اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 275 ارب روپے کے آبی منصوبوں، وزیراعظم کفایت شعاری فنڈ میں 15 ارب 62 کروڑ 50 لاکھ روپے منتقل کرنے اور دفاعی منصوبوں کے لیے 84 ارب 23 کروڑ روپے سے زائد کی تکنیکی ضمنی گرانٹس کی منظوری دے دی۔
وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کی جانب سے پیش کردہ 11 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں دفاع، آبی وسائل، توانائی، زراعت، نوجوانوں کے کاروبار اور درآمدات سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔
ای سی سی نے وزارت دفاع کی تین سمریوں کی منظوری دیتے ہوئے مختلف جاری دفاعی منصوبوں کے لیے 54 ارب روپے، لائن ایج ایل 1000 طیارے کی شمولیت کے لیے ایک ارب 9 کروڑ 40 لاکھ روپے اور منصوبہ استقلال کے لیے 29 ارب 13 کروڑ 90 لاکھ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹس منظور کر لیں۔ ان فنڈز کا مقصد دفاعی ضروریات اور قومی سلامتی کے تقاضوں کو پورا کرنا ہے۔
اجلاس میں وزارت داخلہ و انسداد منشیات کی سمری پر فرنٹیئر کور بلوچستان (نارتھ) کے ہیلی کاپٹر کی دیکھ بھال کے لیے 37 لاکھ 10 ہزار روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی بھی منظوری دی گئی۔
کمیٹی نے وزیراعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم کے قرضوں کے مختلف درجات اور بینک ریٹ میں مجوزہ نظرثانی کی منظوری دے دی۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو آسان شرائط پر مالی معاونت فراہم کرنے، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مدد دینا ہے۔
ای سی سی نے کفایت شعاری اور ایندھن کی بچت کے اقدامات کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 15 ارب 62 کروڑ 50 لاکھ روپے کی بچت وزیراعظم کفایت شعاری فنڈ 2026 میں منتقل کرنے کی بھی منظوری دی۔
اسی طرح وزارت آبی وسائل کے اہم منصوبوں کے لیے 275 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کر لی گئی، جس سے آبی انفراسٹرکچر کی ترقی اور جاری منصوبوں پر عمل درآمد میں معاونت ملے گی۔
کمیٹی نے کامرس ڈویژن کی سمری پر کیمرے سے لیس اسمارٹ چشموں کی درآمد پر پابندیاں عائد کرنے کی منظوری دی، جبکہ صوبائی حکومتوں اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری انتظامیہ کو ان آلات کے استعمال سے متعلق مناسب دفتری ضوابط وضع کرنے کی سفارش بھی کی۔
اجلاس میں ایس این جی پی ایل کے نظام سے منسلک کھاد بنانے والے دو کارخانوں فاطمہ فرٹ اور ایگری ٹیک کو 31 دسمبر 2026 تک گیس کی فراہمی جاری رکھنے کی منظوری دی گئی، تاہم یہ فراہمی مطلوبہ توانائی کی دستیابی سے مشروط ہوگی۔
ای سی سی نے مقررہ شرائط پوری کرنے سے مشروط 89 پیٹرولیم حقوق کی توسیع اور تجدید کے لیے قابل اطلاق ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن (ای اینڈ پی) قواعد میں نرمی کی بھی منظوری دی۔
مزید برآں مالی سال 2026-27 کے دوران گیس پیدا کرنے والے علاقوں کے پانچ کلومیٹر کے دائرے میں واقع دیہات کو گیس فراہم کرنے کے لیے ایک ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کر لی گئی۔
اجلاس میں وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام، وفاقی سیکریٹریز اور متعلقہ وزارتوں و ڈویژنز کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اہم اعدادوشمار: دفاعی منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 84 ارب 23 کروڑ 90 لاکھ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹس منظور ہوئیں، جبکہ تمام بیان کردہ تکنیکی ضمنی گرانٹس کا مجموعہ 361 ارب روپے سے زائد ہے۔