بحیرہ سفید: روسی تجرباتی رینج کے قریب بڑھتے ہوئے تابکاری اثرات

واشنگٹن — 

روس کے موسمیاتی پیمائش کے ادارے نے اطلاع دی ہے کہ ’ارخان جک‘ کی بحری تجربہ گاہ کے قریب تابکاری کے کافی اثرات کا پتا لگایا گیا ہے، جہاں گذشتہ ہفتے دھماکہ ہوا تھا اور آگ لگ گئی، جس میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوئے۔

اگست 13 کے بیان سے ’روسگیودمیت‘ کی ان اطلاعات کو مزید تقویت ملتی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ بحیرہ سفید میں ’نیونوکسا رینج‘ میں ہونے والے اس مشاہدے سے نہ صرف میزائل کی زہریلی ایندھن کا پتا چلتا ہے بلکہ نامعلوم نوعیت کے تابکاری مواد کا بھی ثبوت ملتا ہے۔

آٹھ اگست کے واقعے پر مقامی اور وفاقی اہلکاروں میں گھبراہٹ اور لاعلمی کا عنصر غالب نظر آتا ہے، آیا مجموعی طور پر کتنی ہلاکتیں واقع ہوئیں؛ اور ساتھ ہی یہ کہ اصل میں یہ کس قسم کا تجربہ تھا۔

تیرہ اگست کو کریملن نے دھماکے کے بارے میں پہلا بیان جاری کیا، حالانکہ ترجمان دمتری پیسکاف نے مختصر اطلاع دی کہ یہ جوہری توانائی سے چلنے والے نئے میزائل کے تجربے کا نتیجہ تھا، جیسا کہ کچھ امریکی تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی ہے۔

روسی خبر رساں اداروں نے پیسکاف کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’’بدقسمتی سے حادثات ہوتے ہیں۔ یہ المناک حادثہ ہے۔ اور اس معاملےمیں یاد رکھنے والی اہم بات وہ ہیروز ہیں جن کا ان حادثات میں جانی نقصان ہوا‘‘۔

’سیورودونسک‘ بحری جہازسازی کی بندرگاہ ہے۔ اس شہر سے ٹیسٹ سائٹ 30 کلومیٹر دور واقع ہے۔ اطلاعات کے مطابق جیسے ہی حادثے کی اطلاعات موصول ہوئیں، انھوں نے شہر کی فارمیسیوں سے آئیوڈین کے ڈراپس خریدے۔ اس قسم کی تابکاری کے بعد اکثر لوگ گلے کے غدود کی حفاظت کے لیے آئیوڈین کے ڈراپس استعمال کرتے ہیں۔

خبر رساں ادارے، ’تاس‘ میں شائع ہونے والے بیان میں، ’روسگیودمیت‘ نے شمالی خطے میں واقع مشاہداتی ادارے کی جانب سے جمع کردہ ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ آٹھ اگست کو ’سیورودنسک‘ میں عام سطح کے مقابلے میں گاما ریڈئیشن کی سطح چار سے 16 گنا زیادہ بڑھ چکی تھی۔

’تاس‘ نے سرکاری تحویل میں کام کرنے والے نیوکلیئر ادارے، ’روستم‘ کا بھی حوالہ دیا ہے، یہ کہتے ہوئے کہ یہ سطح انسانوں کے لیے بے ضرر ہے۔

اس سے قبل، آٹھ اگست کو ’ارخان جک‘ کی علاقائی ہنگامی صورت حال سے نبرد آزما ہونے والے اہلکاروں کی جانب سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ عام سطح کے مقابلے میں ریڈئیشن کی سطح 20 گنا زیادہ ہے۔

’سیورودنسک‘ کی شہری انتظامیہ کی جانب سے بھی آٹھ اگست کو ایک بیان شائع ہوا جس میں ریڈئیشن میں اضافے کی بات کی گئی تھی، حالانکہ بعد میں ویب سائٹ سے یہ بیان ہٹا دیا گیا تھا۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.