وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اپنے مقاصد حاصل ہونے تک جاری رہے گا جبکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ فی الحال کوئی باضابطہ مذاکرات نہیں ہو رہے۔
ایک انٹرویو میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ بیک ڈور رابطے ہوتے رہتے ہیں، تاہم باضابطہ مذاکرات کا کوئی سلسلہ جاری نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور افغانستان کی مدد سے دہشت گردی کا ناسور پھیل رہا ہے جس کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تمام فریقین کو اعتماد میں لیا جائے گا، تاہم اس جنگ میں کامیابی کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں۔
مولانا فضل الرحمان کے گورنر راج سے اختلاف پر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ انہیں اختلاف رائے کا پورا حق حاصل ہے، ہم جے یو آئی (ف) کی رائے سے اختلاف کر سکتے ہیں اور وہ بھی اپنا مؤقف رکھنے میں آزاد ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ کسی قسم کی لڑائی نہیں، معاملہ صرف اختلاف رائے کا ہے۔
پنجاب میں کرپشن سے متعلق وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ثبوتوں کے بغیر اس نوعیت کے الزامات عائد نہیں کرنے چاہئیں، خود چوہدری سالک بھی کہہ چکے ہیں کہ ان کے پاس الزامات کے حق میں کوئی ثبوت موجود نہیں۔