عالمی جنگ کا خطرہ؛ امریکا چند دنوں میں ایران پر ایٹمی حملہ کر سکتا ہے: امریکی صحافی کا انکشاف

image

امریکا کے معروف صحافی اور سیاسی تجزیہ کار ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت آنے والے چند دنوں میں ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے پر غور کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اس کارروائی کے لیے امریکی صدر پر مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کارلسن نے کہا کہ ممکنہ حملے کا ہدف وسطی ایران کا پہاڑی علاقہ ’پک ایکس‘ ہوسکتا ہے۔ ان کے بقول اسرائیلی خفیہ معلومات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے اس علاقے میں تقریباً 300 فٹ گہری سرنگوں کے اندر یورینیم کی افزودگی دوبارہ شروع کردی ہے۔ کارلسن کا مؤقف ہے کہ ان زیرِ زمین تنصیبات کو روایتی ہتھیاروں سے تباہ کرنا مشکل ہونے کے باعث جوہری حملے کا امکان زیرِ بحث ہے۔

امریکی صحافی نے مزید دعویٰ کیا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو صدر ٹرمپ سے مسلسل رابطے میں ہیں اور ایران کے خلاف سخت فوجی کارروائی چاہتے ہیں۔ انہوں نے امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیٹھ، وزیرِ خارجہ مارکو روبیو، سی آئی اے کے سربراہ جان ریٹکلف اور دیگر اعلیٰ حکام پر بھی اس ممکنہ اقدام کی حمایت کا الزام لگایا ہے۔

کارلسن نے خبردار کیا کہ ایران کے پہاڑی علاقے میں جوہری دھماکے کے اثرات صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہیں گے۔ ان کے مطابق تابکاری اور آلودگی خلیج فارس تک پہنچ سکتی ہے، جس سے خطے میں کروڑوں افراد کے پینے کے پانی، صحت اور ماحول کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اکتوبر کے دوران آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کو پہنچنے والے نقصان نے عالمی توانائی کی منڈیوں میں مشکلات بڑھا دی ہیں۔ ان کے خیال میں مزید فوجی کشیدگی سے تیل کی قیمتوں، تجارت اور خلیجی ممالک کی معیشتوں پر سنگین اثرات پڑ سکتے ہیں۔

ٹکر کارلسن کے مطابق اگر امریکا ایران کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کرتا ہے تو اس سے دنیا میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق قائم پابندیوں اور اصولوں کو بڑا دھچکا پہنچے گا۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایسی کارروائی روس، پاکستان، بھارت اور شمالی کوریا سمیت دیگر جوہری طاقتوں کے لیے بھی خطرناک مثال بن سکتی ہے اور عالمی جنگ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

کارلسن نے اپنے بیان میں امکان ظاہر کیا کہ صدر ٹرمپ 7 نومبر تک اس معاملے پر کوئی فیصلہ کرسکتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر فی الحال محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف ایران کے ساتھ سفارتی حل کے حق میں ہیں۔

دوسری جانب امریکی سیاسی حلقوں میں ان دعوؤں پر مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں۔ مارجوری ٹیلر گرین نے ممکنہ جوہری کارروائی کی سخت مخالفت کی ہے جبکہ سیاسی تبصرہ نگار لورا لومر نے کارلسن کے دعوے کو انتخابی ماحول میں پھیلائی جانے والی افواہ قرار دیا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US