برطانیہ میں ’ناجائز دولت‘ کی تحقیقات کرنے والا ’انٹرینشل کرپشن یونٹ‘

پاکستان کی معروف کاروباری شخصیت ملک ریاض اور ان کے خاندان کے اکاؤنٹس اور پراپرٹیز سے 19 کروڑ پاؤنڈ یا 38 ارب روپے وصول کر کے پاکستان کو منتقل کیے جانے کا کام برطانوی نشینل کرائم ایجنسی کا 'انٹرنیشنل کرپش یونٹ' سر انجام دے رہا ہے۔

پاکستان کی مشہور اور معروف کاروباری شخصیت ملک ریاض اور ان کے خاندان کے اکاؤنٹس اور پراپرٹیز سے 19 کروڑ پاؤنڈ یا 38 ارب روپے وصول کر کے پاکستان کو منتقل کیے جانے کا کام برطانوی نشینل کرائم ایجنسی کا ’انٹرنیشنل کرپشن یونٹ‘ سر انجام دے رہا ہے۔

برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی نے منگل کی صبح ایک بیان جاری کیا جس میں یہ خطیر رقم ملک ریاض سے ایک تصفیے کے طور پر وصول کیے جانے اور اس کو پاکستان منتقل کیے جانے کا انکشاف کیا گیا۔

اِن میں سے چودہ کروڑ پاؤنڈ نقد رقم کی صورت میں بینکوں میں منجمد تھی اور پانچ کروڑ پاؤنڈ کی لندن کے ایک انتہائی مہنگے علاقے میں ایک عمارت بھی شامل ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ نیشنل کرائم ایجنسی ملک ریاض کے خلاف ’کریمینل فنانس ایکٹ' کے سیکشن 'تھری سسکٹی ٹو' کے تحت کارروائی کر رہی تھی جس میں 'ان ایکسپلین ایبل ویلتھ آرڈر‘کے نام سے معروف شق بھی شامل ہے۔ یہ شق 2017 میں اِس قانون میں شامل کی گئی تھی۔

’انٹرینشل کرپشن یونٹ‘ کیا ہے؟

برطانیہ میں جرائم کے انسداد کے ادارے نیشنل کرائم ایجنسیکا ایک خصوصی شعبہ 'انٹرینشل کرپشن یونٹ' صرف ان جرائم سے متعلق تحقیقات کرتا ہے جن میں دنیا کے مختلف ملکوں خاص طور پر ترقی پذیر ملکوں سے غیر قانونی طور پر بنایا گیا پیسہ منی لانڈرنگ کے ذریعے مختلف کمپنیوں کو سامنے رکھ کر برطانیہ منتقل کیا جاتا ہے اور یہاں مہنگی ترین جائیدادیں خریدنے اور کاروبار میں بھی لگایا جاتا ہے۔

انٹرنیشل کرائم ایجنسی اس نوعیت کی تمام تر کارروائیاں انتہائی راز داری سے انجام دیتی ہے اور جب تک انھیں عدالت کے سامنے پیش کرنے کے لیے ٹھوس ثبوت نہیں مل جاتے اس وقت تک ایسی کسی کارروائی کے بارے میں ذرائع ابلاغ کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا۔

یہ بھی پڑھیے

ملک ریاض برطانوی حکام کو 19 کروڑ پاؤنڈ دینے کو تیار

ملک ریاض: کلرک سے کھرب پتی تک

بحریہ ٹاؤن کی سپریم کورٹ کو 350 ارب روپے کی پیشکش

بحریہ ٹاؤن سے ملنے والی رقم کہاں جائے گی؟

https://www.facebook.com/bbcurdu/videos/474509216376808/

اس سال مئی میں ایجنسی نے ہائی کورٹ سے سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیات جن پر سنگین جرائم میں ملوث ہونے کا شعبہ تھا ان کے خلاف تحقیقات کرنے کے لیے'ان ایکسپلینڈ ویلتھ آرڈر' (یو ڈبلیو او)یعنی ایسی دولت جسی کی وضاحت نہ کی جاسکے کے قانون کے تحت اختیار حاصل کیے تھے۔

ایجنسی نے مئی کی 29 تاریخ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ لندن کے مہنگے ترین علاقوں میں تین جائیدادوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن کی مجموعی مالیت آٹھ کروڑ پاؤنڈ بنتی ہے اور جو آف شور کمپنیوں کی ملکیت ہیں۔

اس کے ساتھ ہی ایجنسی نے عدالت سے عبوری احکامات بھی حاصل کیے تھے جس کے بعد ان جائیدادوں کی فروخت یا انتقال نہیں کیا جا سکتا۔

نیشنل کرائم ایجنسی میں ایک اعلیٰ اہلکار اینڈی لوئس نے یو ڈبلیو او کے بارے میں کہا تھا کہ یہ غیر قانونی طریقوں سے سمندر پار بنائی گئی دولت سے لندن میں خریدی گئی جائیدادوں کے خلاف تحقیقات کرنے کا ایک انتہائی مؤثر طریقہ ہے۔

انھوں نے کہا تھا کہ آف شور کمپینوں کے پیچھے چھپی شخصیات کو اب یہ وضاحت کرنی پڑ گی کہ کس طرح یہ جائیدادیں بنائی گئی ہیں۔

https://twitter.com/NCA_UK/status/1201792820534824962

انھوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا تھا کہ این سی اے (نیشنل کرائم ایجنسی) اب مشہور اور بااثرا افراد اور ان کے پیشہ ور سہولت کاروں کے خلاف کارروائی سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

اسی بیان میں این سی اے کے نیشنل اکنامک کرائم سینٹر کے ڈائریکٹر جنرل گریم بگر نے کہا تھا کہ لندن میں مہنگی جائیدادیں خریدنے کا حربہ منی لانڈرنگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور این سی اے اپنے تمام اختیارات اور صلاحیتں بروئے کار لا کر ان جرائم میں ملوث افراد کو بے نقاب کرے گا۔

انھوں نے کہا تھا کہ ان کا مقصد برطانوی مالیاتی ڈھانچے کا غلط طریقے سے فائدہ اٹھا کر ایسے جرائم کے ارتکاب کو روکنا ہے جو بیرونی دنیا میں برطانیہ کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔

پانامہ لیکس کے بعد فروری سنہ 2018 میں برطانیہ کی پارلیمان نے ایک قانون کی منظوری دی تھی جس کے تحت نیشنل کرائم ایجنسی کو منی لانڈرنگ کے ذریعے بنائی گئی جائیدادوں کے خلاف تحقیقات کرنے کے لیے عدالت سے اختیار حاصل کرنے کی گنجائش پیدا ہوئی تھی۔

نیشنل کرائم ایجنسی کے اغراض و مقصد میں درج ہے کہ ’ترقی پذیر ملکوں میں بااثر شخصیات کی بے دریغ کرپشن اور بدعنوانی سے ان ملکوں کی معیشتوں پر تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ وسیع پیمانے پر ہونے والی بدعنوانی اور کرپشن سے جس میں بعض اوقات اربوں ڈالر عائب کر کے بیرونی ممالک منتقل کیے جاتے ہیں، یہ ملک سیاسی عدم استحکام اور بدامنی کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔ بہت سے ملکوں میں غربت کی ایک بڑی وجہ بااثر شخصیات کا بدیانت ہونا بھی ہے‘۔

نیشنل کرائم ایجنسی کے مطابق برطانیہ میں کمپنیاں کھولنے کے سہل اور آسان طریقہ کار کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے غیر قانونی دولت کو ٹھکانے لگایا جاتا ہے۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.