کیا واقعی اسٹیٹ بینک نے پانچ ہزار روپے کے نوٹ پر پابندی لگا دی؟

حکومت کی جانب سے 5 ہزار روپے کا کرنسی نوٹ ختم کرنے کی خبر کی تردید کر دی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسٹیٹ بینک کےگورنررضا باقر نے کہاہےکہ میڈیا پرزیرگردش خبروں میں کوئی صداقت نہیں، مرکزی بینک ملک کے سب سے بڑے کرنسی نوٹ کو ختم کرنے کا فی الحال کوئی ارادہ نہیںرکھتا۔

گورنراسٹیٹ بینک نےکہا ہےکہ میڈیاپرپاکستان کے سب سے بڑے 5 ہزارروپے کے کرنسی نوٹ کو ختم کیے جانے کے حوالے سے چلنے والی خبردرست نہیں۔

انہوں نےکہاکہ مہنگائی کی وجہ سے شرح سود میں اضافہ کرنا پڑا،مہنگائی بڑھنے کی وجہ کچھ خرابیاں تھیں جن پر قابو پایا جارہا ہے۔

گورنراسٹیٹ بینک نے کہاکہ آئی ایم ایف نے معاشی جائزہ لیا ہے، پاکستانی معیشت میں بہت بہتری آئی ہے، اسٹاک اور فاریکس مارکیٹ بہترہورہی ہے۔

گورنراسٹیٹ بینک کاکہناتھاکہ کاروبار میں آسانی کے لیے آج دو سرکلر ویب پر لگائے ہیں، درآمد پر پیشگی ادائیگی آسان کردی ہے، بیرون ملک سے خدمات حاصل کرنے کا عمل آسان کیا ہے۔

رضا باقر نے کہا کہ کچھ ماہ پہلے معیشت کو سنگین مسائل درپیش تھے، افراط زر کم ہوگا تو شرح سود کا جائزہ لیں گے، کاروبارکرنے میں شرح سود کے علاوہ دیگر عوامل ہوتے ہیں، ایڈوانس ادائیگیوں کے لیے جولائی 2018 میں پابندی لگادی تھی،زرمبادلہ کے ذخائر کم ہورہے تھے اور شرح مبادلہ اوور ویلیو تھی، مینو فیکچرنگ کے لیے ایڈوانس ادائیگی نہیں تھی۔

گورنراسٹیٹ بینک نے کہا کہ بیرون ملک سے 10 ہزارڈالرتک کی خدمات کی اجازت دے دی ہے، امپورٹس اور خدمات میں پہلے مرحلے میں 10 ہزارڈالر کی رعایت کی ہے، مستقبل میں اس شعبے میں مزید مراعات دی جائیں گی، خدمات، امپورٹس پر رعایت سے چھوٹے، درمیانےکاروبارکا فائدہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ مئی 2018 میں پاکستانی روپے کی شرح مبادلہ کو مارکیٹ میں بیس کیا، آج فاریکس مارکیٹ میں حالات مستحکم ہوئے ہیں، روپے کی قدر میں استحکام سےکاروبارمیں آسانی دی ہے۔

رضا باقر نے کہا کہ ایکسپورٹرز کا معیشت میں اہم کردار ہے، ایکسپورٹ سے ہی غربت میں کمی، معیشت میں بہتری ہوتی ہے، سستے قرضوں کے ذریعے ایکسپورٹ کو سپورٹ کرتے ہیں، ایکسپورٹرز کے لیے قلیل مدتی اور طویل مدتی سستے قرضے دیتے ہیں۔


Click here for Online Academic Results

 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.