متحدہ اپوزیشن کے اجلاس میں انتخابی اصلاحات کمیٹی میں شمولیت کے معاملے پر کوئی حتمی فیصلہ نہ ہوسکا، تاہم اس معاملے کو آل پارٹیز کانفرنس میں زیر بحث لانے پر اتفاق کرلیا گیا۔
ذرائع کے مطابق انتخابی اصلاحات کے حوالے سے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے درمیان مختلف آرا سامنے آئیں۔ جے یو آئی کے بعض رہنماؤں نے انتخابی اصلاحات کی حمایت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ نظام میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے اور اصلاحات کے ذریعے کئی معاملات کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی سمیت بعض اپوزیشن رہنماؤں نے انتخابی قوانین میں نئی اصلاحات کے بجائے پہلے سے موجود قوانین پر مؤثر عمل درآمد کو ضروری قرار دیا۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ انتخابی قوانین پہلے ہی بہتر ہیں، جب ان پر عمل درآمد ہی یقینی نہیں بنایا جا رہا تو نئی اصلاحات کا کیا فائدہ ہوگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ متحدہ اپوزیشن نے انتخابی اصلاحات کمیٹی میں نمائندگی کے لیے اتفاق رائے سے نامزدگیاں کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ اس مقصد کے لیے دو رکنی ذیلی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے، جس میں پی ٹی آئی کے سلمان اکرم راجہ اور جے یو آئی کے ایک سینیٹر شامل ہیں۔
ذیلی کمیٹی آل پارٹیز کانفرنس سے قبل اپنی سفارشات مرتب کرے گی، جن کی روشنی میں انتخابی اصلاحات کمیٹی میں شمولیت سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔