کراچی کے نئے تعمیر شدہ سندھی مسلم فوڈ واک پر آنے والے شہریوں نے شکایت کی ہے کہ ریسٹورنٹس سے کھانا یا مشروبات خریدے بغیر کرسیوں پر بیٹھنے کے لیے 600 روپے طلب کیے جا رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد شہریوں نے بتایا کہ فوڈ واک کے پیدل چلنے والے راستے پر رکھی گئی کرسیوں پر بیٹھنے کے لیے ریسٹورنٹ کا عملہ ان سے 600 روپے مانگ رہا ہے۔
ایک ریسٹورنٹ کے ملازم نے مبینہ طور پر شہریوں کو بتایا کہ یہ رقم کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) اور متعلقہ ٹاؤن میونسپل کارپوریشن (ٹی ایم سی) کی جانب سے میزوں اور کرسیوں کے لیے وصول کی جانے والی ماہانہ فیس کے تحت لی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ سندھی مسلم فوڈ واک کو شہریوں کی تفریح، پیدل چلنے اور کھلی فضا میں کھانے پینے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
دوسری جانب ٹی ایم سی چنیسر ٹاؤن نے سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ فوڈ واک کی نگرانی ٹاؤن انتظامیہ کرتی ہے، تاہم نہ تو ٹاؤن انتظامیہ اور نہ ہی کے ایم سی ریسٹورنٹس سے اس جگہ کے استعمال کی کوئی فیس وصول کرتی ہے۔
ٹاؤن انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اگر کوئی ریسٹورنٹ بیٹھنے کے پیسے طلب کرتا ہے تو اس کے خلاف تحریری شکایت یا تصاویر فراہم کی جائیں تاکہ متعلقہ ریسٹورنٹ سے وضاحت طلب کی جا سکے۔
سوشل میڈیا پر ایک اور شہری نے بھی 600 روپے طلب کیے جانے کی شکایت کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر عوامی مقامات پر بیٹھنے کے لیے بھی پیسے وصول کیے جائیں گے تو وہ خاندان جو کھانا خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے، ایسی تفریحی جگہوں سے کیسے لطف اندوز ہوں گے؟
شہریوں کی شکایات کے بعد فوڈ واک پر بیٹھنے کے لیے مبینہ فیس کی وصولی پر سوالات اٹھ رہے ہیں، تاہم متعلقہ انتظامیہ نے ایسی کسی سرکاری فیس کی موجودگی سے انکار کیا ہے۔