بابری مسجد، رام مندر تنازع: کب کیا ہوا؟

انڈین سپریم کورٹ ملک کی تاریخ کے طویل اور متنازع ترین مقدمے کا فیصلہ سنیچر 9 نومبر کو سنانے جا رہی ہے، لیکن اس معاملے کی تاریخ کیا ہے؟ Getty Images

انڈیا کی سپریم کورٹ میں ملک کے سب سے پرانے اور طویل عرصے سے چلے آ رہے مذہبی تنازع کے مقدمے کی سماعت 16 اکتوبر کو مکمل ہو گئی تھی، جس کے بعدامید ظاہر کی جا رہی تھی کہ اس کا فیصلہ چیف جسٹس رنجن گوگئی 17 نومبر کو اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے سے قبل کسی بھی دن سنا سکتے ہیں۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اب یہ فیصلہ سنیچر، 9 نومبر، کو سنایا جائے گا۔

بابری مسجد کیس کیا ہے اور اس کا پس منظر کیا، اس حوالے سے ہم نے ذیل میں کچھ بنیادی سوالوں کے جواب فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بابری مسجد، رام مندر کیس کا فیصلہ سنیچر کو

بابری مسجد کی کہانی، تصویروں کی زبانی

بابری مسجد کیس: ’اسلام میں عبادت کے لیے مسجد لازمی نہیں‘

Getty Imagesسنہ 1992 میں انہدام سے قبل بابری مسجدایودھیا کی زمین کا جھگڑا ہے کیا؟

جس مقام پر بابری مسجد تعمیر تھی وہ قطعہ زمین ریاست اتر پردیش کے ضلع ایودھیا میں واقع ہے۔

بابری مسجد تنازع کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ ہندوؤں کے مطابق مغل بادشاہ بابر کے زمانے میں اس مسجد کی تعمیر سے ان کے دیوتا رام کی جنم بھومی تک رسائی ختم کر دی گئی تھی۔ کیا واقعی مسجد کی تعمیر سے پہلے وہاں کوئی ہندو مندر موجود تھا جسے گرا کر یا اس میں کوئی ترمیم کر کے مسجد بنائی گئی تھی؟

یاد رہے کہ ہندو شدت پسند گروہوں نے بابری مسجد کو 6 دسمبر 1992 کو تباہ کر دیا اور اس بعد ہی اس قطعہ زمین کی ملکیت کے حوالے سے ایک مقدمہ الہ آباد کی ہائیکورٹ میں درج کرایا گیا تھا۔

الہ آباد ہائیکورٹ نے اپنا فیصلہ 30 ستمبر 2010 کو سنایا تھا۔ اس میں تین ججوں نے حکم دیا تھا کہ ایودھیا کی دو اعشاریہ 77 ایکڑ زمین کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے۔ اس میں سے ایک تہائی زمین رام للا مندر کے پاس جائے گی جس کی نمائندگی ہندو مہاسبھا کرتی ہے، ایک تہائی سُنّی وقف بورڈ کو جائے جبکہ باقی کی ایک تہائی زمین نرموہی اکھاڑے کو ملے گی۔

اپنے حکم میں الہ آباد ہائیکورٹ نے اعتراف کیا تھا کہ اس نازک معاملے کا فیصلہ کرنا آسان نہیں تھا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ’یہ زمین کا ایک وہ چھوٹا سا ٹکڑا ہے جہاں فرشتے بھی پاؤں رکھنے سے ڈرتے ہیں۔ اس زمین میں لاتعداد بارودی سرنگیں دفن ہیں۔ ہمیں اس زمین کو (جھگڑوں سے ) پاک کرنے کام دیا گیا ہے۔‘

فیصلے کے دن کیا متوقع ہے

چیف جسٹس رنجن گگوئی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ جس دن فیصلے کا اعلان کرے گا اس میں یہ واضح کیا جائے گا کہ ایودھیا کی متنازعہ زمین کس کی ملکیت ہے اور اس کا کون سا حصہ کس فریق کا ہے۔ ممکن ہے کہ سپریم کورٹ الہ آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھے اور زمین تمام فریقوں کے درمیان تقسیم کر دے۔

فیصلے کے دن پانچوں جج ایک ایک کر کے اپنا فیصلہ پڑھ کر سنائیں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فیصلہ سنانے کا آغاز چیف جسٹس خود کریں گے۔

اس نہایت متنازع مقدمے کے فیصلے کے دن یقیناً کمرہ عدالت کچھا کھچ بھرا ہوگا۔ بی بی سی کے نامہ نگار کوشک بسواس کا کہنا ہے کہ یہ دن انڈیا کی عدالتی تاریخ کا بہت بڑا دن ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے

بابری مسجد، رام مندر تنازع: فیصلے کی گھڑی آن پہنچی

’صرف بابری مسجد ہی نہیں بلکہ بہت کچھ ٹوٹا‘

بابری مسجد کیس میں اڈوانی اور جوشی پر مقدمہ چلے گا

Getty Images

یاد رہے کہ ستمبر 2010 میں الہ آباد ہائیکورٹ نے جو فیصلہ صادر کیا تھا اس میں تین اہم سوالوں کے جواب دیے گئے گئے تھے۔ اس میں کہا گیا تھا کہ متنازع قطعہ زمین رام کی جنم بھومی ہے، یہاں پر مسجد کی تعمیر ایک مندر کو گرا کر کی گئی تھی، اور یہ مسجد اسلام کے اصولوں کے مطابق تعمیر نہیں کی گئی تھی۔

اس فیصلے کے بعد ہندو برادری کو یہ امید تھی کہ اب یہاں ایک مندر تعمیر ہو جائے گا، جبکہ مسلمانوں کی طرف سے یہ مطالبہ قائم رہا کہ بابری مسجد کو دوبارہ تعمیر کیا جائے۔

سنہ 2010 ہندو اور مسلمان تنظیموں نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیلیں دائر کر دیں تھی جس کے بعد سنہ 2011 میں سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو معطل کر دیا تھا۔

بینچ میں کون کون شامل ہے؟

سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کی سربراہی چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گوگوئی کر رہے ہیں، جبکہ اس میں دیگر چار جج صاحبان میں جسٹس ایس اے بوبدے، جسٹس اشوک بھوشن، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس ایس عبد النذیر شامل ہیں۔

جسٹس نذیر اس بینچ میں واحد مسلمان جج ہیں۔

انڈیا کے سینیئر وکیل ڈاکٹر صورت سنگھ کہتے ہیں کہ ’چونکہ ان ججوں نے شروع سے اس مقدمے کی سماعت کی ہے اور وہ اس کی ہر سماعت میں شامل رہے ہیں، اس لیے بہتر یہی ہے کہ یہی بینچ اس مقدمے کا حتمی فیصلہ بھی سنائے۔‘

رام مندر اور بابری مسجد کی تاریخ کیا ہے؟

ایودھیا کی تاریخی بابری مسجد پر ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تنازع کو ایک صدی سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے۔

ہندوؤں کا دعویٰ ہے کہ یہ زمین ان کے بھگوان رام کی جائے پیدائش ہے۔ اور یہاں پر بابری مسجد کی تعمیر ایک مسلمان نے سولہویں صدی میں ایک مندر کو گرا کر کی تھی۔

مسلمانوں کا کہنا ہے کہ وہ دسمبر 1949تک اس مسجد میں نماز پڑھتے رہے ہیں، جس کے بعد کچھ لوگوں نے رات کی تاریکی میں رام کے بت مسجد میں رکھ دیے تھے۔ مسلمانوں کے مطابق اس مقام پر بتوں کی پوجا اس واقعے کے بعد ہی شروع ہوئی ہے۔

اس کے بعد کے چار عشروں میں کئی مسلمان اور ہندو تنظیمیں اس زمین پر اختیار اور عبادت کے حق کے لیے عدالتوں کا رخ کرتی رہی ہیں۔

لیکن اس تنازع میں شدت 1992میں اس وقت آئی تھی جب ہندو انتہا پسندوں نے مسجد کو تباہ کر دیا۔ اس واقعے کے بعد ملک بھر میں ہونے والے مذہبی ہنگاموں میں کم و بیش دو ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

سنہ 2010میں الہ آباد ہائی کورٹ کے تین رکنی بینچ میں شامل دو ہندو ججوں نے کہا تھا کہ مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر نے اس مقام پر جو عمارت تعمیر کی تھی وہ مسجد نہیں تھی، کیوںکہ ایک مندر کے مقام پر مسجد کی تعمیر ’اسلام کے اصولوں کے خلاف‘ ہے۔

تاہم بینچ میں شامل مسلمان جج نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا تھا کہ مسجد کی تعمیر کے لیے اس مقام پر کسی مندر کو نہیں گرایا گیا تھا، بلکہ مسجد کی تعمیر ایک کھنڈر پر ہوئی تھی۔

بابری مسجد کیسے تباہ کی گئی؟

چھ دسمبر 1992کو ہندو انتہا پسند تنظیم وشوا ہندو پریشد کے کارکنوں، بھارتیہ جنتا پارٹی کے کچھ رہنماؤں اور ان کی حامی تنظیموں کے کارکنوں نے مبینہ طور پر تقریاً ڈیڑھ لاکھ رضاکاروں کے ہمراہ اس مقام پر چڑھائی کر دی۔ یہ جلوس وقت کے ساتھ ساتھ پرتشدد ہوتا گیا اور وہ کئی گھنٹے تک ہتھوڑوں اور کدالوں کی مدد سےمسجد کی عمارت کو تباہ کرتے رہے۔

اس واقعے کے بعد اس وقت کے انڈیا کے صدر شنکر دیال شرما نے ریاست اتر پردیش کی اسمبلی کو برخواست کرتے ہوئے ریاست کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔ اور پھر 1993میں ایک صدارتی حکم کے تحت بابری مسجد کے ارد گرد زمین کا 67.7ایکڑ رقبہ وفاقی حکومت نے اپنے اختیار میں لے لیا۔

اس کے بعد بابری مسجد کے واقعے کی تفتیش کے لیے ایک کمیشن قائم کیا گیا جس میں بی جے پی اور وشوا ہندو پریشد کے کئی رہنماؤں سمیت 68افراد کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ اس کیس کی سماعت اب تک جاری ہے۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.