
پاکستان کے سابق کپتان اور وکٹ کیپر معین خان کے بیٹے اعظم خان نے ٹی ٹوئنٹی لیگز کی دنیا میں قدم رکھا تو ان کا جارحانہ بیٹنگ سٹائل اور غیر معمولی طاقت ان کی پہچان بنا اور جلد ہی وہ قومی ٹیم کا بھی حصہ بن گئے۔ تاہم ان کی فٹنس سے متعلق خدشات اور ان کے زیادہ وزن پر ہونے والی تنقید بھی ان کے ڈیبو کے بعد سے ان کے ساتھ جڑی رہی۔
حال ہی میں ایک پوڈ کاسٹ میں بات کرتے ہوئے اعظم خان نے خود سے جڑے فٹنس مسائل، قومی ٹیم میں مستقل جگہ نہ بنا پانے، اپنے کراچی سے لاہور منتقل ہونے کے فیصلے اور ملک میں کرکٹ فینز کے رویے کے متعلق کھل کر بات کی ہے۔
اس انٹرویو کے دوران انھوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں کرکٹرز کی فین بیس ’جاہل‘ ہے۔
BBC World Service کی نئی ایپ ڈاؤن لوڈ کریں، 'BBC News اردو' ایڈیشن کا انتخاب کریں اور نیوز الرٹس، تحقیقاتی اور تفصیلی رپورٹس، سب کچھ ایک ہی جگہ پر حاصل کریں
ان کا کہنا تھا کہ ایک مرتبہ وہ آئر لینڈ میں بابر اعظم کے ساتھ بیٹنگ کر رہے تھے۔ ’بابر 75 رنز پر کھیل رہے تھے اور ہمیں جیت کے لیے 40 رنز درکار تھے۔
’کسی نے میرے انسٹاگرام پر کمنٹ کیا کہ اگر تم نے بابر کی سنچری رکوائی تو تمھاری اماں مر جائے اور تمھارے ابو کو کینسر ہو، ایسا کچھ لکھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اتنی جاہل فین بیس ہے ہمارے کرکٹرز کی۔‘
’بابر یا ان کے کھیل میں کوئی برائی نہیں، لیکن ان کے فینز بہت ٹاکسک ہیں۔‘
اعظم خان کا کہنا تھا کہ آپ جب وہ چیزیں دیکھتے ہیں تو سوچ میں پڑ جاتے ہیں کہ کوئی ایسی بات کہے گا بھی کیوں۔
جہاں اعظم خان کے اس بیان پر کچھ سوشل میڈیا صارفین ان سے متفق دکھائی دیتے ہیں وہیں کئی صارفین اس پر تنقید کرتے نظر آئے۔
ایک صارف کا کہنا تھا کہ ’اس کو بھی مشہور ہونا ہے، چلو خیر ہے۔‘
عزیر خان نامی ایک صارف لکھتے ہیں یہ بات کوئی ایسا شخص ہی کہہ سکتا ہے جس کا خود کا کوئی فین نہ ہو۔

’پہلے چھپ کر برگر کھاتا تھا، اب کھلے عام کھاتا ہوں‘
فٹنس ایک ایسا شعبہ ہے جس کے حوالے سے اعظم خان کو اکثر تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
2024 میں امریکہ اور ویسٹ انڈیز میں کھیلے گئے ورلڈ کپ کے دوران جہاں پاکستان ٹیم کو اپنی ناقص کارکردگی کے حوالے سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا وہیں اعظم خان کی بھی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں بظاہر انھیں ایک برگر شاپ پر کھڑے دیکھا جا سکتا تھا۔
اس ویڈیو کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اعظم خان کا کہنا تھا کہ ’اس دن ہم لوگ پورا دن پیدل چل رہے تھے، ہم سینٹرل پارک گئے اور تقریباً 14 ہزار قدم چل چکے تھے۔ میں نے کہا کہ مجھے بھوک لگ رہی تو میرےکزن نے بولا کہ یہاں مت کھاؤ، تیری کوئی ویڈیو بنا لے گا۔‘
اعظم خان کا کہنا ہے کہ اگلے دن جب وہ کیمپ میں پہنچے تو وہاب ریاض نے ان سے پوچھا کہ ’تم کل برگر کھا رہے تھے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ جب انھوں نے انکار کیا تو وہاب ریاض نے ان کی ویڈیو دکھائی۔
’میں نے کہا میں برگر نہیں کھا رہا تھا، یہ ہاٹ ڈاگ ہے۔‘
انٹرویو کے دوران انھوں نے اس ہی طرز کا ایک اور واقعہ سنایا کہ جب 2023 میں نجم سیٹھی پی سی بی کے چیئرمین تھے تو شارجہ میں پاکستان اور افغانستان کی سیریز کے دوران وہ ٹیم سے ملنے آئے۔
اعظم خان کے مطابق نجم سیٹھی نے ان سے کہا کہ ’میں نے سنا ہے کہ تم چھپ کر برگر پیزا کھاتے ہو۔‘
’میں نے کہا نہیں سر، پہلے کھاتا ہوں گا، اب سامنے کھاتا ہوں۔‘
کراچی اور لاہور کا موازنہ
کراچی اور لاہور کا موازنہ کرتے ہوئے اعظم خان کا کہنا تھا کہ لاہور کا انفراسٹرکچر بہت بہتر ہے لیکن کراچی کے کھانے کا کوئی مقابلہ نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی کا پیزا بھی لاہور کی نہاری سے بہتر ہے۔
اس پر ایک ایکس صارف کا کہنا تھا کہ ’پیزا برگر کھانے والے نہاری کا ذائقہ کیا جانیں۔‘
ایک اور صارف کہتے ہِیں کہ کراچی سے لاہور منتقل ہونے کے بعد بھی کراچی کے پیزا کو لاہور کی بہتر کہنے کے لیے ہمت کی ضرورت ہوتی ہے۔
اعظم خان کے اس بیان پر کہ کراچی میں لوگ صبح پانچ بجے تک لوگ ہوٹلوں پر بیٹھے چائے اور پراٹھے کھا رہے ہوتے ہیں، ایک صارف کا کہنا تھا کہ ’کسی کھلاڑی کا ایسی بات کھلے عام کہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس میں اپنے کھیل کو بہتر کے لیے درکار کردار، نظم و ضبط اور ذہنیت کی کمی ہے۔‘
BBC World Service کی نئی ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔
'BBC News اردو' ایڈیشن کا انتخاب کریں اور نیوز الرٹس، تحقیقاتی اور تفصیلی رپورٹس، سب کچھ ایک ہی جگہ پر حاصل کریں۔
نوٹ: نئی ایپ برطانیہ اور امریکہ میں دستیاب نہیں ہے اور اس کا انگریزی زبان میں ایڈیشن موجود نہیں۔