کابینہ کی پہلی خاتون سیکریٹری۔۔۔ کیا قدامت پسند سعودیہ واقعی جدت کی طرف گامزن ہے ؟

image

ریاض: قدامت پسند سعودی عرب میں خواتین کے حوالے سے اقدامات میں نیا اضافہ، کابینہ میں دوخواتین کی تقرری کردی گئی۔

الشہانہ بنت صالح العزاز کو کونسل آف منسٹرز کی نائب سیکرٹری جنرل مقرر کیا گیا ہے جو اس عہدے پر فائز ہونے والی پہلی خاتون ہیں جبکہ شہزادی حیفہ بنت محمد کو نائب وزیر سیاحت مقرر کیا گیا ہے۔

الشہانہ العزاز اس سے قبل سعودی عرب کے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ میں خدمات انجام دے رہی تھیں اورسعودیہ میں پریکٹس کرنے والی پہلی خاتون وکیل کے طور پر جانی جاتی ہیں۔

شہزادی حیفہ اس سے قبل سیاحت کی معاون وزیر تھیں اور اس سے قبل قدیہ انویسٹمنٹ کمپنی، جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن اور ٹورازم ڈویلپمنٹ فنڈ کے ساتھ کام کر چکی ہیں۔

سعودی عرب کی وزراء کونسل حکومتی کابینہ ہے جو قانون سازی کے لیے ذمہ دار ہے۔یہ کونسل 1953 میں جدید سعودی ریاست کے بانی شاہ عبدالعزیز نے قائم کی تھی جبکہ تمام ارکان کا تقرر شاہی فرمان کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

سعودی عرب نے 2009 میں اپنی پہلی خاتون وزیر کا تقرر کیا جب نورا بنت عبداللہ الفائز ملک کی نائب وزیر تعلیم بنیں۔دیگر تقرریوں میں شہزادہ عبدالرحمن بن محمد شامل ہیں جنہیں وزیر کے عہدے پر شاہی عدالت کے مشیر کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر بندر الرشید کو وزیر کے عہدے پر ولی عہد کا سیکرٹری مقرر کیا گیا ہے۔ایمن السیاری کو سعودی سینٹرل بینک برائے سرمایہ کاری اور تحقیق کا نائب گورنر اور وزیر کے عہدے پر مقرر کیا گیا ہے۔محمد العامل کو وزراء کی کونسل برائے امور کونسل کا نائب سیکرٹری جنرل مقرر کیا گیا ہے۔

منصور بن عبداللہ بن علی بن سلامہ کو ولی عہد کا نائب سیکرٹری مقرر کیا گیا ہے۔عبدالعزیز بن اسماعیل بن رشاد ترابزونی کو شاہی عدالت کے مشیر کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔ڈاکٹر رومیح بن محمد الرمیح اب نقل و حمل اور لاجسٹک خدمات کے نائب وزیر ہیں۔ایہاب بن غازی بن فہمی الحشانی کو میونسپل دیہی امور اور ہاؤسنگ کا نائب وزیر مقرر کیا گیا ہے۔


مزید خبریں
عالمی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.