سنہ 1989 میں لاطینی امریکہ کے ملک پانامہ میں امریکی فوجی کارروائی کے نتیجے میں اُس وقت کے حکمران جنرل مانوئل نوریگا کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا تھا۔ نکولس مادورو کی طرح مانوئل نوریگا کو بھی امریکی افواج اپنے ساتھ امریکہ لے گئیں تھیں۔
سنہ 1989 میں لاطینی امریکہ کے ملک پانامہ میں امریکی فوجی کارروائی کے نتیجے میں اُس وقت کے حکمران جنرل مانوئل نوریگا کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا تھاجنوبی امریکہ کے ملک وینیزویلا میں جمعے کی رات گئے امریکی افواج نے بڑے پیمانے کا حملہ کر کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو ’حراست‘ میں لے لیا۔ اس واقعے کے بعد ایک بار پھر 36 سال قبل امریکہ کے ایک اور ایسے ہی فوجی آپریشن کی یاد تازہ ہو گئی ہے۔
سنہ 1989 میں لاطینی امریکہ کے ملک پانامہ میں امریکی فوجی کارروائی کے نتیجے میں اُس وقت کے حکمران جنرل مانوئل نوریگا کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا تھا۔ نکولس مادورو کی طرح مانوئل نوریگا کو بھی امریکی افواج اپنے ساتھ امریکہ لے گئیں تھیں۔
اس وقت نوریگا پر جو الزامات عائد کیے گئے تھے، تقریباً اُسی نوعیت کے الزامات کا سامنا آج مادورو کو ہے۔ دونوں آپریشنز کی مماثلت کے باعث پانامہ کا وہ فوجی اقدام ایک بار پھر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔
اُس وقت کیا ہوا تھا؟
یہ بات ہے 20 دسمبر 1989 کی جب پانامہ میں امریکی فوج نے ایک کارروائی کی۔
امریکی فوجی کارروائی کا آغاز سمندر، فضا اور زمینی راستوں سے بیک وقت ہوا۔ آغاز میں پانامہ کے حکمران مانوئل نوریگا کو اقتدار سے بے دخل کیا گیا۔ اس کے بعد ہزاروں امریکی فوجی ملک میں داخل ہوئے تاکہ نوریگا کو منشیات کے مقدمات میں عدالت کے سامنے پیش کرنے کے لیے میامی منتقل کیا جا سکے۔
مانوئل نوریگا کو گرفتار کرنے کے بعد امریکہ لے جایا گیا
یہ آپریشن کئی دنوں تک جاری رہاواشنگٹن اور پانامہ کے جنرل مانوئل نوریگا کے درمیان تعلقات، جو کبھی امریکہ کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے تھے، اس حد تک بگڑ گئے کہ واپسی کا کوئی راستہ نہ رہا۔
اس موقع پر امریکی صدر جارج ایچ ڈبلیو بش نے قوم سے خطاب میں اعلان کیا کہ انھوں نے امریکی شہریوں کی جانوں کے تحفظ اور نوریگا کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے فوجی دستے پانامہ بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب چند روز قبل پانامہ کی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ایک امریکی فوجی ہلاک ہوا تھا۔
امریکہ نے نوریگا پر منشیات کی سمگلنگ کے الزامات عائد کیے تھے اور اسی بنیاد پر ان کے خلاف باضابطہ فردِ جرم بھی عائد کی گئی۔ ساتھ ہی نوریگا پر سنہ 1989 کے پانامہ کے انتخابات میں دھاندلی کرنے کا الزام بھی لگایا گیا۔

پانامہ کی سڑکوں پر امریکی فوجی تعینات رہے’آپریشن جَسٹ کاز‘
امریکہ نے جس فوجی کارروائی کو ’آپریشن جسٹ کاز‘ کا نام دیا، اس میں 20 ہزار سے زائد امریکی فوجی پانامہ میں داخل ہوئے اور ملک کی اہم فوجی تنصیبات پر قبضہ کر لیا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس حملے میں پانامہ کے 514 فوجی اور شہری ہلاک ہوئے، تاہم مقامی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اصل تعداد ایک ہزار کے قریب ہے۔
اس کارروائی میں 23 امریکی فوجی بھی مارے گئے۔
حملے کے نتیجے میں پانامہ کا دارالحکومت ’پانامہ سٹی‘ عملی طور پر میدانِ جنگ میں تبدیل ہو گیا۔
جنرل مانوئل نوریگا کے حامیوں کو گرفتار کیا گیا جب
پانامہ کے سابق حکمران جنرل مانوئل نوریگا ویٹیکن کے سفارتی مشن میں پناہ گزین ہو گئے تھے۔ کرسمس کے دوران امریکی فوجی سفارتخانے کے باہر تعینات رہے اور نفسیاتی دباؤ بڑھانے کے لیے بلند آواز میں راک موسیقی بجایا جاتا رہا۔
اس موسیقی میں دی کلاش، وین ہیلن اور یو ٹو کے گانے شامل تھے۔
نوریگا نے 11 دن تک سفارتخانے میں رہنے کے بعد 3 جنوری 1990 کو ہتھیار ڈال دیے اور اپنے آپ کو امریکی فوج کے حوالے کر دیا۔

امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایجنسی کے اہلکار جنرل مانوئل نوریگا کو میامی لے گئے، جہاں ان پر مقدمہ چلایا گیا۔ عدالت نے انھیں منشیات کی سمگلنگ، منظم جرائم اور منی لانڈرنگ کے الزامات میں مجرم قرار دیا۔
نوریگا نے اپنی باقی زندگی جیل میں گزاری پہلے امریکہ میں، پھر فرانس میں اور آخرکار پانامہ میں نظر بندی کے دن گُزارے۔
سنہ 2017 میں 83 برس کی عمر میں وہ وفات پا گئے۔ ان کی موت دماغ کے ٹیومر کے آپریشن کے بعد پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے باعث ہوئی۔

آپریشن کے بعد پانامہ میں فوجی سڑکوں پر موجود رہے