراب ہونے کے بعد لاہور کے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) منتقل کر دیا گیا۔
پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن نورین نیازی کو بدھ کی رات جیل میں طبیعت خراب ہونے کے بعد لاہور کے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) منتقل کر دیا گیا۔
نورین نیازی کے وکیل رانا مدثر عمر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ ’70 سالہ نورین نیازی کی صحت جیل میں بگڑ گئی تھی، جس کے باعث انھیں علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔‘ ان کا دعویٰ تھا کہ ’اہلِ خانہ کو اس منتقلی کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا۔‘
پاکستان تحریک انصاف نے بھی نورین نیازی کی صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں ’انتہائی تشویشناک حالت‘ میں پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ ’سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ اتنی سنگین صورتحال کے باوجود خاندان کے کسی فرد کو ہسپتال منتقلی سے آگاہ نہیں کیا گیا۔‘ پی ٹی آئی نے حکومت پر الزام لگایا کہ عمران خان کے اہلِ خانہ کو سیاسی بنیادوں پر ہراساں کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب پنجاب حکومت یا جیل حکام نے ابھی تک اس معاملہ پر کوئی تفصیلات نہیں بتائی ہیں کہ نورین نیازی کو کب اور کیوں ہسپتال منتقل کیا گیا اور کیا ابھی بھی وہ ہسپتال میں ہی داخل ہیں۔
بی بی سی نے پنجاب حکومت کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری سے رابطہ کیا تاہم ان کی جانب سے تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
عمران خان کی بہنیں علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو ستمبر میں اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب پی ٹی آئی اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کی تیاری کر رہی تھی۔
علیمہ خان کو 20 ستمبر جبکہ عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو 21 ستمبر کو پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) آرڈیننس 1960 کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔ ابتدائی طور پر ان کی نظر بندی 30 دن کے لیے منظور کی گئی تھی، تاہم سات اکتوبر کو کوٹ لکھپت جیل میں ان کی حراست میں مزید 30 دن کی توسیع کر دی گئی تھی۔
دوسری جانب 26 اکتوبر کو لاہور ہائی کورٹ نے عمران خان کی تینوں بہنوں کی رہائی کے لیے دائر درخواست نمٹا دی تھی، جب پنجاب حکومت نے عدالت کو بتایا کہ ان کی نظر بندی میں مزید 30 دن کی توسیع کر دی گئی ہے۔
عمران خان کے بھتیجے شیر شاہ خان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دعویٰ کیا ہے کہ خاندان کو نورین نیازی کی ہسپتال منتقلی کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا۔ انھوں نے لکھا کہ گذشتہ چند گھنٹوں سے سوشل میڈیا پر آنے والی اطلاعات کے بعد خاندان پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پہنچا، جہاں نورین نیازی زیرِ علاج ہیں۔
شیر شاہ خان کے مطابق وہ اور دیگر اہلِ خانہ ہسپتال میں نورین نیازی کی وارڈ کے باہر موجود رہے، تاہم انھیں اندر جانے یا ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ’وارڈ کا دروازہ بند ہے اور پولیس اہلکار خاندان کے افراد کو نورین نیازی تک رسائی سے روک رہے ہیں۔‘
ان کی جانب سے چند تصاویر بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی جن میں پولیس اہلکاروں کو ہسپتال کے اندر دیکھا جا سکتا ہے جو بظاہر ’آئی سی یو وارڈ‘ ہے اور ’ڈیپارٹمنٹ آف کارڈیو ویسکلر سرجری‘ لکھا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’خاندان کو نورین نیازی کی صحت کے بارے میں شدید تشویش لاحق ہے، خاص طور پر اس لیے کہ وہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے حراست میں ہیں اور اس دوران اہلِ خانہ سے دور رہی ہیں۔‘
شیر شاہ خان نے سوال اٹھایا کہ ’نورین نیازی کی طبی حالت کیا ہے، اہلِ خانہ کو ان کی ہسپتال منتقلی کے بارے میں کیوں مطلع نہیں کیا گیا اور خاندان کو ان سے ملاقات سے روکنے کا فیصلہ کس کے حکم پر کیا جا رہا ہے۔‘
انھوں نے مطالبہ کیا کہ ’خاندان کو فوری طور پر نورین نیازی تک رسائی دی جائے، ان کی صحت کے بارے میں مکمل طبی معلومات فراہم کی جائیں اور یہ یقین دہانی کرائی جائے کہ انھیں تمام ضروری طبی سہولیات مہیا کی جا رہی ہیں۔‘
واضح رہے کہ ان دعوؤں پر حکام یا ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
پاکستان تحریک انصاف نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایکس پر ایک بیان میں عمران خان کی بہن نورین نیازی کی صحت سے متعلق خدشات پر ردِعمل دیتے ہوئے ان کی جیل سے ہسپتال منتقلی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اس بیان میں کہا گیا ہے کہ 70 سالہ نورین نیازی کو جیل میں مبینہ طور پر صحت بگڑنے کے بعد پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کیا گیا، تاہم ان کے اہلِ خانہ کو اس بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ’نورین نیازی کو سیاسی بنیادوں پر حراست میں رکھا گیا ہے اور ان کی صحت کی سنگین صورتحال سے متعلق خاندان کو لاعلم رکھنا بنیادی انسانی حقوق، انسانی وقار اور زیرِ حراست افراد سے متعلق بین الاقوامی اصولوں کے خلاف ہے۔‘
بیان میں سوال اٹھایا گیا کہ ’ایک بیمار اور عمر رسیدہ خاتون کو ہسپتال منتقل کرنے کے بعد ان کے اہلِ خانہ کو ان سے دور رکھنا کس قانون اور کس انتظامی طریقۂ کار کے تحت کیا جا رہا ہے۔‘
پی ٹی آئی نے نورین نیازی کی صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان کی طبی حالت سے متعلق تفصیلات اہلِ خانہ کو فراہم کی جائیں اور انھیں اپنی عزیزہ سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔
بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ ان کی صحت کے بارے میں فوری طور پر شفاف معلومات فراہم کی جائیں، اہلِ خانہ اور معالجین تک رسائی یقینی بنائی جائے اور انہیں غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے۔ بیان میں نورین نیازی کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے نیک خواہشات اور دعاؤں کا بھی اظہار کیا گیا۔
واضح رہے کہ ان الزامات اور مطالبات پر حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔