طالبان رجیم کے مبینہ بھارتی سرپرستی میں کیے گئے دہشت گردانہ اقدامات اور انسانیت سوز جرائم کا ایک اور بھیانک پہلو سامنے آگیا ہے، جس نے نہ صرف خطے بلکہ خود افغانستان کو بھی شدید عدم استحکام سے دوچار کردیا ہے۔
بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس کے بعد اب افغان ذرائع ابلاغ نے بھی طالبان کے مظالم پر سے پردہ اٹھانا شروع کردیا ہے۔ افغان جریدے ”ہشتِ صبح“ کی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ طالبان نے سال 2025 کے دوران 29 افغان صوبوں میں 123 سابق فوجی اہلکاروں کو منظم انداز میں بے دردی سے قتل کیا۔
رپورٹ کے مطابق طالبان نے مزید 20 صوبوں میں 131 سابق فوجی اہلکاروں کو گرفتار کر کے شدید جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا۔ زیر حراست افراد پر بجلی کے جھٹکے لگائے گئے، گرم سلاخوں اور فولادی کیبلوں کے ذریعے تشدد کیا گیا، جبکہ بیشتر گرفتاریاں بغیر کسی عدالتی وارنٹ کے عمل میں لائی گئیں۔
ہشتِ صبح کی رپورٹ میں متاثرہ خاندانوں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ طالبان نے انہیں میڈیا سے بات کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں، جس کے باعث بیشتر مظالم عالمی منظرنامے سے اوجھل رہے۔
دوسری جانب اقوامِ متحدہ امدادی مشن برائے افغانستان (UNAMA) بھی طالبان کی جانب سے سابق سرکاری اہلکاروں اور سیکیورٹی فورسز کے خلاف ماورائے عدالت قتل، غیر قانونی گرفتاریوں اور تشدد کی تصدیق کر چکا ہے۔ اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کے ماہرین کے مطابق خوف، سنسرشپ اور دھمکیوں کے باعث طالبان کے مظالم طویل عرصے تک دنیا کی نظروں سے چھپے رہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں دہشت گردی کے بڑھتے خدشات کے باوجود بھارت کی پشت پناہی طالبان رجیم کو مزید بے لگام کر رہی ہے، جو پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے شدید خطرہ بنتا جا رہا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سفاک، انتہاپسند اور جابرانہ طالبان رجیم نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کے لیے سنگین سیکیورٹی خطرات کا باعث بن چکا ہے۔