اپر سوات کی جھیل سیف اللہ میں کشتی الٹنے کا یہ واقعہ یکم جولائی کو پیش آیا تھا جس کے نتیجے میں لاہور سے تعلق رکھنے والی پاکستانی بحریہ کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کمانڈر عامر، اُن کے 20 سالہ بیٹے عبداللہ، دو بیٹیاں 27 سالہ پروا اور 23 سالہ رویل، جبکہ پروا کے دو کمسن بچے ڈوب کر ہلاک ہو گئے تھے۔
صوبہ خیبرپختونخوا میں پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ سوات کے قریب واقع جھیل سیف اللہ میں لگ بھگ چار ماہ قبل کشتی الٹنے کے نتیجے میں لاپتہ ہونے والی ایک خاتون کی میت اُن کے اہلخانہ کے حوالے کر دی گئی ہے۔
اپر سوات کی جھیل سیف اللہ میں کشتی الٹنے کا یہ واقعہ یکم جولائی کو پیش آیا تھا جس کے نتیجے میں لاہور سے تعلق رکھنے والی پاکستانی بحریہ کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کمانڈر عامر، اُن کے 20 سالہ بیٹے عبداللہ، دو بیٹیاں 27 سالہ پروا اور 23 سالہ رویل، جبکہ پروا کے دو کمسن بچے ڈوب کر ہلاک ہو گئے تھے۔
اسی کشتی پر سوار لیفٹیننٹ کمانڈر عامر کی تیسری بیٹی بشری لاپتہ ہو گئی تھیں اور اُن کی تلاش کے لیے کئی دنوں تک ریسکیو آپریشن کیا گیا تھا، تاہم وہ نہیں مل پائیں جس کے بعد ریسکیو آپریشن کے خاتمے کا اعلان کیا گیا تھا۔
اس واقعے کے لگ بھگ چار ماہ بعد جھیل سیف اللہ سے منسلک مہوڈنڈ جھیل سے چار نومبر کو ایک خاتون کی لاش ملی جس کے بارے میں امکان ظاہر کیا گیا کہ یہ لاپتہ بشری کی ہے۔
ڈسٹرکٹ پولیس افسر اپر سوات جمیل اختر نے بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے بتایا لاش کی برآمدگی کے بعد اس خاندان سے رابطہ کیا گیا جنھوں نے موقع پر پہنچ کی میت کی شناخت بشری کے نام سے کی۔
جب جمیل اختر سے پوچھا گیا کہ کیا میت ڈی این اے ٹیسٹ کی بنیاد پر حوالے کی گئی تو اُن کا کہنا تھا کہ لواحقین نے لاش کی شناخت ظاہری نشانیوں سے کی، جبکہ ڈی این اے نمونے بھی لیبارٹری بھجوائے گئے ہیں جہاں سے مزید تصدیق ہو جائے گی۔
انھوں نے بتایا کہ گذشتہ روز بشری کے ماموں اور دیگر رشتہ دار یہاں پہنچے تھے، جن کے مطابق بشری کا ایک سامنے کا دانٹ ٹوٹا ہوا تھا جبکہ برآمد ہونے والی میت کا بھی ایک دانٹ نہیں تھا۔ اُن کے مطابق خاتون کے پاؤں میں موجود بچے کھچے سینڈل اور جینز کی مدد سے بھی شناخت ممکن ہوئی۔
ڈی پی او کے مطابق چونکہ گذشتہ چار ماہ میں اس پورے علاقے میں کسی خاتون کی گمشدگی کیرپورٹ نہیں تھی، اس لیے انتظامیہ نے لواحقین کی جانب سے شناخت کی بنیاد پر میت حوالے کی۔
اہلخانہ کے مطابق لیفٹیننٹ کمانڈر عامر کی بڑی بیٹی بشری امریکہ میں مقیم تھیں اور اُن کی پاکستان آمد پر ہی اہلخانہ کی جانب سے سیر و تفریح کا یہ پروگرام ترتیب دیا گیا تھا۔ تاہم اس حادثے میں وہ لاپتہ ہو گئی تھیں اور اب چار ماہ بعد مبینہ طور پر اُن کی میت جھیل سے برآمد ہوئی ہے۔
چار ماہ قبل کیا واقعہ پیش آیا تھا؟
’پانی کا بہاؤ انتہائی تیز تھا اور بظاہر کشتی میں موجود افراد خوفزدہ تھے اور مدد کے لیے پہنچنے والی لانچ پر چھلانگ نہیں لگا رہے تھے۔ خاندان کے سربراہ نے ایک مرتبہ چھلانگ لگانے کی کوشش کی، مگر پھر واپس مڑ گئے اور اپنے بچوں کو سنبھالنے لگے۔‘
’اس کے بعد کا منظر وہاں موجود بہت سے لوگوں نے بھی دیکھا کہ خاندان کے سربراہ نے اپنے تمام بچوں کو اپنے ساتھ لگانے کی کوشش کی اور انھیں اپنے بازوؤں کے حصار میں لے لیا۔‘
سعد کریم صوبہ خیبرپختونخوا میں سوات کے قریب واقع سیف اللہ جھیل کے کنارے واقع ایک ریستوران کے مالک ہیں اور اُن کا دعویٰ تھا کہ وہ یکم جولائی 2026 کو اس جھیل میں کشتی ڈوبنے کے واقعے کے عینی شاہد ہیں۔
پاکستانی بحریہ کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کمانڈر عامر کی بڑی بیٹی امریکہ سے پاکستان چھٹیاں گزارنے آئیں تھیں، جس کے بعد اس فیملی نے مل کر سوات جانے کا فیصلہ کیا تاکہ پورا خاندان ایک ساتھ اچھا وقت گزار سکے، مگر اہلخانہ کے مطابق کسی کے وہم و گمان میں نہ تھا کہ اس سفر کا انجام اتنا المناک ہو گا۔
یکم جولائی کو لاہور سے تعلق رکھنے والے ریٹائرڈ فوجی افسر عامر اپنے اہلخانہ کے ہمراہ مہوڈنڈ کے علاقے میں واقع سیف اللہ جھیل میں کشتی میں سوار تھے جب یہ اُلٹ گئی اور اس حادثے کے نتیجے میں اس خاندان کے چھ افراد ہلاک ہوئے۔
عینی شاہدین اور اہلِخانہ کے مطابق حادثہ پیش آنے کے بعد ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کمانڈر عامر اپنے بچوں کو بچانے کی کوشش کرتے رہے تھے اور اسی کوشش میں اپنی جان بھی گنوا بیٹھے۔
واقعے کی ایف آئی آر میں کیا کہا گیا تھا؟
سوات میں پیش آنے والے اس واقعے کا مقدمہ کنعان لیاقت کی مدعیت میں تھانہ کالام میں درج کیا گیا تھا۔
ایف آئی آر کے مطابق درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اُن کے چچا عامر اپنے اہلِخانہ کے ساتھ سیر و تفریح کی غرض سے سوات آئے تھے جہاں انھوں نے پاکستان نیوی کے ریسٹ ہاؤس جالبنڈر میں رات گزاری اور اس کے بعد وہ مہوڈنڈ کے علاقے میں واقع سیف اللہ جھیل کی سیر کے لیے روانہ ہوئے۔
درخواست گزار کے مطابق شام کے وقت انھیں پاکستان نیوی کے دفتر سے اطلاع ملی کہ اُن کے چچا عامر اور اُن کے اہلِخانہ کو سیف اللہ جھیل میں حادثہ پیش آیا ہے اور تمام متاثرین کو کالام ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔
ایف آئی آر میں مزید کہا گیا تھا کہ معلومات کرنے پر معلوم ہوا کہ کشتی کا انجن بند تھا اور مسافروں کو اِسی حالت میں کشتی میں بٹھایا گیا، بعد ازاں گہرے پانی میں پہنچ کر انجن سٹارٹ کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن وہ چل نہ سکا اور ڈرائیور کی مبینہ غفلت کے باعث کشتی الٹ گئی۔
’عامر نے بچوں کو اپنے بازوؤں کے حصار میں لے لیا‘
عینی شاہد سعد کریم نے چار ماہ قبل بی بی سی اُردو کو بتایا تھا کہ سیف اللہ جھیل میں عام طور پر مسافروں کو کنارے پر کشتی میں بٹھایا جاتا ہے اور اس کے بعد کشتی کو دھکا دے کر گہرے پانی کی جانب لے جایا جاتا ہے اور کچھ فاصلے پر پہنچ کر کشتی کا انجن سٹارٹ کیا جاتا ہے۔
ان کے مطابق متاثرہ کشتی کے ساتھ بھی یہی ہوا، لیکن جب کشتی نسبتاً گہرے پانی میں پہنچی تو ڈرائیور انجن سٹارٹ نہ کر سکا۔
سعد کے مطابق ’کشتی پانی کے بہاؤ کی وجہ سے جلد ہی اُس مقام تک پہنچ گئی تھی جہاں جھیل کا پانی دریائے ایشو میں گِرتا ہے۔ وہاں پانی کا بہاؤ بہت تیز ہوتا ہے اور اسی مقام پر یہ کشتی پانی میں ڈوبی۔‘
سعد کے مطابق اس موقع پر صورتحال کو دیکھتے ہوئے کشتی کے ڈرائیور نے مدد کے لیے آواز بھی لگائی جس پر ایک دوسری کشتی مدد کے لیے روانہ بھی ہوئی۔
’ہم کنارے پر یہ سب دیکھ رہے تھے۔جیسے ہی ڈرائیور نے مدد طلب کی تو میں بھی ایک دوسری لانچ لے کر پانی میں نکلا، اور مجھ سے پہلے ایک اور لانچ متاثرہ کشتی کے قریب پہنچ چکی تھی۔‘
سعد کریم کے مطابق امداد کے لیے پہنچنے والی کشتی جیسے ہی متاثرہ کشتی کے قریب پہنچی تو اِس میں موجود افراد سے کہا گیا کہ وہ فوراً مدد کے لیے پہنچنے والی لانچ میں چھلانگ لگا دیں۔
’اس موقع پر متاثرہ کشتی کا ڈرائیور خود چھلانگ لگا کر امدادی لانچ پر پہنچ گیا، مگر بظاہر پانی کے بہاؤ سے خوفزدہ مہمان چھلانگ نہیں لگا پا رہے تھے۔‘
’وہ لوگ خوفزدہ تھے اور چھلانگ نہیں لگا رہے تھے۔ خاندان کے سربراہ نے ایک مرتبہ چھلانگ لگانے کی کوشش بھی کی، مگر پھر واپس مڑ گئے اور اپنے بچوں کو سنبھالنے لگے۔‘
’اس کے بعد کا منظر وہاں موجود بہت سے لوگوں نے بھی دیکھا کہ انھوں نے اپنے تمام بچوں کو اپنے ساتھ لگا لیا اور بازوؤں کے حصار میں لے لیا۔‘
ریستوران کے مالک کے مطابق ’پھر ایک منٹ سے بھی کم وقت میں کشتی پانی میں ڈوب گئی اور اس میں سوار تمام لوگ بھی اس کے ساتھ ڈوب گئے۔‘
سعد کریم کے مطابق یہ مناظر دیکھ کر کچھ مقامی افراد نے پانی میں چھلانگیں بھی لگائیں تاکہ کسی طرح انھیں بچایا جا سکے، مگر سب کچھ اتنی تیزی سے ہوا کہ کسی کو کچھ کرنے کا موقع نہیں ملا۔
’یہ پورا واقعہ ایک منٹ سے بھی کم وقت میں پیش آیا۔ اس ایک منٹ کے اندر اندر کشتی بھی پانی میں غائب ہو گئی اور اس میں سوار لوگ بھی۔‘
ایک اور عینی شاہد مصطفیٰ خان، جو جھیل سیف اللہ پر لانچ چلاتے ہیں، نے بھی تقریباً یہی منظر بیان کیا تھا۔
ان کے مطابق جب کشتی پانی میں ڈوب رہی تھی تو ’ایسا لگ رہا تھا جیسے خاندان کا سربراہ ہر ممکن طریقے سے اپنے بچوں کو بچانے کی کوشش کر رہا تھا،مگر اُس وقت پانی کا بہاؤ انتہائی تیز تھا اور کوئی کچھ نہ کر سکا۔‘
’معلوم نہ تھا کہ یہ سفر اُن کی زندگی کا آخری سفر بن جائے گا‘
ذیشان اوندل ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کمانڈر عامر کے بھتیجے ہیں اور حادثے کے وقت وہ بھی اپنے خاندان کے ہمراہ کالام میں سیر و تفریح کے لیے موجود تھے جب انھیں اس واقعے کی اطلاع پاکستان نیوی کی جانب سے دی گئی تھی۔
ذیشان نے تین جولائی کو بی بی سی اُردو کو بتایا تھا کہ یہ اطلاع ملتے ہی وہ فوراً کالام ہسپتال پہنچے۔
’جب میں ہسپتال پہنچا تو چھ افراد کی لاشیں وہاں موجود تھیں، جن میں میرے چچا کی بیٹی کے دو کم عمر بچوں کی لاشیں بھی شامل تھیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ہسپتال میں موجود لوگوں نے انھیں بتایا کہ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کمانڈر عامر اپنے بچوں کو بچانے کی کوشش کرتے ہوئے پانی میں ڈوب گئے تھے، حالانکہ ان کی پوری زندگی سمندر سے وابستہ رہی تھی اور وہ ایک ماہر تیراک تھے۔
انھوں نے بتایا تھا کہ اس واقعے میں ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کمانڈر عامر کے علاوہ اُن کی شادی شدہ بیٹی فروا، ان کے دو کم عمر بچے، بیٹی راویل اور بیٹا عبداللہ بھی جان کی بازی ہار گئے، جبکہ امریکہ سے چھٹیاں گزارنے آنے والی ان کی بڑی بیٹی بشری تاحال لاپتہ ہیں۔
ذیشان اوندل کے مطابق یہ ٹرپ بشری کی امریکہ سے آمد پر بنایا گیا تھا۔
’جب اس دورے کی منصوبہ بندی ہو رہی تھی تو میرے چچا نے کہا تھا کہ ہمیں سب کو مل کر کچھ وقت اکٹھا گزارنا چاہیے، کیونکہ کسی کو نہیں معلوم کہ مستقبل میں کیا ہو۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ بشری کو پہاڑوں اور پانی سے غیرمعمولی لگاؤ تھا۔
’جب وہ امریکہ سے پاکستان آنے لگی تھیں تو اسی وقت انھوں نے کہہ دیا تھا کہ اس بار ہم ضرور سوات جائیں گے۔‘
ذیشان چند لمحے خاموش رہتے ہیں، پھر آہستہ سے کہتے ہیں کہ شاید خاندان کے کسی فرد نے کبھی یہ تصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ خوشیوں کے لیے ترتیب دیا گیا یہ سفر اُن کی زندگی کا آخری سفر بن جائے گا۔