میگاپکسلز کسی کیمرے کی تصاویر کی کوالٹی میں اہم کردار ادا نہیں کرتے: ماہرین

جب بھی ایپل، سام سنگ یا کوئی اور برینڈ نیا موبائل فون متعارف کرواتی ہے تو صارفین سکرین، بیٹری اور خاص طور پر کیمرے کے بارے میں ہی پرجوش دکھائی دیتے ہیں۔

آئی فون کے تازہ ترین ماڈل آئی فون 11 میں 12 میگاپکسل کا کیمرہ دیا گیا ہے اور سام سنگ گیلیکسی نوٹ 10 میں 16 میگاپکسل کا کیمرہ ہے۔

ہواوے کے میٹ 30 ورژن میں ٹرپل کیمرا سسٹم ہے جس میں 40 میگاپکسل کا سینسر، ایک 16 میگاپکسل کا الٹرا وائڈ اینگل اور آٹھ میگاپکسل کا ٹیلی فوٹو لینس موجود ہے۔

یہ سب حیران کن ہے نا؟

مگر آپ چاہے میگاپکسلز کے لیے کتنے ہی بے تاب کیوں نہ ہوں، سچ تو یہ ہے کہ یہ خیال کہ زیادہ میگاپکسلز زیادہ بہتر کوالٹی کی تصاویر دیتے ہیں، غلط ہے۔

کئی صارفین اس نمبر سے اس لیے متاثر ہوجاتے ہیں کیونکہ بہرحال پانچ میگاپکسل سننے میں آٹھ میگاپکسل جتنا اچھا نہیں لگتا، بھلے ہی کیمرہ بہترین تصاویر لیتا ہو۔

اور یہی منطق استعمال کرتے ہوئے دیکھیں تو 12 میگاپکسل تو آٹھ سے اور بھی زیادہ اچھا ہوگا!

مگر ایسا نہیں ہوتا۔ اور یہ ہم نہیں بلکہ ماہرین کہتے ہیں۔

امریکی جریدے سائنٹیفک امیریکن کے مطابق سیل فونز کے کیمروں کو اس طرح جانچنے کے پیچھے موجود راز یہ ہے کہ 'فوٹوگرافک کارکردگی پرکھنے کے لیے صرف میگاپکسلز کی تعداد گننا صحیح طریقہ نہیں۔'

اسے درست انداز میں سمجھانے کے لیے ہمیں یہ ذہن میں رکھنا ہوگا کہ میگاپکسل کی تعداد کیمرے کی ریزولوشن بتاتی ہے۔

اور ریزولوشن تصویر کے سائز پر تو اثرانداز ہوتی ہے، مگر اس کی کوالٹی پر نہیں۔

اس سے ہمیں یہ پتا چلتا ہے کہ ہم تصویر کی شارپنیس کھوئے بغیر کسی تصویر کو کتنا بڑا کر سکتے ہیں۔

یعنی اس کا مطلب ہے کہ اگر آپ اپنی کسی تصویر کو اے فور کے سائز پر پرنٹ کرنا چاہتے ہیں تو اس سے فرق نہیں پڑتا کہ آپ کس موبائل کا انتخاب کرتے ہیں۔

اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ اسے کسی بڑے سائز مثلاً اے ٹو پر پرنٹ کروائیں، تو آپ کو میگاپکسلز کی تعداد کی فکر کرنی چاہیے۔

مگر موبائل فونز سے لی گئی زیادہ تر تصاویر سوشل میڈیا نیٹ ورکس پر پوسٹ کی جاتی ہیں، واٹس ایپ پر شیئر کی جاتی ہیں یا پھر کسی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کی جاتی ہیں، جہاں لوڈ ہونے کے لیے انھیں سائز میں چھوٹا ہونا چاہیے۔

’سائز سے فرق پڑتا ہے‘

سپین میں ہائیر کونسل فار سائنٹیفک ریسرچ کے آپٹکس انسٹیٹیوٹ کے محقق سرجیو باربیرو برائیونیس کے نزدیک جس چیز سے فرق پڑتا ہے وہ پکسلز کی تعداد نہیں بلکہ ان کا سائز ہے۔

اور اس کا فیصلہ سینسر کرتا ہے جس کا کام روشنی اکھٹا کرنا ہوتا ہے۔

ماہر فوٹوگرافرز کا کہنا ہے کہ 'روشنی کے بغیر کوئی فوٹو نہیں ہوسکتی۔'

باربیرو کہتے ہیں کہ 'پکسل جتنی چھوٹی ہوگی اتنا ہی زیادہ بہتر ہوگا۔'

اور اگر آپ کی کسی بھی تصویر کی حتمی شکل کا فیصلہ فزکس کے قوانین کے تحت نہ ہونا ہوتا، تو 'ہم لامحدود ریزولوشن حاصل کر سکتے تھے۔'

مگر یہ اس لیے ممکن نہیں ہے کیونکہ ہمیں ہمیشہ 'ڈِفریکشن سپاٹ' کا سامنا رہے گا جو کہ روشنی کی لہر جیسی نوعیت کی وجہ سے ہوتا ہے۔

اور یہی چیز ریزولوشن کے لیے تکنیکی حدود پیدا کرتی ہے۔

سائنٹیفک امیریکن کے مطابق 'امیج سینسر کا سائز اہم ہے اور عموماً سینسر جتنا بڑا ہوتا ہےاس کی پکسلز بھی اتنی ہی زیادہ بڑی ہوتی ہیں۔ اور پکسلز کا سائز جتنا زیادہ ہوتا ہے، یہ اتنی ہی روشنی جمع کر سکتی ہیں۔ اور آپ جتنی زیادہ روشنی جمع کر سکیں، تصویر اتنی ہی اچھی آئے گی۔'

کیسے معلوم کیا جائے کہ کون سا سینسر بہتر ہے؟

عام طور پر موبائل فون بنانے والی کمپنیاں کیمرہ سینسر کا سائز بتاتی ہیں۔ مگر یہ ایک عام صارف کے لیے سمجھنے میں تھوڑا دشوار ہو سکتا ہے۔

کیا ایک آئی فون 8 کا سینسر آپ کو اپنا سائز "1/3 بتاتا ہے اور سام سنگ گیلیکسی ایس 9 آپ کو "1/2.6 بتاتا ہے؟

اصل میں تو یہ سارے اعداد بظاہر تقسیم کے نظر آ رہے ہیں مگر جو چیز آپ کو جاننی چاہیے وہ یہ کہ جس نمبر سے تقسیم کیا جا رہا ہے، وہ جتنا چھوٹا ہوگا، سینسر کا سائز اتنا ہی زیادہ ہوگا اور اتنا ہی اچھا ہوگا۔

اس لیے اوپر والے کیس میں سام سنگ کا سینسر ایپل کے سینسر سے تھوڑا سا بہتر ہے۔

اس لیے اگلی مرتبہ جب آپ یہ جاننا چاہیں کہ سیل فون کیمرہ کتنا اچھا ہے تو مارکیٹنگ کے چنگل میں نہ آئیے گا!


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.