شارع فیصل پر بڑی ریڈ: انٹرنیشنل کریڈٹ کارڈ فراڈ، حوالہ ہنڈی اور آن لائن ڈرگز سپلائی میں ملوث ملزمان گرفتار

image

نیشنل کاؤنٹر کرائم انٹیلی جنس ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر شہزاد اکبر نے کراچی میں اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ سائبر کرائمز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور روایتی جرائم سے وابستہ عناصر بھی اب سائبر دنیا کا رخ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سائبر کرائمز کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اور اس نظام میں مجرمان کے لیے اپنی شناخت چھپانا انتہائی آسان ہوتا ہے، بالخصوص جعلی شناخت ظاہر کر کے لوگوں کے بینک اکاؤنٹس خالی کرنا ایک سنگین غیر قانونی عمل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ادارے نے حال ہی میں متعدد قابل ذکر اور کامیاب کارروائیاں کی ہیں، جن میں چند روز قبل ڈارک ویب کے حوالے سے ایک متاثرہ بچی کو باحفاظت بازیاب کرانا بھی شامل ہے۔

کراچی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ شہر میں اس وقت 300 سے 350 اسکیمنگ کال سینٹرز کام کررہے ہیں اور ایجنسی ان تمام کے خلاف بلاامتیاز اقدامات کر رہی ہے۔

اسی سلسلے میں شارع فیصل پر واقع کاوش کراؤن پلازہ میں ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے شہر کی ٹاپ تھری کمپنیوں میں سے ایک کے خلاف ایکشن لیا گیا ہے۔ اس کمپنی کے خلاف ماضی میں بھی کارروائی کی گئی تھی، تاہم صرف مالکان پر گرفت کی وجہ سے اس نیٹ ورک نے دوبارہ کام شروع کردیا تھا، اسی لیے اس بار پورے نیٹ ورک کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

اس ریڈ کے دوران تقریباً 100 خواتین اور 42 ٹین ایجرز (کم عمر لڑکے اور لڑکیاں) بھی کارروائی کی زد میں آئے ہیں۔

ایڈیشنل ڈائریکٹر کے مطابق یہ سائبر بزنس تکنیکی نوعیت کے ہوتے ہیں جو نہ صرف بین الاقوامی سطح پر فراڈ میں ملوث تھے بلکہ لوکل شہریوں بالخصوص ریٹائرڈ افراد کو بھی مختلف جھانسے دے کر مالی نقصان پہنچا رہے تھے۔

ریڈ کے دوران 339 لیپ ٹاپس ضبط کیے گئے ہیں، جن میں سے ایک ایک لیپ ٹاپ پر متعدد جعلی آئی ڈیز بنائی گئی تھیں۔ ان ڈیوائسز سے ہزاروں غیر ملکی افراد کا ڈیٹا اور کریڈٹ کارڈز کی تفصیلی معلومات برآمد ہوئی ہیں۔

ملزمان پرکشش آفرز کا لالچ دے کر کریڈٹ کارڈ ہولڈرز کے اکاؤنٹس خالی کر دیتے تھے۔ ان برآمد شدہ لیپ ٹاپس اور کال سینٹرز کے کام سے منی لانڈرنگ، حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی مرچنٹس کی شمولیت کے واضح شواہد بھی ملے ہیں۔

اس کے علاوہ شہزاد اکبر نے تعلیمی اداروں کی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ یونیورسٹیز میں آن لائن ڈرگز اور مختلف پلز (گولیاں) کی فروخت اور استعمال کا انکشاف ہوا ہے، جس پر ایکشن لیتے ہوئے 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US