ہومیوپیتھی: علاج کا موثر طریقہ یا محض ڈھکوسلا؟

واشنگٹن — 

ہومیوپیتھی پاکستان میں علاج کا مقبول طریقہ ہے اور ملک بھر میں 70 ہزار ہومیوپیتھ موجود ہیں۔ لاکھوں افراد ان سے علاج کرواتے ہیں۔ لیکن بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ ہومیوپیتھی کی جنم بھومی یورپ میں حکومتیں، میڈیکل انشورنس کی کمپنیاں اور ایلوپیتھک ماہرین اسے علاج کا غیر مؤثر طریقہ سمجھتے ہیں اور ہومیوپیتھ معالجین کو اتائی قرار دیتے ہیں۔

ہومیوپیتھی کا آغاز اٹھارہویں صدی کے اواخر میں ہوا تھا۔ اس کی بنیاد اس نظریے پر ہے کہ انسانی جسم اپنا علاج خود کر سکتا ہے۔ ہومیوپیتھ جڑی بوٹیوں اور معدنیات سے دوائیں بناتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ یہ دوائیں انسانی جسم سے بیماری ختم کرنے کی طاقت رکھتی ہیں۔

ہومیوپیتھی کے پاس بہت سی سنگین بیماریوں کا علاج نہیں اور اس کے پاس کسی بیماری کی ویکسین بھی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ملکوں میں اس کا استعمال کم ہوتا جا رہا ہے۔ البتہ، پاکستان اور بھارت جیسے ترقی پذیر ملکوں میں بے شمار لوگ اس کم خرچ علاج کو ترجیح دیتے ہیں۔

یورپ کے کئی ممالک کی حکومتیں اور میڈیکل انشورنس کمپنیاں ہومیوپیتھی کو غیر موثر علاج کا طریقہ قرار دے کر اس پر خرچ ہونے والی رقم دینے سے انکار کرتی ہیں۔

حال میں برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے سربراہ سائمن اسٹیونز نے پروفیشنل اسٹینڈرڈز اتھارٹی سے مطالبہ کیا کہ سوسائٹی آف ہومیوپیتھس کو تسلیم کرنے کا فیصلہ واپس لیا جائے۔ انھوں نے ہومیوپیتھی کے بارے میں سنگین خدشات کا اظہار کیا کہ اور کہا کہ یہ بوگس طریقہ علاج ہے۔ دو سال پہلے این ایچ ایس نے ڈاکٹروں پر زور دیا تھا کہ وہ ہومیوپیتھی کی دواؤں کے نسخے لکھنا بند کر دیں۔

فرانس کی 60 فیصد آبادی ہومیوپیتھک دوائیں استعمال کرتی ہے، لیکن اس کی وزارت صحت نے چھ ماہ پہلے اعلان کیا کہ وہ ان کے لیے رقوم فراہم نہیں کرے گی۔ وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ ہومیوپیتھک دوائیں صحت عامہ کے اس قدر کافی فوائد فراہم نہیں کرتیں کہ وفاقی حکومت ان کے لیے رقوم فراہم کرے۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.